جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار

1,236

از قلم:شیخ مصعب احمد ابن جاوید علی M.9130408122

 ہندوستان کی آزادی میں مسلمانوں کا کردار ایک سنہرے باب کی حیثیت رکھتا ہے۔اس لیے کہ مسلمانوں نے جو جذبہ حب الوطنی کا پیش کیا اور جس جوش و ولولہ, عزم و ہمت, شجاعت و بہادری, ایثار و قربانی کے ساتھ تحریک آزادی میں حصہ لیا اس کی مثال ہندوستان کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے سب سے پہلے مسلمانوں نے ہی علم بغاوت بلند کیا۔ سب سے پہلے آزادی کی شمع مسلمانوں نے جلائی جب اس شمع کے شعلے بھڑکنے لگے تب دیگر اقوام کے لوگوں نے ساتھ دینا شروع کیا۔
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
یوں کہا جاتا ہے کہ 1857 سے تحریک جنگ آزادی کی بنیاد ہوئی لیکن یہ بات بالکل غلط ہے۔ مسلمانوں اور علمائے کرام نے انگریزوں کے ناپاک عزائم کو بھانپ کر اس سے بہت پہلے ہی انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑنا شروع کر دیا تھا۔1757 میں ہی نواب سراج الدولہ اور 1799 میں ہی حضرت ٹیپو سلطانؒ ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑتے لڑتے جام شہادت نوش فرما چکے تھے۔انگریزوں کو سب سے زیادہ خطرہ حضرت ٹیپو سلطانؒ سے تھا ان کو اپنے راستے کا سب سے بڑا پتھر سمجھتے تھے۔ اسی لیے جب ان کو شہید کیا گیا تب ایک انگریز نے کہا تھا "آج سے ہندوستان ہمارا ہے” اور 1803 میں ہی حضرت شاہ عبدالعزیزؒ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیکر محاذ جنگ قائم کر چکے تھے۔ تحریک ریشمی رومال، تحریک جنگ آزادی، تحریک ترک موالات اور تحریک بالاکوٹ اس طرح کی جتنی بھی کوششیں کی گئی وہ سب کی سب اسی فتویٰ کا نتیجہ تھیں۔

پھر اس کے بعد 1857 کی جنگ آزادی عمل میں آئی جس میں تمام اقوام کے لوگوں مل کر انگریزوں سے باقاعدہ جنگ کی۔اس میں بھی مسلمانوں نے بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ ہزاروں مسلمانوں اور علماء کرام کو پھانسی دی گئی، ہزاروں مسلمانوں اور علماء کرام کو جیلوں میں بند کرکے طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائیں گئی۔ اس جنگ میں تقریباً دو لاکھ مسلمان شہید ہوئے۔ فیلڈ مارشل رابرٹ اپنی کتاب "ہندوستان میں 41 سال” میں لکھتا ہے کہ صرف1857 میں 27 ہزار مسلمانوں کو پھانسی دی گئی اور قتل عام میں مارے جانے والوں کا تو شمار ہی نہیں۔ اور ایک مورخ مسٹر ایڈورڈ تھامسن لکھتا ہے کہ 1864 سے لے کر 1867 تک صرف ان تین سالوں میں 14ہزار مسلمانوں کو پھانسی دی گئی۔ دہلی کے چاندنی چوک سے لے کر لاہور تک ایک درخت بھی ایسا نہیں تھا جس پر کسی عالم دین کی نعش لٹکتی ہوئی نظر نہ‌ آرہی ہو۔
تھامسن اپنی یاداشت میں لکھتا ہے کہ میں دہلی گیا تو کیمپ میں ٹھہرا ہوا تھا مجھے وہاں انسانی گوشت کے جلنے کی بدبو محسوس ہوئی، جب میں نے کیمپ کے پیچھے جا کر دیکھا تو کچھ انگریزوں نے انگارے جلائے ہوئے تھے اور چالیس علماء کو بے لباس کر کے انگاروں کے پاس کھڑا کیا ہوا تھا اور انہیں یہ کہا جارہا تھا کہ تم ہمیشہ کے لئے ہمارا ساتھ دینے کا وعدہ کرو نہیں تو انگاروں پر لٹا دیں گے۔ انہوں نے انکار کیا تو انگاروں پر لٹا دیا گیا، یہ ان کے گوشت کے جلنے کی بدبو تھی جب وہ شہید ہوگئے تو پھر اور چالیس علماء کو اسی طرح لٹا دیا گیا۔

بہادر شاہ ظفر کو قید کیا گیا اور ان کے شہزادوں کے سر قلم کر کے طشت میں سجا کر ان کے سامنے پیش کیے گیے۔ لیکن اس وقت بھی اس محب وطن,صبر و استقلال کے پیکر نے اپنے بچوں کے سر کو اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ تیمور کی اولاد ایسے ہی سرخرو ہو کر اپنے باپ کے سامنے اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ پھر 1858 میں انہیں زندگی بھر کے لیے رنگون بھیج دیا گیا۔ اسی طرح حضرت حسین احمد مدنی کو جب انگریز نے عدالت میں حاضر کیا تو انگریز جج نے کہا……حسین احمد! تمہیں پتا ہے کہ تم نے ہمارے خلاف فتوی دیا ہے، اس کا نتیجہ کیا ہے؟ آپ نے اپنے کندھے کی سفید چادر اس کو دکھایا اور فرمایا کہ یہ میرا کفن ہے جو اپنے کندھے پر لیے پھرتا ہوں، زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ میری موت کا حکم صادر ہو جائے گا مجھے پھانسی چڑھا دی جائے گی۔ شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسنؒ کو بحیرہ روم کہ جزیرہ مالٹا میں قید کیا گیا اور گرم تپتی ہوئی سلاخیں ان کے پیٹ پر لگائی جاتی اور کہا جاتا کے اے محمود الحسن انگریزوں کے حق میں فتویٰ دے، آپؒ تکلیف کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے تھے۔جب ہوش آتا تو کہتے تھے کہ میرا جسم پگھل سکتا ہے لیکن میں انگریزوں کے حق میں فتویٰ نہیں دے سکتا۔
مرد حق باطل سے ہرگز خوف کھا سکتا نہیں
سر کٹا سکتا ہے لیکن سر جکھا سکتا نہیں
آپؒ عسکری بنیادوں پر مسلمانوں کو منظم کر کے انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہتے تھے ۔اسی ضمن میں آپ نے تحریک ریشمی رومال شروع کی تھی۔ اس تحریک میں انگریزوں کی نظر سے بچنے کے لیے ریشمی رومال پر خطوط لکھ کر دوسرے ممالک کے حکمرانوں کو بھیجے جاتے تھے۔ اور ان سے مدد طلب کی جاتی تھی لیکن اپنوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی وجہ سے یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی لیکن اس نے مسلمانوں میں بیداری کی روح پھونک دی۔ اس تحریک کے اہم ارکان میں مولانا حسرت موہانیؒ, مولانا عبیداللہ سندھیؒ, مولانا ابوالکلام آزادؒ, مولانا حسین احمد مدنیؒ, مولانا برکت اللہؒ, ڈاکٹر مختار انصاری وغیرہ حضرات کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ آزادی ہند کے لیے مسلمانوں نے بہت ساری تحریکیں چلائیں, قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں, بھوک و پیاس کی شدت برداشت کیں, جلاوطن ہوئے,پھانسی کے تختے پر چڑھے, گولیوں کا نشانہ بنے, لیکن اس ملک کو انگریزوں کی غلامی میں دیکھنا پسند نہیں کیا۔
زد میں بھی گولیوں کے مقصد نہ ہم نے چھوڑا
قیدوں میں بھی نہ بدلا عزم جواں ہمارا
تحریک آزادی میں حصہ لینے والے مجاہدین وقائدین میں….
شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ, شاہ عبدالغنیؒ, شاہ رفیع الدین دہلویؒ, مولانا قاسم نانوتویؒ,مولانا سید حسین احمد مدنیؒ, مولانا محمود الحسن مدنیؒ, مولانا رشید احمد گنگوہیؒ, مولانا منیر نانوتویؒ, مولانا عطاءاللہ شاہ بخاریؒ, حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ, مولانا عبیداللہ سندھیؒ, مولانا احمد اللہ شاہ مدراسیؒ, مولانا فضل حق خیرآبادیؒ, حافظ ضامن شہیدؒ, مولوی محمد باقرؒ, مولانا مظہر الحقؒ, شاہ اسماعیل شہیدؒ, مولانا ابوالکلام آزادؒ, ثناء اللہ امرتسریؒ, میاں نذیر حسین دہلویؒ, بدرالدین طیب جی, حکیم اجمل خان, اشفاق اللہ خان,خان عبدالغفار خان, امجدی بیگم, حضرت محل, مولانا حسرت موہانیؒ, مفتی کفایت اللہؒ, مولانا عبدالباریؒ, مولانا لیاقت علیؒ, مولانا ظفر علی خانؒ,حکیم نصرت حسین, مولانا محمد علی جوہرؒ, مولانا شوکت علیؒ, محمد میاں منصور پوریؒ, مولانا کرامت علیؒ, مولانا فضل الرحمن سیوہارویؒ, مولانا سیف الرحمان کابلیؒ, مولانا فیض احمد بدایونیؒ, شاہ عبدالرحیم رائے پوریؒ, شاہ اسحاق دہلویؒ وغیرہ حضرات سر فہرست ہے۔ ان کے علاوہ بھی ہزاروں مسلمانوں اور علما اکرام نے وطن عزیز بھارت کی آزادی کے لیے بے مثال اور بے شمار قربانیاں دی اور خطرناک سزاؤں کو برداشت کیا۔ اور اپنے لہو سے اس سر زمین کو سیراب کیا اور ہندوستان کی آزادی کے لئے مجاہدانہ و قائدانہ اہم کردار ادا کیا۔ ہندوستان کے تاریخ آزادی مسلمانوں اور علماء کرام کے ذکر کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتی اس وطن عزیز بھارت کو آزاد کرانے کے لئے مسلمانوں اور علمائے کرام نے جو قربانیاں دی ہیں ان کا احاطہ اس مختصر سے مضمون میں کرنا ناممکن ہے۔

اگر مسلمان اور علماء کرام کا قافلہ آزادی کے لئے سرگرم سفر نہ ہوتا تو شاید آج بھی ہمارا یہ ملک انگریزوں کے اقتدار میں ہوتا۔ لیکن افسوس صد افسوس کہ…..
جب پڑا وقت گلستاں پہ تو خوں ہم نے دیا
جب بہار آئی تو کہتے ہیں تیرا کام نہیں
بڑی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی۔
لیکن آج ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
لہذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خود اپنی تاریخ کو پڑھیں، اور اپنی نسلوں کو اپنے اسلاف کے قربانیوں سے روشناس کرائیں۔ خصوصاً 15 اگست اور 26 جنوری کے دن اسکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جو پروگرام ہوتے ہیں ان میں مسلم مجاہدین و قائدین کو خراج عقیدت پیش کریں۔ اور اپنے اسلاف کی وطن پرستی, سر فروشی, جفاکشی اور ان کی قربانیوں کو اجاگر کریں۔ اور ان کے نقوش زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔
دل سے نکلے گی نہ مر کر بھی وطن کی الفت
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی