ممبئی:ایشیا کا سب سے پرانا اخبار ’ممبئی سماچار‘ دو عالمی جنگوں، استعماریت کے خلاف مزاحمت، عالمی معاشی بحران اور کورونا کی وبا کے باوجود آج بھی معمول کے مطابق شائع ہو رہا ہے۔’ممبئی سماچار‘ کو اشاعت شروع کیے دو سو سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ دنیا بھر میں کورونا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران جب بہت سے اخبارات بند ہو گئے تب بھی ممبئی سماچار حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے روزانہ چھپتا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گجراتی زبان میں شائع ہونے والا یہ اخبار یکم جولائی 1822 کو ممبئی میں واقع برطانوی دور کی ایک عمارت سے جاری ہونا شروع ہوا تھا۔
ابتدائی طور پر ممبئی سماچار ہفتہ وار اخبار تھا جس کا مقصد ساحلی شہر ممبئی میں رہنے والے کاروباری طبقے کو باخبر رکھنا تھا۔ممبئی سماچار کے ہندی زبان میں معنی ’ممبئی نیوز‘ کے ہیں۔اپنے ابتدائی دور میں بحری جہازوں کی روانگی کے اوقات، پراپرٹی کی معلومات، سرکاری تعیناتیاں، افیم کی قیمتیں اور برطانیہ کے زیرتسلط دیگر مقامات سے متعلق خبریں ممبئی سماچار میں شائع ہوا کرتی تھیں۔

اخبار کے ایڈیٹر نیلیش ڈیو نے اے ایف پی کو بتایا کہ ممبئی سماچار تاجروں کے لیے شروع کیا گیا تھا اور آج بھی اس اخبار کو سب سے پہلے تاجر ہی پڑھتے ہیں۔
’ہم اسے تاجروں کا اخبار کہتے ہیں‘:ممبئی سماچار ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے رہنما مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کی توجہ کا مرکز بھی رہا، جن کی جانب سے ایڈیٹر کو لکھے گئے خطوط آج بھی اخبار کے آرکائیوز سیکشن میں محفوظ ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ممبئی سماچار روزانہ چھپنا شروع ہو گیا۔ سیاست، کاروبار اور دیگر شعبوں سے متلعق خبریں بھی اس میں شائع ہونا شروع ہوئیں جو گجراتی بولنے والی بارہ ریاستوں میں قارئین کو باخبر رکھتی تھیں۔اخبار کا دعویٰ ہے کہ یومیہ ڈیڑھ لاکھ کاپیاں شائع ہوتی ہیں اور انتہائی وفادار قارئین کی وجہ سے ممبئی سماچار آج بھی قائم ہے۔

اخبار کے ایڈیٹر نیلیش ڈیو کے مطابق اکثر قارئین اپنے بچپن سے اس اخبار کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
’گجراتی میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہ بات ممبئی سماچار میں شائع ہوئی ہے تو سچ ہی ہوگی، قارئین کا اس قدر ہم پر یقین ہے۔۔‘
انہوں نے بتایا کہ اخبار کی انتظامیہ نے گجراتی سمیت دیگر مادری زبانوں میں کتابوں کے میلے لگوائے، تھیٹر پرفارمنس کروائیں اور مضامین کے مقابلے رکھوائے تاکہ نئے قارئین کی توجہ حاصل کی جائے اور اخبار کی سرکولیشن بڑھائی جائے۔
کورونا کے دوران انتظامیہ نے اخبار کی قیمت سات روپے سے بڑھا کر دس روپے کر دی تھی جو دیگر اخبارات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
ممبئی سماچار نے اپنے 200 ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے لیے عمر کی حد طے نہیں کی اور کئی عمر رسیدہ افراد بھی یہاں کام کرتے ہیں۔ایڈیٹر کے مطابق ایک اہلکار کی عمر 87 برس ہے اور وہ ابھی بھی اخبار کے لیے لکھتے ہیں، انہوں نے 18 سال کی عمر میں ممبئی سماچار میں نوکری شروع کی تھی۔
1933 میں ممبئی سماچار انڈیا کے کاما خاندان نے اس وقت خریدا تھا جب یہ دیوالیہ ہو چکا تھا۔

ایڈیٹر نیلیش ڈیو کا دعویٰ ہے کہ وہ ممبئی سماچار سے اب منافع کما رہے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔’ہم یقیناً قائم رہیں گے، میرا اخبار اگلے 500 سال بھی مکمل کرے گا۔‘