سری نگر۔ جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع میں ہفتے کی شام چھڑنے والی دو مسلح جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز نے پانچ جنگجوئوں کو ہلاک کیا ہے ۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مہلوک جنگجوئوں میں ایک 14 سالہ کمسن جنگجو بھی شامل ہے جس نے محض تین دن قبل جنگجوئوں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ یہ مسلح جھڑپیں ضلع شوپیاں کے چھتراگام اور ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ میں وقع پذیر ہوئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ شوپیاں کے چھتراگام میں ہونے والی مسلح جھڑپ میں سکیورٹی فورسز نے ایک 14 سالہ کمسن جنگجو سمیت تین جنگجوئوں کو ہلاک کیا ہے ۔ کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے ایک ٹویٹ میں کہا پولیس اور سکیورٹی فورسز نے حال ہی میں ریکروٹ ہونے والے جنگجو کی خود سپردگی یقینی بنانے کی بہت کوششیں کیں۔ والدین نے بھی اپیل کی لیکن باقی جنگجوئوں نے اسے خود سپردگی اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی۔ آئی جی پی نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ بجبہاڑہ میں جن دو جنگجوئوں کو ہلاک کیا گیا ہے وہ مقامی فوجی اہلکار کی حالیہ ہلاکت میں ملوث تھے ۔ انہوں نے لکھا: ‘فوجی جوان کی ہلاکت میں ملوث جنگجوئوں کو دو دن کے اندر ہی بجبہاڑہ جھڑپ میں مارا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بجبہاڑہ میں جمعے کو مشتبہ جنگجوئوں نے ٹیریٹوریل آرمی کے ایک مقامی اہلکار محمد سلیم آخون ولد غلام حسن آخون کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ مہلوک اہلکار چھٹی لے کر اپنے گھر آیا ہوا تھا۔ جمعے کو ہی شوپیاں اور پلوامہ اضلاع میں سیکورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان ہونے والی دو الگ الگ تصادم آرائیوں کے دوران انصار غزوۃ الہند کے سربراہ سمیت 7 جنگجو مارے گئے تھے ۔ دریں اثنا فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ شوپیاں کے چھتراگام مسلح تصادم کی جگہ سے ایک اے کے رائفل اور ایک پستول برآمد کی گئی ہے ۔







اپنی رائے یہاں لکھیں