’جنسی لذت کے خداداد تحفے‘ سے 666 دنوں تک محروم رکھنے پر 10 ہزار کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ

1,084

ریاست مدھیہ پردیش کے رتلام میں ہرجانے کا ایک منفرد معاملہ سامنے آیا۔رتلام کی ضلعی عدالت 10 جنوری بروز منگل ایک مقدمے کی سماعت کرنے جا رہی ہے جس میں مانگی گئی معاوضہ کی رقم بحث کا موضوع ہے۔ معاوضے کے طور پر مانگی گئی رقم 10 ہزار چھ کروڑ دو لاکھ روپے ہے۔یہ رقم اجتماعی ریپ کے ایک کیس کے سلسلے میں مانگی گئی ہے جس میں کانتی لال سنگھ کو دو سال تک جیل میں رہنا پڑا لیکن بعد میں عدالت نے انھیں تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا۔

لیکن کانتی لال کا معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ انھوں نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ ’جیل میں رہنے سے ہونے والے نقصان کی تلافی کی جائے۔‘کانتی لال نے دیگر تمام نقصانات کے لیے چھ کروڑ روپے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ’جیل میں گزارے 666 دنوں تک جنسی لذت سے محروم رہنے‘ کے معاوضے کے طور پر 10,000 کروڑ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والے کانتی لال نے اپنے وکیل وجے سنگھ یادو کے ذریعے عدالت میں حکومت کے خلاف درخواست دائر کی ہے۔معاوضے سے متعلق درخواستوں میں کورٹ فیس بھی ادا کرنا ضروری ہے، لیکن ’خصوصی پروویژن کے تحت‘ کانتی لال نے فیس میں بھی چھوٹ کے لیے درخواست دی ہے۔
کانتی لال نے کیا کہا؟
کانتی لال سنگھ عرف کانتو، رتلام سے تقریباً 55 کلومیٹر دور گھوڑاکھیڑا کے رہنے والے ہیں۔

کانتی لال نے بتایا: ’مجھے اس کیس میں غیر ضروری طور پر پھنسایا گیا جبکہ میں بے قصور تھا۔ مجھے دو سال تک جیل میں رہنا پڑا۔ میری پوری زندگی بدل گئی۔ مجھے کئی طرح کی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ مجھے اس کا معاوضہ ملنا چاہیے۔‘

کانتی لال کا یہ بھی کہنا ہے کہ نہ صرف انھیں بلکہ ان کے پورے خاندان کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔وہ کہتے ہیں: ’خاندان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا۔ میری غیر موجودگی میں وہ بے گھر ہو گئے۔ بچے پڑھنے لکھنے سے محروم ہو گئے۔‘کانتی لال گرفتاری سے پہلے مزدوری کر کے اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد کوئی بھی انھیں کام دینے کو تیار نہیں ہے۔ اور اس کی وجہ ان پر لگائے گئے ’سنگین الزامات‘ ہیں۔

کانتی لال کے خاندان میں ان کی والدہ، ان کی بیوی اور تین بچے ہیں۔ ان کی ایک بہن اور اس کا بچہ بھی ان کے ساتھ رہتا ہے۔ کانتی لال کے مطابق ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی ان پر تھی۔
وکیل کے الزامات.10 ہزار کروڑ روپے کے معاوضے کے سوال پر کانتی لال کے وکیل وجے سنگھ یادو نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت مقرر نہیں کی جا سکتی۔

انھوں نے کہا: ’ایک شخص کی زندگی ایک غلط کیس کی وجہ سے تباہ ہو جاتی ہے۔ اس کے خاندان کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ اسے اس کا مناسب معاوضہ ملے۔‘

یادو نے یہ بھی الزام لگایا کہ ’کانتی لال پر الزام لگانے والی خاتون نے اپنے حقوق کا غلط استعمال کیا۔‘اس کے ذریعے وہ یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ غریبوں کے بھی اپنے حقوق ہوتے ہیں اور پولیس جب چاہے انھیں غیر ضروری طور پر کسی کیس میں پھنسا نہیں سکتی۔وجے سنگھ یادو کا کہنا ہے کہ ’دو سال جیل میں رہنے کے بعد کانتی لال باعزت بری ہوئے لیکن ان کی زندگی کا جو درد ہے یا یوں کہہ لیں کہ جیل سے باہر آنے کے بعد ایک غریب شخص کو کن تکالیف سے گزرنا پڑتا ہے یہ بھی لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے۔‘
جھوٹے الزامات
کانتی لال پر جنوری سنہ 2018 میں گینگ ریپ کا الزام لگایا گیا تھا مگر عدالت میں یہ الزام غلط ثابت ہوا۔ایڈوکیٹ یادو کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں جو کچھ سامنے آیا ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ خاتون کے شوہر نے یہ الزام ذاتی رنجش کی وجہ سے لگایا تھا۔انھوں نے بتایا کہ خاتون چھ ماہ تک اپنے گھر واپس نہیں آئی لیکن اس دوران ان کی گمشدگی کی رپورٹ بھی درج نہیں کرائی گئی۔

وہ معاوضہ کس چیز کے لیے مانگ رہے ہیں؟
عدالت نے کانتی لال کو 20 اکتوبر 2022 کو تمام الزامات سے بری کر دیا۔ اس سے قبل وہ پورے 666 دن جیل میں رہے۔کانتی لال نے اپنے وکیل کے توسط سے جو معاوضہ مانگا ہے، اس میں انھوں نے مختلف مسائل کے لیے معاوضے کی مختلف رقم مانگی ہے۔معاوضے کی درخواست میں کاروبار کے نقصان اور زندگی کے پیداواری برسوں کے نقصان کے لیے ایک کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔عزت و وقار کو نقصان پہنچانے کے لیے ایک کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔جسمانی اور ذہنی تکلیف کے لیے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
خاندانی زندگی کے نقصان کے لیے ایک کروڑ روپے اور تعلیم اور کیریئر میں ترقی کے مواقع ضائع ہونے کے لیے ایک کروڑ روپے مانگے گئے ہیں۔اس کے علاوہ عدالتی کارروائی میں اخراجات کے لیے دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انسانوں کو خدا کی طرف سے ’جنسی لذت کے تحفے‘ سے محروم کرنے کے لیے سب سے زیادہ 10,000 کروڑ روپے کا معاوضہ طلب کیا گیا ہے۔
ایڈوکیٹ وجے سنگھ یادو نے کہا: ’کانتی لال بہت غریب ہیں اور وہ اپنی تنظیم ’جئے کل دیوی فاؤنڈیشن‘ کے ذریعے ان کا مقدمہ مفت لڑ رہے ہیں۔‘

ان کے وکیل کا الزام ہے کہ ایسے معاملات بڑھ رہے ہیں جن میں مردوں کو جھوٹے الزامات میں پھنسایا جاتا ہے اور ’پولیس بغیر تفتیش کے کام کرتی ہے۔ یہ روکا جانا چاہیے۔‘

بھوپال کے سینیئر ایڈوکیٹ سدھارتھ گپتا کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس میں الگ الگ ’لا اینڈ آرڈر ونگ اور تفتیشی ونگ‘ ہونا چاہیے۔پرکاش سنگھ بمقابلہ یونین آف انڈیا کے معاملے میں 11 جنوری سنہ 2007 کو سنائے گئے فیصلے میں، عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ’یہ الگ ہونا چاہیے تاکہ ایسے معاملات میں لوگ جیل میں نہ سڑیں۔‘

سدھارتھ گپتا کا مزید کہنا تھا کہ ’ایسا نہیں ہوتا، اسی لیے ایسے کیسز سامنے آتے ہیں جن میں لوگوں کو بے قصور ہونے کے باوجود جیل میں رہنا پڑتا ہے۔‘

گپتا کے مطابق اس انتظام کو 2012 میں مدھیہ پردیش کے گوالیار اور بھوپال میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر لاگو کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔

اس سلسلے میں پولیس حکام نے کچھ بھی کہنے سے انکار کر دیا۔
شوریح نیازی,بی بی سی کے