جنرل قاسم سلیمانی کی موت اگلے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مدد گار؟

0 3

جنرل قاسم سلیمانی کی موت اگلے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ کی مدد گار؟

۔1991 ء میں خلیجی جنگ کے بعد جارج بش سینئر اور 9/11 کے بعد جارج ڈبلیو بش کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا
واشنگٹن ۔ 8 ۔جنوری (سیاست ڈاٹ کام ) امریکی ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا اثر امریکہ صدارتی انتخابی سیاست پر پڑنا ناگزیر ہے۔ آج کل ہر چیز صدارتی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔امریکہ اور ایران میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے دور رس اثرات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران کے جوابی وار کی نوعیت اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی شدت کیا ہو گی۔اگر اس کا نتیجہ امریکی فوج کے عراق سے انخلا پر نکلا تو پوری سیاسی بساط پلٹ جائے گی اور سخت گیر موقف کے لوگ خوب شور مچائیں گے اور عدم مداخلت پر یقین رکھنے والے خوشی منائیں گے۔مستقبل قریب میں اس کے اثرات ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں شروع ہونے والے ڈیموکریٹ پارٹی کے پرائمری انتخابات اور اس سال نومبر میں صدارتی انتخابات پر پہلے ہی پڑتے نظر آ رہے ہیں۔روایتی طور پر امریکہ میں جس صدر کو خارجہ پالیسی کے محاذ پر کسی بحران کا سامنا ہو اس کی وقتی طور پر عوامی حمایت میں ایک دم اضافہ ہو جاتا ہے۔وہ ملکی پرچم اٹھا لیتے ہیں جس طر ح 1991 میں خلیج کی پہلی جنگ کے دوران جارج ایچ ڈبلیو بش کی مقبولیت بڑھ گئی تھی۔ اس کے بعد گیارہ ستمبر 2001 میں امریکہ پر حملوں اور اس کے جواب میں افغانستان پر امریکی فوج کشی کی وجہ سے جارج ڈبلیو بش کی مقبولیت آسمان کو چھونے لگی تھی۔یہ فوجی لحاظ سے بہت بڑی کارروائیاں تھیں۔ لیکن جب صورت حال معمول پر آتی ہے تو سیاسی فائدے کا اندازہ لگانا کم از کم پولنگ کی حد تک مشکل ہو گیا۔ 2011 میں لیبیا پر فضائی حملے سے براک اوباما کی مقبولیت کے گراف میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔

صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے شامی فوج کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں جب شامی ہوائی اڈوں پر بمباری کا حکم دیا تو ان کی مقبولیت میں معمولی سا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ایک ایسے صدر، جس کی مقبولیت جو اس کے تمام دورے صدرات میں مستحکم رہی ہے یہ اضافہ ایک معمولی سے اچھال کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔جنرل سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کرائے گئے عوامی سروے سے ظاہر ہوا کہ اس نازک صورت حال میں ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلوں پر رائے عامہ اتنی ہی منقسم ہے جتنی کہ وہ ملکی سیاست کے دوسرے مسائل پر بٹی ہوئی ہے۔کچھ لوگ ٹرمپ کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں جب کہ تقریباً اتنی ہی تعداد میں لوگ اس بات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ صدر کا رویہ جتنا محتاط ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہے۔اگر حیران کن عسکری فتح مل گئی تو اور بات ہے، بصورت دیگر یا ایک طویل خون ریز جنگ کی صورت میں صدر ٹرمپ کے دور? صدارت کو جب دیکھا جائے گا تو اس کا نتیجہ زیادہ مختلف نہیں ہو گا۔ٹرمپ کو ہو سکتا ہے آخر میں اس کا فائدہ ہو جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے متنازعہ اور فتنہ انگیز اقدامات سے اٹھاتے آئے ہیں۔ہفٹنگٹن پوسٹ کے سروے کے مطابق 83 فیصد رپبلکن جماعت کے ارکان نے جنرل سلیمانی پر حملے کی حمایت کی۔ صدر کے حامیوں کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی پر حملے سے صدر کے سیاسی مخالفین کو ایک مرتبہ پھر شور مچانے کا موقع مل جائے گا۔ سوشل میڈیا پر ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کرنے والوں کے لیے لکھا ‘ سوری آپ کو نقصان ہوا۔’ ‘دی بیبیلون بی’ نامی ایک دائیں بازو کی ویب سائٹ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے ارکان جنرل سلیمانی کی ہلاکت پر امریکی پرچم کو سرنگوں رکھنا چاہتے ہیں۔مشرق وسطی کی ڈرامائی صورت حال سے شاید صدر کو اپنے مواخذے اور سینیٹ میں مقدمے سے قوم کی توجہ ہٹانے میں مدد ملے۔ پیر کی صبح کو صدر کی طرف سے کیے جانے والے ٹوئٹر پیغامات میں یہ بالکل واضح تھا کہ صدر کے دماغ پر یہ بات چھائی ہوئی ہے۔ایک ٹوئٹر پیغام میں انھوں نے کہا کہ ‘ہماری تاریخ کے اس اہم موقع پرجب میں اس قدر مصروف ہوں مجھے اس سیاسی ڈرامے پر وقت ضائع کرنا پڑا ہے۔ یہ بہت افسوس ناک ہے ۔ڈیموکریٹ پارٹی کی صفوں میں جنرل سلیمانی کی ہلاکت جنگ مخالف عناصر کو متحرک کر سکتی ہے جو عراق کی جنگ کے بعد سے اب تک خاموش بیٹھے تھے۔برنی سینڈرز جو ڈیموکریٹ پارٹی کی طرف سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں انھوں نے فوراً اپنے امن پسند ہونے کا ثبوت دیا۔ انھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا ‘میں ویتنام جنگ کے بارے میں درست تھا۔ میں عراق جنگ کے بارے میں درست تھا۔ میں ایران سے جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری کوشش کروں گا۔ اس ٹوئٹر پیغام کے ساتھ انھوں نے ایک ویڈیو بھی جاری کی اور انھوں نے لکھا ‘میں معذرت خواہ نہیں ہوں۔

Read More