انار دنیا میں دستیاب صحت کے لیے سب سے زیادہ فائدہ مند پھلوں میں سے ایک ہے جسے جنت کا پھل بھی کہا جاتا ہے۔اس پھل میں اتنی بڑی تعداد میں نباتاتی مرکبات موجود ہوتے ہیں جو دیگر غذائی اشیا میں نہیں ہوتے۔تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ انار کھانے کی عادت جسم کے لیے متعدد فوائد کا باعث بنتی ہے جس سے مختلف امراض کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔آج کل انار عام دستیاب ہیں تو اس کے فوائد جان کر آپ بھی اس پھل کو آزمانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

متعدد اہم غذائی اجزا سے بھرپور
انار کے دانوں کے بھرے ایک کپ یا 174 گرام سے جسم کو 7 گرام فائبر، 3 گرام پروٹین، وٹامن سی کی روزانہ درکار مقدار کا 30 فیصد حصہ، وٹامن کے کی روزانہ درکار مقدار کا 36 فیصد حصہ، فولیٹ کی روزانہ درکار مقدار کا 16 فیصد حصہ اور پوٹاشیم کی روزانہ درکار مقدار کا 12 فیصد حصہ ملتا ہے۔انار کے دانوں کے ایک کپ میں 24 گرام شکر اور 144 کیلوریز بھی ہوتی ہیں، مگر اس سے ہٹ کر بھی متعدد طاقتور نباتاتی مرکبات اس پھل کا حصہ ہیں۔

انار میں موجود 2 سب سے طاقتور نباتاتی مرکبات
اس پھل میں 2 منفرد اجزا ایسے ہوتے ہیں جو اس کو صحت کے لیے بہت زیادہ مفید بناتے ہیں۔ان میں سے ایک Punicalagins نامی اینٹی آکسائیڈنٹ مرکب ہے جو اس پھل کے جوس اور چھلکوں میں پایا جاتا ہے۔یہ انار کے جوس میں اتنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے کہ سبز چائے کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ اینٹی آکسائیڈنٹ سرگرمیوں کو متحرک کرتا ہے۔اسی طرح انار کے بیجوں کے تیل میں موجود Punicic Acid اس پھل کا مرکزی فیٹی ایسڈ ہے جو حیاتیاتی اثرات کو متحرک کرتا ہے۔

ورم کش خصوصیات
دائمی ورم متعدد سنگین امراض کی جڑ ثابت ہوتا ہے جن میں امراض قلب، کینسر، ذیابیطس ٹائپ ٹو، الزائمر اور موٹاپا قابل ذکر ہیں۔

انار کی ورم کش خصوصیات اس میں موجود punicalagins مرکب کی اینٹی آکسائیڈنٹ خصوصیات کی وجہ سے ہیں۔

ٹیسٹ ٹیوب تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا کہ انار سے غذائی نالی میں موجود ورم کی سرگرمی کم ہوسکتی ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں پر 12 ہفتوں کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 250 ملی لیٹر انار کا جوس پینے سے ورم کا باعث بننے والے عناصر میں 30 سے 32 فیصد کمی آتی ہے۔

اگر جسمانی ورم میں کمی لانا چاہتے ہیں تو انار آپ کی غذا میں شاندار اضافہ ثابت ہوگا۔

مثانے کے کینسر سے لڑنے میں ممکنہ مدد
مثانے کا کینسر مردوں کو لاحق ہونے والے کینسر کی عام قسم ہے۔

لیبارٹری تحقیقی رپورٹس میں عندیہ ملا ہے کہ انار کا ایکسٹریکٹ کینسر کے خلیات کی افزائش کو سست کرسکتا ہے بلکہ ان کو ختم بھی کر سکتا ہے۔

اس سے ہٹ کر انسانوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 237 ملی لیٹر انار کا جوس پینے سے مثانے کے کینسر سے متعلق اینٹی جن کے دگنا ہونے کا وقت 15 ماہ سے بڑھ کر 54 ماہ تک ہوجاتا ہے۔

اگر بہت کم وقت میں اس اینٹی جن کی شرح دگنی ہوجائے تو مثانے کے کینسر سے موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ایک فالو اپ تحقیق میں بھی اسی طرح کے مثبت اثرات کو دریافت کیا گیا۔

بریسٹ کینسر کے لیے بھی ممکنہ طور پر مفید
بریسٹ کینسر خواتین میں بہت عام ہوتا جارہا ہے اور انار کا ایکسٹریکٹ بریسٹ کینسر خلیات کی ری پروڈکشن میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

مگر اس حوالے سے شواہد اب تک لیبارٹری تحقیقی رپورٹس تک محدود ہیں اور تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

بلڈ پریشر میں کمی
بلڈ پریشر بڑھنے سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 150 ملی لیٹر انار کا جوس 2 ہفتے تک روزانہ پینے سے ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں بلڈ پریشر میں نمایاں کمی آئی۔دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی اسی طرح کے اثرات کو دریافت کیا گیا۔

جوڑوں کی تکلیف سے لڑنے میں بھی مددگار
جوڑوں کے امراض کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے زیادہ تر جوڑوں میں ورم کا نتیجہ ہوتے ہیں۔انار میں موجود نباتاتی مرکبات ورم کش خصوصیات سے لیس ہوتے ہیں جو جوڑوں کے امراض کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔لیبارٹری تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ انار کا ایکسٹریکٹ ایسے انزائمر بلاک کرسکتا ہے جو جوڑوں کے امراض کا سامنا کرنے والے افراد کو جوڑوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔مگر اس حوالے سے انسانوں میں تحقیق ابھی محدود ہے اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

امراض قلب کا خطرہ کم کرے
امراض قلب دنیا میں قبل از وقت اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔انار میں موجود Punicic acid اس پھل کا بنیادی فیٹی ایسڈ ہے جو امراض قلب سے ممکنہ طور پر تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔ہائی ٹرائی گلیسرائیڈ کے شکار 51 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 800 ملی گرام انار کے بیجوں کے تیل کا روزانہ استعمال ٹرائی گلیسرائیڈ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ٹرائی گلیسرائیڈ ہمارے خون میں موجود ایک قسم کی چربی ہوتی ہے جس کی مقدار بڑھنے سے امراض قلب کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں بتایا گیا کہ انار کا جوس پینے سے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے۔

جانوروں اور انسانوں پر ہونے ولی تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہوا کہ انار کے جوس سے نقصان دہ کولیسٹرول کے ذرات سے تحفظ ملتا ہے، یہ ذرات امراض قلب کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔اسی طرح ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انار کا جوس ہائی بلڈ پریشر کی سطح کم کرتا ہے جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بیکٹریل اور فنگل انفیکشن سے لڑنے میں مددگار
انار میں موجود نباتاتی مرکبات نقصان دہ جرثوموں سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ پھل کچھ اقسام کے بیکٹریا کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔اینٹی بیکٹریل اور اینٹی فنگل کش خصوصیات سے بھی منہ کے ورم اور انفیکشنز سے تحفظ ملنے کا امکان ہوتا ہے۔

یادداشت بہتر بنائے
ایسے کچھ شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن کے مطابق انار سے یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 2 گرام انار کا ایکسٹریکٹ سرجری کے بعد یادداشت پر مرتب منفی اثرات کی روک تھام کرتے ہیں۔یادداشت کے مسائل کے شکار 28 معمر افراد پر ہونے والی ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 237 ملی لیٹر انار کا جوس پینے سے یادداشت میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

چوہوں پر ہونے والی تحقیقی رپورٹس سے یہ عندیہ بھی ملا ہے کہ انار الزائمر امراض سے لڑنے میں بھی مددگار ثابت ہونے والا پھل ہے مگر اس حوالے سے انسانوں میں تحقیق کی ضرورت ہے۔

ورزش کے لیے جسمانی کارکردگی بہتر بنائے
انار میں متعدد غذائی اجزا ہوتے ہیں جو ورزش کے لیے جسمانی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ورزش سے 30 منٹ قبل ایک گرام انار کے ایکسٹریکٹ کا استعمال خون کی روانی کو نمایاں حد تک بہتر کرتا ہے جس سے تھکاوٹ کا احساس دیر سے ہوتا ہے اور ورزش کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر ایسا نظر آتا ہے کہ انار جسمانی کارکردگی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔

مردوں کی تولیدی صحت کے لیے بھی ممکنہ طور پر مفید
تکسیدی تناؤ سے خون کا روانی متاثر ہوتی ہے جس میں تولیدی نظام بھی شامل ہے۔ایریکٹائل ڈسفنکشن کے شکار 53 مردوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ انار کھانے سے انہیں کسی حد تک فائدہ ہوتا ہے مگر یہ بہت زیادہ نمایاں نہیں تھا، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔