نئی دہلی : چند دنوں میں کووڈ۔19 کے جملہ 360 نئے کیسوں سے آج پیر کو 24 گھنٹوں کے دوران نئے کورونا مریضوں کی تعداد 46,951 ہوگئی ۔ ٹھیک ایک سال قبل وزیراعظم نریندر مودی نے 22 مارچ 2020 ء کو ’جنتا کرفیو‘ منانے کی اپیل کی تھی اور سارے ہندوستان کو عملاً چاردیواری میں بند کردیا تھا۔ لیکن ایک سال بعد آج کی صورتحال دیکھیں تو تعجب اور افسوس ہوتا ہے کہ ملک کا کورونا وائرس ٹریک ریکارڈ ڈرامائی تبدیلی سے دوچار ہوتا رہا ہے ۔ گزشتہ چند مہینوں میں نئے کیسوں میں لگاتار گراوٹ ہوتی رہی اور اب اُس کے برعکس معاملہ ہے۔ لگ بھگ ہفتے عشرے میں نئے کورونا کیسوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔ وہ دن بھی یاد ہے جب ہندوستان میں صرف 7 کورونا اموات درج ہوئیں تھیں۔ اور آج ایک روز میں 212 اموات پیش آئیں ہیں جس کے ساتھ اس عالمی وباء سے جملہ 1,59,967 مریض فوت ہوچکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار خانگی اداروں کے نہیں بلکہ مرکزی وزارت صحت کے جاری کردہ ہیں۔گزشتہ سال 25 مارچ کو دو ماہ طویل سخت ملک گیر لاک ڈاؤن لاگو کیا گیا ، لاکھوں لوگ ملک بھر میں پہلے ہی 22 مارچ کو اپنے گھروں میں بند ہوچکے تھے جو ہندوستان کی تاریخ میں عدیم النظیر واقعہ ہوا تھا جس کیلئے وزیراعظم نے خود اپیل کی تھی ۔ عوام اُس روز شام 5 بجے اپنے گھروں سے باہر آئے اور ہیلتھ کیر کے علاوہ دیگر لازمی خدمات فراہم کرنے والوں سے اظہارتشکر اور یگانگت کے طورپر شنکھ بجائے ، گھنٹیاں بجائے اور تالیاں بھی بجائے ۔ وزیراعظم مودی نے ایسا کرنے کی خصوصیت سے اپیل کی تھی ۔ اس کے نتیجے میں کیا ہوا ؟ وباء کا اثر تو کم نہیں ہوا بلکہ روز بروز بڑھتا ہی گیا ۔ ملک میں 25 مارچ سے 31 مئی تک لاک ڈاؤن لگایا گیا جس نے ملک کی معیشت کو بری طرح متزلزل کردیا۔ تب حکومت کو شاید لاک ڈاؤن کا نقصان سمجھ آیا اور جون سے ’اَن لاک‘ کا طریقہ شروع کیا گیا تاکہ لاک ڈاؤن سے ہوئے معاشی نقصان کی کچھ پابجائی کی جاسکے۔ سارے ملک کی عوام جانتے ہیں اور تمام حکومتیں جانتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے نقصان کی ایک سال کے دوران کس حد تک تلافی کی جاسکی ہے ۔ کئی ریاستی حکومتوں نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی ۔ خانگی اداروں کا معاملہ تو بدتر ہے ۔ کئی ادارے اب بھی تنخواہوں میں کٹوتی کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں کورونا وائرس انفکشن کا پہلا کیس گزشتہ سال 30 جنوری کو کیرالا میں درج ہوا تھا اور پہلی کورونا موت 10 مارچ کو کرناٹک میں ہوئی ۔ مرکزی وزارت صحت اور ریاستی حکومتوں نے اس پورے سال کے دوران وقفہ وقفہ سے متعدد احتیاطی اقدامات مسلط کردیئے جس کا فائدہ فی الواقعی نظر نہیں آیا ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں