جمیعتہ علما کے دونوں دھڑوں کے درمیان اتحاد کے امکانات

0 6

دیوبند:29مئی(یواین آئی)ملک میں مسلمانوں کی سماجی، مذہبی، سیاسی، تعلیمی و سیاسی شعبے میں رہنمائی کرنے والی 103سال پرانی تنظیم’ جمیعتہ علما ہند‘ کے سال 2008 میں دو گروپوں میں تقسیم ہونے کے 14سالوں بعد اب پھر سے دونوں گروپوں کے درمیان اتحادکے قومی امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند مسلمانوں کی 100 سال پرانی تنظیم ہے اور اس کا شمار مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیموں میں کیا جاتا ہے۔ اسے 1919 میں اس وقت کے علماء نے قائم کیا تھا، جن میں عبدالباری فرنگی محلی، کفایت اللہ دہلوی، محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اور ثناء اللہ امرتسری شامل تھے۔

سال2006 میں اس وقت کے صدر مولانااسد مدنی کے انتقال کے بعد یہ سب سے پرانی تنظیم تقسیم کا شکار ہوگئی تھی اور اس کے دو دھڑے ہوگئے۔ ایک گروپ کی قیادت مولانا اسد مدنی کے چھوٹے بھائی مولانا ارشد مدنی کے ہاتھوں میں ہے جبکہ دوسرے کی قیادت ان کے بیٹے مولانا محمود مدنی کررہے ہیں۔محمود مدنی گروپ کے مجلس متنظمہ کے اجلاس میں مولانا ارشد مدنی کی شرکت اور ان کے اجلاس سے خطاب نے دونوں دھڑوں میں اتحاد کے امکانات کو روشن کردیا ہے۔

ارشد مدنی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کتنی عجیب بات ہے کہ ہم دونوں (مولانا محمود مدنی ) ایک دوسرے کو صدر کہہ رہے ہیں ۔ ممکن ہے یہ صورت حال تبدیل ہوجائے اوروہ دن دور نہیں جب اتحاد (جمعیۃ کے دونوں دھڑوں کا) اجلاس ہوگا۔جمیعتہ کے اندرونی معاملات پر اچکتی نظر رکھنے والے اشرف عثمانی کے مطابق مولانا نے یہ اعلان اچانک نہیں کیا ہے۔ اندرونی طور پر اس سلسلے میں بڑے ذمہ داران کے ذریعہ پہلے سے ہی کوششیں جاری ہیں۔