جمہوریت کا مطلب اکثریتی ووٹوں سے حکمرانی کرنا نہیں بلکہ اقلیتوں کو حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جے اسلم باشاہ

0 11

چنئی ۔ ( پریس ریلیز)۔ تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اپنے جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ملک کے موجودہ صورتحال پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ملک میں کئی طبقات ایسے ہیں جو اپنے آپ کو حکمران طبقہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن حقیقی تاریخ یہی ہے کہ اس ملک پرمسلمانوں نے 800سال حکومت کی ہے۔

مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ اس تاریخی پس منظر کے مدنظر وہ صرف خیالی فخر کے ساتھ خیالی زندگی جی رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ماضی کو پرے رکھ کر ان کے موجودہ حالات کا جائزہ لیں کیونکہ آج ملک میں مسلمانوں کی حالت نہایت ہی تشویشناک ہے۔ڈاکٹر جے اسلم باشاہ نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی بی جے پی حکومت میں بھی ملک کی جی ڈی پی کا 73%فیصد منافع وہی 1%فیصد اعلی طبقات کے لوگ ہی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سن 1980تا1990کے درمیان کی مدت میں جب کانگریس حکومت نے قومی ترقی میں عام عوام کو حصہ دار بنانے کی کوشش شروع کی تھی اس وقت آنجہانی وزیر اعظم اندراگاندھی جی کا قتل اور اس کے بعد نوجوان رہنما اور وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی جی کے قتل کا سانحہ پیش آیا تھا۔ ہندوستان کی انٹلی جنس ایجنسیو ں نے شبہ ظاہر کیا تھا کہ ان دو عظیم رہنماؤں کے قتل کے پیچھے ہندوستانی اجارہ دار اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کا ہاتھ تھا۔ آج ملک میں مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ حکومتیں ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کی ترقی پر توجہ دینے کے بجائے ان کو انتہا پسند اور علیحدگی پسند قرار دیکر ملک میں مسلمانوں کے خلاف ایک نفرت کی ذہنیت پید ا کررہی ہیں۔ آج ملک میں مسلمان تعلیم اور روزگار میں سب سے زیادہ پیچھے ہونے کے باوجود ہندو تواانتہاپسند مسلمانوں کے خلاف جھوٹا پروپگینڈا کرتے پھر رہے ہیں کہ ملک کے وسائل کو مسلمان لوٹ رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں مسلمانوں کی حالت پسماندہ طبقات سے بھی بدتر ہے۔ ملک میں تقریبا 12لاکھ مسلمان بیڑی مزدور ہیں جن کی روزانہ کی آمدنی صرف 35/-روپئے ہے۔

تعلیم کے میدان میں 1000افراد میں صرف 15گریجویٹ ہیں جو دوسرے مذاہب کے مقابلے میں 4گنا کم ہے۔ سرکاری ملازمت میں 1000افراد میں صرف 2افراد مسلمان ہیں وہ بھی نچلے درجے کی سرکاری ملازمت پر فائز ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کی اگر یہی حالت برقرار رہتی ہے تو مسلم کمیونٹی اپنے ہی ملک میں ایک مہاجر کمیونٹی بن کر رہ جائے گی۔حکمران طبقات بھی یہی چاہتے ہیں کہ ملک کے مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہوجائے۔ فسطائی انتہا پسند مسلمانوں پر الزام لگارہے ہیں کہ ہندوستانی سماجی اقتصادی ترقی میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ فسطائی طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف ایک اور خطرناک اور جھوٹا پروپگینڈا کیا جارہا ہے کہ مسلمان عرب ممالک میں ملازمت کرتے ہیں اور ان ممالک کی ترقی کیلئے محنت کررہے ہیں لہذا ملک میں انہیں کسی قسم کی مراعات نہیں دیا جانا چاہئے۔ اس کے علاوہ بی جے پی ہمیشہ کانگریس پارٹی پر الزام عائد کرتی آرہی ہے کہ کانگریس پارٹی اقلیتوں کے ووٹ حاصل کرنے کیلئے ان کی خوشامد کرتی ہے۔اس طرح کے بیانات دیکر بی جے پی معصوم اور غریب ہندؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتی آرہی ہے اور اس میں بی جے پی کامیاب بھی ہوئی ہے۔ جے اسلم باشاہ نے مزید کہا ہے کہ بی جے پی حکومت معصوم غریب ہندوؤں کی حق تلفی کرکے محض 1%فیصد اعلی طبقے کو فائدہ پہنچا کر اور ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی منافرت کو ہوا دیکر معصوم لوگوں کو آپس میں لڑا کر مسلمانوں کو اس ملک میں دوسرے درجے کے شہری میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کانگریس کے ہر منصوبے کو ہندو مخالف منصوبہ قرار دینے میں لگی ہے۔من کی بات کے نام عوام سے بات کرنے والے وزیر اعظم نریندر مودی یہ جاننے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ ملک کے عوام کیا سوچتے ہیں اور کیا کہنا چاہتے ہیں ۔ ملک کے موجودہ صورتحال کے مدنظر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان کے خلاف کئے جانے والے سازش کے جال میں نہ پھنسیں۔کانگریس کا حکومت میں آنے کا مطلب اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کے مفادات کا تحفظ ہے۔ بی جے پی کا اقتدار میں آنے کا مطلب ملک کا73%فیصد جی ڈی پی منافع سے صرف 1%فیصد اعلی طبقہ کو فائدہ پہنچانا ہے۔ جس کے نتیجے میں اعلی طبقات کے ہاتھوں میں موجود الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا بھی کانگریس کے خلاف ہی ماحول بنانے کی کوشش کریں گی۔تمل ناڈو کانگریس کمیٹی اقلیتی شعبہ کے چیئرمین جے اسلم باشاہ نے اختتام میں کہا ہے کہ بی جے پی ہمیشہ لفظ "سیکولر” کو ہندو مخالف لفظ ثابت کرنے کی کوشش کرتی آرہی ہے۔

ہمارے ملک میں آج ایسا ماحول پیدا ہوا ہے کہ ہم ہندوستانی مسلمانوں کو اب بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔فرقہ پرستوں سے ملک کی جمہوریت اور سیکولرازم پر جو خطرہ درپیش ہے اسے حکمت عملی کے ساتھ شکست دینا ہے۔ ملک کے حکمرانوں کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ جمہوریت کا مطلب اکثریتی ووٹوں سے حکمرانی کرنا نہیں بلکہ اقلیتوں کو حقوق اور تحفظ فراہم کرنا ہے۔