✍:پرویز نادر

پاکستان میں ان دنوں رونما ہونےوالے سیاسی بحران اور دھما چوکڑی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ جمہوریت طاقتور وڈیروں، لٹیروں اور عیار و مکار سیاسی سوداگروں کے لیے ایک مضبوط ہتھیار کا کام کرتا ہے، جس کے ذریعے جمہوری اقدار اور آئین کی پاسداری و بالادستی کے نام پر نا صرف عوام کو بلکہ،عدلیہ اور انتظامیہ، کو بھی مجبور کیا جا سکتا ہے، "بلکہ اپنی مجرمانہ زندگی کو طویل کرنے کا نسخہ کیماء بھی حاصل کیا جاتا ہے" اس بحث سے خط نظر کہ عمران خان کی تعریف کے پل باندھے جائیں یا ان کی معذولی پر افسوس کرتے ہوئے ان کے سیاسی مخالفین پر طعن و تشنیع کی جائے یا اپوزیشن پارٹی کے اتحادیوں پر تبصرہ کرنے کے بجائے ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے اس پورے ایپی سوڈ میں جمہوریت کی کس طرح قلعی کھل کر رہے گئی،جس میں اپنی پسند کی حکومت، عوام کی بالادستی اور اکثریت و قلیت کے مساویانہ یا عادلانہ حقوق کے بلند و بانگ دعوں میں کتنی حقیقت ہے؟،اسی جمہوریت کی پر فریبی کی ستم ظریفی کے ذریعے مصر کی عوامی اور چہیتی تحریک اخوان المسلمین کی عوامی منتخب حکومت کا تختہ پلٹا گیا،اور جماعت اسلامی پاکستان کے معاشرے میں گہرے اثرات و عوامی مقبولیت اور مسلسل جدوجہد کے باوجود اسلامی حکومت کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔اور عمران خان سے بھی سیاسی انتقام جہاں دیگر مقاصد کے تحت لیا گیا وہیں یہ بات بھی نا قابل تردید ہے کہ عالمی پلیٹ فارم پر اسلام اور عالم اسلام کی نمائندگی عمران خان کو مہنگی پڑی اور اس کی سزا جمہوریت کے راستے ہی کے ذریعے دی گئی۔اپنی ہی پارٹی کے ارکان کا منحرف ہوکر حزب مخالف یا حریف پارٹی میں سیاسی یرغمال ہوجانا عدم اعتماد پیش کرنے کے لیے پارلیمانی اراکین کا خریدا جانا جمہوریت کےکچھ نایاب پہلو ہے جو جرم نہیں کہلاتے، جبکہ یہ انسانی اقدار کا سب سے حقیر اور اسفل السافلین رویہ ہے۔
اسی لیے شاعر مشرق نے جمہوریت کی قلعی کھولتے ہوئے کہا تھا۔
اس راز کو ایک مرد فرنگی نے کیا فاش
ہر چند کہ دانہ اسے کھولا نہیں کرتے
جمہوریت وہ طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گناہ کرتے ہیں تولہ نہیں کرتے۔
بحر کیف پاکستان کے بارے میں تو یہ بات صادق آتی ہے کہ
جمہوری آسیب اور قومی عصبیت کے فریب نے پاکستان کو کہیں کا نہ چھوڑا، تو دوسری طرف ہمارے بھارت میں بھی جمہوری قوانین کا سہارا لیکر اکثریت و اقلیت کے اصول پر عمل کرکے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، تیسری طرف افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے جس راستے کا انتخاب کیا گیا ،اس میں جانوں کے نذرانے، تعمیر شدہ ملک کی تباہی اسباب و سائل کی محرومی کے باوجود آج اللہ کی حاکمیت قائم ہے اور افغانستان میں جلد ہی اجڑے ہوئے چمن پھر آباد ہونگے اور خزاں کے دور ستم کے بعد باغ و بہار کا موسم پھر پلٹ آئے گا جس سے باقی دنیا بھی انشاءاللہ محظوظ ہوئے بغیرنہیں رہے گی،کم از کم مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ بات ہماری سمجھ آجانی چاہیے کہ جمہوریت نہ ہی باقی انسانیت اور نا ہی مسلمانوں کے لیے بقاء و تحفظ کی ضامن ہو سکتی ہے ،بلکہ یہ دنیا کی زمام کار اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے چند عالمی طاقتوں کا وہ حشیش ہے جسے چکھنے کے بعد انسان نا صرف اس کے پلانے والے کو اپنا مالک مختار سمجھنے لگتا ہے بلکہ اپنی ذات کو ہی اس کے حوالے کردیتا ہے