نئی دہلی ۔ مرکز کی این ڈی اے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہ آیا جموںو کشمیر کیلئے مرکزی زیر انتظام علاقہ کا مستقل موقف برقرار رہے گا راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آماد نے آج کہا کہ جموںو کشمیر کے ریاستی موقف کو بحال کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام رک گئے ہیں۔ بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور علاقہ میں عوام کا جینا محال ہوگیا ہے ۔ سابق چیف منسٹر جموںو کشمیر نے کہا کہ وہ وزیر داخلہ سے کہنا چاہتے ہیں کہ جب موجودہ کیڈر بہتر انداز میں کام کر رہا تھا تو پھر اس کو ضم کرنے کی ضرورت کیا تھی ۔ مرکز نے ریاستی موقف بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن علیحدہ بل پیش کئے جا رہے ہیں جس سے شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ حکومت جموں و کشمیر کے مرکزی زیر انتظام علاقہ کے موقف ہی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے تنظیم جدید بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے اس کے برخلاف عمل کیا جا رہا ہے ۔ ریاست میں ترقی رک گئی ہیں۔ صنعتیں وہاں نہیں پہونچ پا رہی ہیں اور بیروزگاری میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ حکومت نے ریاست کوترقی دینے کے وعدے کئے تھے لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے اور وہاں عوام کیلئے جینا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں