کورونا وباء کی وجہ سے ترقیاتی نشانوں کی تکمیل نہیں ہوسکی ۔ راجیہ سبھا میں جواب

نئی دہلی ۔ منسٹر آف اسٹیٹ داخلہ جی کشن ریڈی نے آج کہا کہ و تشکیل شدہ مرکزی زیر انتظام علاقہ جموں و کشمیر میں گذشتہ دو برسوں سے ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں تاہم مقررہ نشانوں کی تکمیل نہیں ہوسکی ہے کیونکہ کورونا وباء نے رخنہ پیدا کیا ہے ۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں یہ واضح کیا کہ مرکزی زیر انتظام علاقہ کی ترقی کیلئے انقلابی اور تاریخی فیصلے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو 2022 تک ٹرین سے جوڑ دیا جائیگا اور علاقہ میں لائیٹ ریل سسٹم متعارف کروانے پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2022 تک علاقہ کے 80.16 لاکھ دیہی گھروں کو پائپ کے ذریعہ پانی کا کنکشن بھی فراہم کردیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ جب گذشتہ 70 سال کا تقابل کیا جائے تو گذشتہ دو برس میں جموں و کشمیر میں ترقیاتی کام انتہائی تیز رفتاری سے ہوئے ہیں۔ مرکزی اور جموں و کشمیر کی حکومت کی جانب سے علاقہ میں بہت کچھ ترقیاتی کام ہو رہے ہیں اور مزید کام کئے جائیں گے ۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تاہم جو ترقیاتی نشانے مقرر کئے گئے تھے ان کو پورا نہیں کیا جاسکا ہے ۔ کشن ریڈی نے راجیہ سبھا میں جموں و کشمیر تنظیم جدید بل پر مباحث کے جواب میں یہ بات کہی ۔ ان کے جواب کے بعد ایوان بالا میں اس بل کو منظوری دیدی گئی ۔ کشن ریڈی نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر میںتمام بڑے پراجیکٹس پر کام جاری ہے اور یہ صحیح سمت میں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پراجیکٹس کے سلسلہ میں تمام رکاوٹوں کو دور کرلیا گیا ہے ۔ علاقہ میںشروع کئے گئے بڑے کاموں کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری اور دیہی مجالس مقامی کیلئے بلدی انتخابات بھی کروائے گئے ہیں۔ ضلع ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کا بھی کامیاب انعقاد عمل میں لایا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاک ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات بھی کروائے گئے ہیں اور یہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے ۔ کشن ریڈی نے کہا کہ نہ صرف انتخابات کروائے گئے بلکہ مجالس مقامی کو مڈ ڈے میل اسکیم ‘ آنگن واڑی پروگرام اور منریگا کی ذمہ داری دیتے ہوئے مستحکم بھی کیا گیا ہے ۔ پنچایتوں میں شکایتوںکے باکس بھی نصب کئے گئے ہیں۔علاوہ امیں گزیٹیڈ آفیسروں کو بھی ہفتے میں دو دن گاووں کا دورہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔


اپنی رائے یہاں لکھیں