جمعیۃ علما کی ایف آئی آر پر پی ڈی ایکٹ کے تحت ملعون ٹی راجہ سنگھ کی دوبارہ گرفتاری ہوئی

855

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گستاخ رسول، ٹی راجہ سنگھ کی پی ڈی ایکٹ کے تحت دوبارہ گرفتاری کو امن و امان کے لحاظ سے ضروری کارروائی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کے مجرموں کو ’’مذہبی گلدستوں کا ملک بھارت‘‘ کبھی معاف نہیں کرے گا۔واضح ہو کہ پی ڈی ایکٹ ایک ایسا قانون ہے جو پولیس کے ذریعہ عادی بدنام زمانہ اور معاشرے کے لیے خطرناک مجرموں کو ایک سال کی مدت کے لیے جیل میں بند رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس ایکٹ کے تحت گرفتاری کو لے کر جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ کی ضلع یونٹوں نے 12 مقامات پر کلکٹرس سے ملاقات کر کے میمورنڈم داخل کی تھی، نیز ٹی راجہ سنگھ کے خلاف آٹھ مقامات پر ایف آئی آر درج کرائی گئی۔اس سلسلے میں جمعیۃ علماء اے پی و تلنگانہ کے صدر مولانا حافظ پیر شبیر احمد و ناظم اعلی حافظ پیر خلیق صابر نے بتایا کہ جس دن سے اس گستاخ شخص نے توہین آمیز کلمات کہے ہیں، جمعیۃ علماء کے خدام نے مختلف اضلاع کے ذمہ داروں سے مل کر میمورنڈم داخل کی، جس میں پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کا مطالبہ سرفہرست تھا۔

ساتھ ہی ریاستی جمعیۃ علماء نے وزیر اعلی کے سی آر، ریاستی وزیر داخلہ وغیرہ کو خط کر تحسین پونہ کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ریاست میں ایک ایسا قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت ہیٹ اسپیچ کے مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے۔ جمعیۃ علماء کے مطالبے پر پولیس انتظامیہ نے سیکشن 41اے نوٹس کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا ہے۔واضح ہو کہ اس سیکشن کے تحت کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے گزشتہ بار تکنیکی بنیاد پر ملزم کو ضمانت مل گئی تھی۔ دریں اثناء جمعیۃ علماء ہند نے سبھی طبقوں سے امن و امان بنائے رکھنے اور کسی بھی مذہبی پیشوا کے خلاف توہین آمیز کلمات کہنے سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔