جمعیۃ علماء ضلع پر بھنی کے صدر مولانا محمد صادق ندوی صاحب پر سیلو میں قاتلانہ حملہ

2,529

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کی جانب سے حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

ممبئی17؍ ستمبر (پریس ریلیز) جمعیۃ علماء ضلع پر بھنی کے صدر اور دار العلوم فر قانیہ سیلو کے مہتمم مولانا محمد صادق ندوی صاحب پر گذشتہ دنوں 14؍ ستمبر کی شب میں ہوئے نامعلوم افراد کی جا نب سے قاتلانہ حملہ کیا گیا ہےجس میں مولانا صادق صاحب شدید زخمی ہوئے ہیں ۔اس حملے کی جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا حافظ محمد ندیم صدیقی صاحب نے سخت مذمت کرتے ہوئے حملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق مولانا صادق ندوی صاحب معمول کے مطابق اپنے ادارے دار العلوم فر قانیہ سیلو سے طلباء کی نگرانی کے بعد رات 11 ؍ بجے حافظ جنید کے ہمراہ اپنے گھر لوٹ رہے تھے کہ اچانک نوتن انگلش اسکول سیلو کے سامنے جائیکواڑی گیٹ کے قریب

پیچھے سے تین لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے اور قریب آکر زور سے چیخ مارتےہوئے مولانا کی موٹر سائیکل کو ٹکر مار کر مولانا کو زمین پر گرادیا حملہ خطر ناک تھا جس کی وجہ سے مولانا کے سر میں شدید چوٹ آئی اور خون بہنے لگا اور حملہ آور فوری طور پر فرار ہو گئے ۔

مولانا کے ساتھی حافظ جنید صاحب نے فوری طور پر مولانا کو علاج کے لئے دوا خانہ پہونچایا جہاںڈکٹروں نے مولانا کے زخموں کی مرہم پٹی کرکے دوائیں دیںاب وہ کافی راحت محسوس کر رہے ہیں۔

لیکن یہ جان لیوا حملہ کس نے کیا؟کیوں کیا ؟اس کے پیچھے کون سے عناصر کا م کر رہے ہیں ،حملہ آوروں نے مولانا کو نشانہ کیوں بنایا ؟یہ حملہ ذاتی دشمنی یا بغض کی وجہ سے تھا یا پھر کسی فرقہ پرست سماج دشمن نے ذاتی واد بڑھاوا دینے اوردو فر قوں میں دراڑ ڈالنے کے لئے کیا ؟۔آخر ایک شریف انسان ،ایک

بڑے مدرسہ کے ذمہ دار اور جمعیۃ علماء جیسی بڑی تنظیم کے ضلع صدر کونشانہ بنانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہےاور پولیس تحقیقات کر رہی ہے لیکن عوام میں تشویش پائی جا رہی اور عوام کی جا نب سے مجرموں کو جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہے ۔

جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے صدر مولانا ندیم صدیقی صاحب نے اس معاملے پر زبردست غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت و انتظامیہ اور ضلع ایس پی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ مولانا صادق صاحب پر ہوئے قاتلانہ حملے کی باریک بینی سے جانچ کرائی جائے اور اس میں ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ اگر اس معاملے کو معمولی جرم کے طور پر دیکھا گیا تو پھر یہ ایک سلسلہ بن جائے گا جس سے نہ صرف معزز شہریوں اور عام لوگوں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا بلکہ قانون اور انصاف پر پھی سوالیہ نشان لگ جائے گا۔