حیدرآباد۔اسرائیل دستوں نے مئی7(جمعہ) کے روز مسجد الاقصاء میں مسلم مصلیوں پر یوم یروشلم(یوم القدس) کی شام حملہ کردیا۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ پیچ کے بموجب 200فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور 88کو یروشلم کے اسپتال میں اخل کیاگیاہے‘ کئی مصلیوں کے سر اور آنکھوں پر چوٹیں لگی ہیں۔

جمعہ کے روز پیش ائے واقعہ میں اسرائیل پولیس کے اہلکاروں نے مصلیوں پر اس وقت حملہ کیا جب مسجد الاقصاء میں جمعتہ الودیع کے موقع پر روز کشائی کررہے تھے‘ اسلام میں مسجد اقصیٰ تیسرا مقدس مقام مانا جاتا ہے۔

میڈلسٹ ائی نے یہ بھی کہا ہے تصادم کے دوران کہ مصلیوں پر آنسو گیس اور آواز کرنے والے گرانائیڈ اور ربر کی گولیاں برسائیں گئی۔مسجد کے صحن حرم الشریف اور مسجد القبلاتین جو الاقصاء کے اندر ہے میں مصلیوں پر حملہ کیاگیا۔جواب میں فلسطینیوں نے اسرائیلی سپاہیوں پر پتھروں اور گلاس کی بوتلوں سے حملہ کیا ہے۔

مسجد میں مسلسل مسلمانوں کے خلاف رکاوٹیں کھڑی کی جارہی تھیں‘ جہاں پر مسلمان تروایح پڑرہے تھے۔مسجد الاقصاء کے ڈائرکٹر شیخ عمر القصوانی نے اسرائیل پولیس سے کہاکہ وہ حملے سے دستبرداری اختیار کریں اور مسجد کی صحن سے باہر چلے جائیں۔

صدر فلسطین محمود عباس نے کہاکہ ”مذکورہ غیر مقامی لوگوں کی دہشت گردی صرف ہمیں اپنے ارادوں میں مضبوطی پیدا کرے گی اور غیر مجاز قبضے کو برخواست کرنے کی جدوجہد میں توقعت پیدا کرے گی‘ آزادی حاصل کرے گی اور مکمل طور پر ایک خود مختار فلسطینی مملکت قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی جس کا درالحکومت پوری طرح یروشلم ہوگا“۔

ترکی کے خارجی وزیر میلوت کاواس سوگولو نے بھی مقدس مسجد پر حملے کی مذمت کی۔

انہوں نے کہاکہ”سختی کے ساتھ الاقصاء مسجد جو ہمارا قبلہ اول ہے اس شام حملے کی مذمت کرتاہوں۔ اسرائیل کے لئے یہ غیر انسانی اسرائیل کا حملہ ہے جو مقدس رمضان کے دوران عبادت کررہے بے قصور لوگوں پر کیاگیاہے“۔ قطر نے بھی اس حملے کی مذمت کی۔

کویت کے خارجی وزیر اور مصرف کے داخلی اموار کی وزرات نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔

عرب لیگ کے جنرل سکریٹری احمد عبدگیھٹ نے بھی اس حملے کی مذمت کی اور کہاکہ یہ ”جان بوجھ کر کیاگیا“ حملہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو اکسانا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں