تحریک اسلامی اور ملت اسلامیہ مخلص رہنماء سے محروم،امیر حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان کا اظہارِتعزیت
جماعت اسلامی ہند کے سنیئر قائد و قد آور رہنماء،سابق نائب امیر و قیم جماعت اسلامی ہند،رکن مرکزی مجلس شوری،و چیرمین مرکزی تعلیمی بورڈ مولانا دہلی ؍حیدرآباد:(راست) نصرت علی صاحب نے19،رمضان المبارک 2،مئی بروزاتوار کی دوپہر دہلی کے الشفاء ہسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہااور مالک حقیقی سے جاملے۔ وہ چند دنوں سے علیل تھے۔مولانا نصرت علی صاحب کے سانحہ ارتحال پر اظہار تعزیت کرتے ہوئے امیر حلقہ تلنگانہ مولانا حامد محمد خان نے اسے تحریک اسلامی اور ملت اسلامیہ کے عظیم خسارہ سے تعبیر کیا۔

مولانا حامد محمد خان نے صحافتی بیان میں کہا کہمولانا محترم نصرت علی صاحب بھی آج ہم  سے جدا ہو گئے، اللہ کی مرضی کے آگے ہم سب بے بس ہیں۔انہوں نے کہا کہ مولانا محتر م نصرت علی صاحب سے انکے شخصی روابط ا یس آئی اؤ کے زمانے سے رہے ہیں۔ مولانا نصرت علی صاحب نے جماعت اسلامی ہند کی مختلف ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھایا وہ متحدہ اتر پردیش کے امیر حلقہ رہے، مرکزی سیکرٹری جماعت رہے، قیم جماعت اسلامی ہند رہے اور نائب امیر جماعت کی ذمہ داری نبھائی۔فی الحال وہ مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین اور مرکزی شوری کے رکن تھے۔ تنظیم کو وسعت دینے،متحرک رکھنے اوربنیان مرصوص بنا نے کی خداداصلاحیت مولانا نصرت علی صاحب میں موجودتھی۔موصوف انتہائی سادگی وقناعت پسند مزاج کے حامل تھے۔

انہوں نے پولیٹیکل سائنس سے ایم اے کیا تھاا ورکچھ عرصہ لیکچرار بھی رہے لیکن جماعت میں آگئے تو پھر کیریئر کی طرف پلٹ کر نہیں دیکھا۔وہ فنا فی الجماعت تھے۔ تنظیمی اجتماعات کے مواقعوں پرسوال و جواب کے سیشن میں مشکل سوالات کے جوابات بھی بہت ہی پرسکون انداز میں بڑے اطمینان بخش طریقہ سے دیتے،انکی تحریر یں بہت واضح،مضبوط اورمدلل ہوتیں۔ مرکز جماعت میں موجود حالات میں ایک ذہین و انتہائی تجربہ کار شخصیت محترم نصرت علی صاحب کی جدائی کا غم طویل عرصہ تک یادرہے گااورنصرت علی صاحب اپنی قربانیوں کے لئے موت کے بعد بھی ہمارے دلوں اور ذہنوں میں زندہ رہیں گے۔امیر حلقہ نے دعافرمائی کہ اللہ تعالٰی محترم نصرت علی صاحب کی مغفرت فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے، جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، تحریک کو مرحوم کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین۔