خصوصی پیشکش:سعید پٹیل جلگاؤں
آج جب پورے ملک میں ہرطرف فرقہ پرست اور شرپسند عناصر مسلمانوں کی ہر شعبے کی صورت کو بگاڑنے پر تلے ہوئے ہیں۔لیکن اپنے ساتھ ایسا سلوک و برتاؤ ہونے کے باوجود "یہ دیوانہ ہے کہ اخلاق کا مظاہرہ کرتا رہتاہے۔کبھی کبھی ہمارے بھائی ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی نشونما کرنے کےلیئے اپنے ان وارثین کے نقش پا پر چل کر سماج کی و قوم و ملت کی یکجہتی کےلیئے میل کا پتھر ثابت ہوتے ہیں۔ایسی ہی ایک درد سے بھری کہانی جس میں بہار آئی پھر اس نے پل دو پل میں اخلاق اعلی کا میدان سر کرلیا۔ جسے سنتے سنتے آنکھیں خوشی سے اشکبار ہوگئ۔

ہرسال کی طرح ادھاری پر کپاس خرید کی۔لیکن بدقسمتی سے دیوالیہ ہوگئے۔ایک روپیہ بھی ادا کرنے کی حالت نہیں رہی۔سترہ برس گذر گئے۔اس کے بعد دن پلٹ گئے۔پھر جن کا کپاس ادھاری سے خریدا تھا۔ اب ان کے گھر جاکر ان کی رقم ادا کرنے کا کام بورنار ( تعلقہ جلگاؤں) اس گاؤں کا تاجر کررہا ہے۔جیسے تباہ زندگی میں اچانک بہار آگئ ہو ،ان حالات میں جن کی رقومات باقی تھی ان کے گھر جاکر بقایا رقم ادا کرنے والے سلیم کو پورا علاقہ سلام کررہا ہے۔جلگاؤں تعلقہ میں بورنار اس دیہات کے رہائش پذیر عبدالسلیم عبدالخالیق ان کی ایماندارانہ تجارت کی کہانی کچھ اس طرح ہےکہ اول۔اول کرانہ دکان کا کاروبار بعد میں کپاس کی تجارت شروع کی۔آہستہ ۔آہستہ تجارت قائم ہوکر رواں۔دواں تھی کہ اعتماد اور بھروسے کی بنیاد پر بنا پیسوں کے بھی کپاس کی خریداری ہونے لگی۔لیکن سن ٢٠٠٥ ء میں قسمت نے ساتھ چھوڑ دیا۔

مھساود ،بورنار ،دہی گاؤں ، ڈوکل کھیڈا ،ورساڈے ،ماھیجی سمیت علاقے کے ٢٥-٣٠ دیہاتوں کے تین ٹرک یعنی تین سو کونٹل سے زائد مال خریدا۔لیکن کسانوں کے پیسے دے نہ سکے۔کسان روزانہ مال کی رقم مانگنے آتے تھے۔لیکن تجارت میں بڑا خسارہ ہونے سے مال کی رقومات ادا نہیں کرسکتے تھے۔سال ، دو سال گذر گئے۔سال بھر کی کمائی کے پیسے نہ ملنے سے کسان بھی پریشان ہوگئے تھے۔انھیں صرف وعدہ ہی ملتا تھا۔آخر میں پیسہ ڈوب گیا سمجھ کر کسانوں نے ان سے پیسے کا مطالبہ کرنا چھوڑ دیاتھا۔اس طرح ایک۔دو نہیں تقریباً سترہ سال بعد سلیم دیشمکھ کے پاس کھیت فروخت کرنے کے بعد پیسہ آیا۔(کھیت کا عدالتی فیصلہ آنے کے بعد پیسہ آیا) پیسہ ملنے کے بعد کپاس کی تجارت میں ادھار ملے ہوۓ کپاس کی رقومات کی چٹھیاں نکالی یا زبانی ادھاری اور جس کے مال کا جو بھاؤ تھا۔اتنی رقومات چیک کے ذریعے گھر جاکر وہ ادا کررہے ہیں۔ڈوب ہوئی اور بھول چکے پیسے اچانک ملنے سے تاجر کی ایمانداری کی گھر۔گھر میں چرچہ ہورہی ہے۔ان سترہ برسوں کے درمیان میں کوئی کسان اس دنیا سے کوچ کرگیا اس کے وارث کو یا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ،اس وقت کتنا کپاس فروخت کیا تھا ، اس مال کتنا وزن تھا۔اس کی کتنی رقم تھی۔

اس طرح کی معلومات کسی کے پاس نہیں۔لیکن اس وقت کی سبھی چٹھیاں سنبھال کر رکھی ہوئی ہونے سے گھر۔گھر جاکر پیسوں کی ادائیگی کرنے والا شاید ہی کوئی ملے۔اس طرح سلیم دیشمکھ کپاس کی سترہ سال پرانی ادھاری کی رقومات ادا کررہے ہیں۔اس موقعہ پر دہی گاؤں کے اشوک نانا پاٹل نے کہاکہ پیسہ ڈوب گیا تھا۔ملنے کی آس نہیں تھی۔اچانک گھر آکر چیک کے ذریعے رقم مل گئ۔یہ غیرمعمولی واقعہ ہے۔اس دنیا میں اس طرح کے ایماندار لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔اسی طرح سلیم دیشمکھ نے کہاکہ کسانوں کا پیسہ دینے کےلیئے نے مجھے راستہ بتایا کہ پیسہ لوٹائے بنا موت نہیں ، ایک ایک روپئے کی کیا قیمت ہوتی ہے اس کا علم مجھے ہے۔لوگوں کا مجھ پر پختہ بھروسہ تھا۔اس لیئے پیسہ ڈوب چکا ایسا سمجھنے کے بعد بھی ایک بھی کسان نے ستایا نہیں۔اس لیئے پیسے آتے ہی اسے ادا کررہا ہوں۔سترہ برس پرانے قرض کی ادائیگی کی خبر جب پورے علاقہ میں خوشبوں کی مہک کی طرح پھیلی تو گاؤں کےکسان بھائی ایماندارانہ اخلاق حسنہ کو سلام کرنےپہونچے اور کئ کسان بھائیوں نے شال و نیک شگون کی علامت ناریل (شری پھل)دے کر اعزاز کیا۔ان میں گنیش ساڑونکھے ،سنیل پوار ،جئے سنگھ پاٹل ،کومل پاٹل ،اشوک پاٹل ،لبھان پاٹل ،راجہ رام پاٹل ،گنیش پاٹل ،دھرم سنگھ پاٹل ،پروین پاٹل ،مان سنگھ پاٹل ،بھیم سنگھ پاٹل وغیرہ نے عبدالسلیم دیشمکھ کو مبارکباد پیش کی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں