جلوس میلادالنبیﷺ میں شرکت کےآداب واحتیاط

مولانا محمد یوسف رضا قادری (صدر جلوس عیدمیلاد النبی ٹرسٹ بھیونڈی )

541

زمانہ رسالت سے آج تک مسلمانوں کا جو طرہ امتیازرہاہے وہ ہے اپنے نبی سے ٹوٹ کر محبت کرنا۔۔اگر کوئی اپنے آپ کو مسلمان کہے مگراس کا دل حب نبی سے خالی ہوتو اس کا شمار منافقین میں تو ہوسکتاہے مومنین میں نہیں گروہ صحابہ میں ایک فرد بھی آپ کو ایسا نہیں ملےگا جو نبی سے ٹوٹ کر محبت نہ کرتاہو اس مقدس دور میں جو اس وصف محبت سے خالی رہا اس کی کلمہ گوئی کے باوجود اسےگروہ منافقین کافرد قرار دیاگیا دراصل ہمیں تعلیم ہی یہی دی گئی ہے ۔

لایومن احدکم حتی اکون احب من والدہ وولدہ والناس اجمعین تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتاجب تک اپنے باپ سے زیادہ اپنی اولاد سے زیادہ اور تمام لوگوں سے زیادہ مجھ سے محبت نہ کرے یہ ہے وہ شرط جس کی تکمیل کے بغیر مومن ہونے کاکوئی تصور نہیں کیاجاسکتا نبی سے مومنین کی محبت اس قدر شدید ہوتی ہےکہ دنیااس کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصرہے اور اسی لئے وہ اعتراض کرتی ہے کہ نبی کے گستاخ کی سزاموت کیوں ہے ان کو کیامعلوم کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیامیں ایک ایسے محبوب ہیں جن سے بن دیکھے لوگ محبت کرتے ہیں اور یہ مقدس سلسلہ چودہ صدیوں سے جاری ہے اور ان کے محبین کی تعداد اس طویل عرصے میں اربوں کھربوں ہوچکی ہے اور قیامت تک نہ معلوم کتنے لوگ اس محبوب کی زلف گرہ گیر کے اسیر ہونگے ہر دور ہر عصر ان کے جاں نثاروں سے مملو رہاہے ہماری اپنے نبی سے محبت اتنی شدید ہے کہ ان کے نعل پاک کے تسمے کی بھی کوئی توہین کردے تو یہ ناقابل معافی جرم ہے ۔

اللہ ہماری اس محبت کوسلامت رکھے کہ ہماری ساری عظمتیں اسی محبت سے وابستہ ہیں جب بھی جس دور میں بھی مسلمانوں کارشتہ اپنے نبی سے کمزور پڑاہے اس کے نتیجے میں زلت رسوائی ناکامی نامرادی ہمارا مقدر بن گئی اسپین کی مثال اس کی کھلی شہادت ہے آج کہ اس دور میں بھی مسلمان عملی اعتبار سے چاہے کتنے ہی گئے گزرے ہوں مگر نبی کی عظمت پر جان دینے کا جذبہ ان کے اندر موجود ہے اور وہ سب کچھ برداشت کرلیتے ہیں مگر نبی کی عظمت پر حرف آئے یہ برداشت نہیں کرتے ۔
جلوس میلادالنبی بھی اسی عظمت نبی کی ایک عملی مثال ہے جس کے ذریعے ہم عشق رسول کا اظہارکرتے ہیں اور نبی کی تعظیم وتوقیر کرتے ہیں اس کے لئے کبھی بھی جلوس نکالا جاسکتاتھامگر اس کے لئے اس دن کاانتخاب کیاگیاجو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا دن ہے اسی دن کے صدقے میں ہمیں قران ملا ایمان ملا، رحمن ملا، دستور حیات ملا، قانون زندگی ملا، تہذیب ملی ،اس سے زیادہ عظیم دن ہمارے لئے کوئی نہیں ہوسکتا اس لئے عظمت رسالت کے اظہار کے لئے اس دن جلوس نکالنا مسلمانوں کا قابل تحسین اقدام ہے اب عید میلادالنبی کے موقع پر جلوس کا یہ سلسلہ برصغیر تک محدود نہ رہا بلکہ عرب وعجم کے بے شمار ممالک میں تک پھیل گیا نہ صرف جلوس بلکہ میلاد کی محفلیں بھی کثرت سے ہورہی ہیں آپ یوٹیوب پر سرج کیجیئے مولد ان مدینہ mawlid in Madina مولد ان جدہ ،مولد ان ترکی، مولد ان کویت، مولد ان دبئی، مولد ان یمن، مولد ان چیچینیا ،مولد ان موروکو، مولد ان ملیشیا مولد ان انڈونیشیا ،مولد ان لندن ،مولد ان فرانس تو آپ کو ہر ملک میں ہونے والی محافل نہ صرف محافل میلاد بلکہ جلوس بھی سرچ کریں تو آپ کو مل جائےگا اور آپ کو اندازہ ہوجائےگاکہ ولادت نبوی کاجشن عالمی طور پر کتنے شاندار طریقے سے منایاجارہاہے کئی عرب ملکوں میں اب ۱۲ ربیع الاول کو حکومتی سطح پر تعطیل کااعلان ہوتاہے

ہندوستان میں جلوس میلاد کاایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دوسری قومیں مختلف مواقع سے جلوس نکال کر اہنی تعداد وقوت کامظاہرہ کرتی ہیں اور دکھاتی ہیں کہ اس شہر میں ہماری افرادی قوت کتنی ہے جسے دیکھ کر دوسری قوموں پر ایک رعب اور خوف طاری ہوتاہے جلوس میلاد کے ذریعے ہمیں بھی ہر شہر میں اپنی تعداد وقوت کامظاہرہ کرتے رہناچاہیئے تاکہ دوسری قوموں پر بھی خوف طاری رہے اور وہ دیکھ لیں کہ شہر میں مسلمان کتنی بڑی تعداد میں ہیں اور پھر وہ مسلمانوں کےخلاف کوئی فتنہ وفساد کامنصوبہ نہ بناسکیں اور ہمیں خود بھی اپنی تعداد دیکھ کر ایک حوصلہ ملتاہے کہ ہم کس شہر میں کتنی تعداد میں ہیں خاص طور پر گذشتہ کچھ سالوں میں ملک کے ماحول میں جو تشویشناک تبدیلی آئی ہے اسے دیکھتے ہوئے جلوس میلادالنبی کے اہمیت وافادیت اور بڑھ جاتی ہے مگر اسی کے ساتھ ہمیں ہوشیار رہنے کی بھی ضروت ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ شرپسند عناصر ہماراجلوس خراب کرنے کے لئے کوئی شرارت کردیں اور پوری قوم تکلیف میں آجائے اس لئے ہر جگہ جلوس نکالنے والوں کوہر پہلو سے تیاری کرنی چاہیئےبغیر پولس پرمیشن کے ہرگز جلوس نہ نکالیں ۔

جلوس انتہائی مہذب اور سنجیدہ طریقے سے نکالیں نعرے بھی سنجیدہ ہوں اور خالص عظمت رسالت والے نعرے ہوں کوئی ایسا نعرہ ہرگز ہرگز نہ لگائیں جس سے ملک کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو کہ یہ اسلامی نقطہ نظر سے بھی غلط ہیں اور اس طرح سے فتنہ وفساد کا قوی اندیشہ ہے جلوس کے ذریعے ہمیں اسلامی تہذیب کا مظاہرہ کرناچاہیئے یاد رہے قران وہ کتاب ہے جس نے مسلمانوں کو سڑک پر چلنے کے بھی آداب دکھائے ہیں فرمایاگیا وعبادالرحمن الذین یمشون علی الارض ھونا۔

یعنی رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر پروقار انداز میں چلتے ہیں جب ہم تنہاء سڑک پر چل رہے ہوں تو وقار کے ساتھ چلنے کی تعلیم دی گئی ہے تو جب پوری قوم اجتماعی طور پر چل رہی ہوجلوس کی شکل میں تو کس قدر سنجیدگی متانت اوروقار لازمی ہوگا خاص طور پر اب جب کہ میڈیا کی آنکھیں بھی آپ پر جمی ہیں اور آپ کی ایک ایک نقل وحرکت دنیاکو دکھائی جاتی ہے اس لئے دنیاکو کوئی غلط میسیج نہ جائے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

جن علاقوں میں شرپسند عناصر ہیں ان علاقوں میں جلوس نکالنے سے پہلے بہت تدبر سے کام لیاجائے اس وقت ملک میں کئی ہندو تنظیمیں کھل کر چیلینج کررہی ہیں اور مسلمانوں کو مارنے کاٹنے کی بات کررہی ہیں جلوس میں ہرفرد باوضو رہے اور درود وسلام کی کثرت کرتارہے اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا ان شاءاللہ کہ سب کی حفاظت ہوتی رہےگی اس لئے کہ جب ہم نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم پر دورد پڑھناشروع کرتے ہیں تو ہم پر اللہ کی طرف سے سلامتی نازل ہونا شروع ہوجاتی ہے اس طرح پورے جلوس پر اللہ کی سلامتی اترتی رہے گی اورجلوس بخیروعافیت اختتام کو پہونچےگا ڈھول باجہ میوزک ناچ گانا ڈی جے یہ سب اسلام میں حرام وناجائز ہیں جلوس میں اس کااستعمال ہرگزہرگز نہ کریں جلوس نکالنے والی کمیٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام چیزوں کے لانے پر پابندی لگادیں اور جولائے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے بعض نادان نوجوان یہ غلط حرکتیں کرتے ہیں ان کو نرمی سے سمجھایا جائے

الحمدللہ بھیونڈی میں ہم نے شروع سے اس کا بہت اہتمام کیا اور بھیونڈی کاہماراجلوس بالکل شرعی طور پر نکلتاہے ہمارے کنٹرول کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹرک کاپرمیشن نہیں ہوتا تمام افرادپیدل ہوتے ہیں اور باجہ گاجہ ڈی جے وغیرہ کی بلا وہاں زیادہ ہے جہاں نوجوانوں کو ٹرک لانے کی اجازت دی جاتی ہے اللہ تعالی سے دعاہے کہ عید میلادالنبی کا تہوار امن وامان خیروعافیت کے ساتھ گزرجائے اور ملک میں نکلنے والے تمام جلوس بھی خیروعافیت کے ساتھ نکلیں اور ہر حادثے سے اللہ حفاظت فرمائیے فقیر مدینے شریف میں ہے یہاں دعا کی جائےگی کہ بھیونڈی کاہماراجلوس بھی خیروعافیت سے نکلے۔