ناشتہ دن بھر کے لیے غذائی عادات کا آغاز ہوتا ہے اور اگر وہ میٹھی اشیا پر مشتمل ہو تو دن میں بھی چینی کی خواہش یا اشتہا زیادہ ہوگی۔

مگر جو لوگ جسمانی وزن میں کمی اور اپنی غذا کو زیادہ بہتر طریقے سے کنٹرول کرنا چاہتے ہیں تو ناشتے کی زیادہ متوازن عادات کو اپنانا ضروری ہے۔ناشتے کی بہترین عادات کے بارے میں غذائی ماہرین کیا کہتے ہیں، وہ آپ ذیل میں جان سکتے ہیں۔

پروٹین پر توجہ مرکوز کریں
پروٹین متعدد وجوہات کی وجہ سے اہم غذائی جزو ہے مگر جسمانی وزن میں کمی کے لیے یہ لازمی ہے کیونکہ یہ معدے کو دیر تک بھرے رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔یعنی پروٹین سے بھرپور ناشتے کے کچھ دیر بعد مزید کچھ کھانے کی خواہش ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دن کا آغاز پروٹین سے بھرپور ناشتے سے کرنا بہترین طریقہ کار ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹین کا اثر دیگر غذائی اجزا سے زیادہ ہوتا ہے یعنی جسم کو اسے ہضم کرنے کے لیے چکنائی یا کاربوہائیڈریٹس سے زیادہ توانائی خرچ کرنا پڑتی ہےانڈے، دہی وغیرہ سے بھرپور ناشتہ اس حوالے سے بہترین ہے۔

ہمیشہ ورزش کے بعد ہی ناشتا کریں
بیشتر افراد سوچتے ہیں کہ انہیں صبح ورزش کرنے سے پہلے ناشتے کی ضرورت ہے، مگر یہ خیال درست نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ رات کو کھانے کے بعد صبح کے لیے 30 سے 60 منٹ کی معتدل ورزش کے لیے جسم میں ایندھن جمع ہوتا ہے۔
ماہرین نے بتایا کہ جب خالی پیٹ ورزش کی جاتی ہے تو ہم محفوظ ہونے والی گلوکوز کو زیادہ جلاتے ہیں، تو جسم کے ایندھن کے لیے چربی گھلنے کا امکان بڑھتا ہے۔

مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ صبح اٹھ کر بہت زیادہ سخت ورزش شروع کردیں بلکہ کچھ دیر یا کم شدت والی ورزش بھی ٹھیک ہے، بس ورزش کے بعد 30 منٹ کے اندر ناشتہ کرلیں۔

پانی پینا مت بھولیں
ماہرین کے مطابق ہمارا جسم کا 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور جسمانی افعال کو درست رکھنے کے لیے ہمیں کافی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔جسم میں پانی کی مناسب مقدار صحت مند ہاضمے کے لیے ضروری ہے جس سے صحت مند جسمانی وزن کے حصول اور توند کی چربی کو کھلانے میں مدد ملتی ہے، تو ناشتے سے پہلے ایک یا 2 گلاس پانی پینا کافی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
جلد بازی میں ناشتا مت کریں

اکثر افراد جلد از جلد ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، مگر جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کو دن کی پہلی غذا کو آرام سے جزوبدن بنانا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ رات کے کھانے اور ناشتے میں کم از کم 12 گھنٹے کا وقفہ ہو تاکہ جسمانی چربی کو زیادہ گھلایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ اس کے پیچھے چھپی سائنس یہ ہے کہ ہر بار جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو بلڈ شوگر بڑھنے کے ردعمل پر انسولین کی سطح بڑھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے جسم کو بتاتا ہے کہ کافی مقدار میں ایندھن دستیاب ہے تو ہمیں چربی ذخیرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

غذا کا اچھا انتخاب
جسمانی وزن میں کمی کے لیے صحت مند غذائی عادات کو برقرار رکھنا ضروری ہے، اپنے جسم کو اس کی تربیت دیئے بغیر کسی قسم کی مثبت تبدیلی کو زیادہ دیر تک برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

یہی وجہ ہے کہ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ناشتے کا اچھا انتخاب کریں، اچھی طرح چبا کر ذائقے سے لطف اندوز ہوں، اس طرح کی عادات جسمانی وزن میں کمی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

میٹابولزم متحرک کرنے والے مشروبات اور دیگر اشیا
مسالوں اور مشروبات کے ذریعے میٹابولزم کو صبح زیادہ متحرک کیا جاسکتا ہے۔

سبز چائے کو پینا چربی گھلانے میں مدد فراہم کرتا ہے اور اگر آپ ادرک کو چائے میں شامل کرلیں تو اس سے بھی میٹابولزم متحرک ہوتا ہے۔چائے یا کافی میں چٹکی بھر دارچینی سے بلڈ شوگر لیول کو معتدل رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے اور صحت مند غذائی رجحان برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ سب جسمانی وزن میں جادوئی کمی تو نہیں لاتا مگر اس سے بتدریج مقصد حاصل کرنے میں ضرور مدد ملتی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔