جرمنی میں وبائی امراض کی ایجنسی کے سربراہ نے ملک میں کورونا وبا کی صورتحال کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔جرمنی میں گزشتہ روز کورونا کے 65 ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں جو کورونا کی وبا پھوٹنے کے بعد جرمنی میں کورونا کے یومیہ کیسوں میں سب سے بڑا تعداد ہے۔

رابرٹ کوچ انسٹیٹوٹ کے سربراہ لوتھر وائلر نے ملک کے سیاستدانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کے پھیلنے کے حوالے سے وارننگ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
لوتھر وائلر نے کہا: ’ہم ایک بہت سنگین صورتحال کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اگر ہم نے اب کوئی قدم نہ اٹھایا تو ہماری کرسمس بہت بری ہو گی۔‘

جرمنی میں وبائی امراض کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کو روکنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا تو جرمنی میں کووڈ سے مزید ایک لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

جرمنی کے قانون سازوں نے ایک ہنگامہ خیز اجلاس کے بعد وبا سے نمٹنے کچھ اقدامات کی منظوری دی ہے۔ان اقدامات کے تحت صرف ایسے لوگوں کو پبلک ٹرانسپورٹ اور دفاتر میں داخلے کی اجازت ہو گی جو ویکسین لگوا چکے ہیں۔

ان اقدامات کو صرف اسی وقت نافذ کیا جا سکتا ہے جب جرمنی کے ایوان بالا میں علاقائی حکومتیں اس کی توثیق کریں گی۔

جرمنی میں پہلے ہی کئی علاقوں میں ایسے لوگوں کو ریسٹورانٹ، کلبوں اور جِم میں جانے کی اجازت نہیں ہے جنہوں نے ابھی تک ویکیسن نہیں لگوائی ہے۔

جرمنی میں کل آبادی کے 70 فیصد حصے نے ویکیسین لگوائی ہے جو یورپی یونین کی اوسط سے کم ہے۔ جرمنی میں بارہ سال سے زیادہ عمر کے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگوں کو ویکسین لگائی جا چکی ہے۔

جرمنی کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ویکسین کے مخالفین کو ویکسین لگوانے پر قائل کرنا مشکل ہے۔ سیاستدانوں کو خدشہ ہے کہ اس سے معاشرے میں تفریق بڑھے گی۔

جرمنی کی ریاست سیکسونی میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ریاست سیکسونی میں سب سے کم صرف 57 فیصد لوگوں نے ویکسین لگوائی ہے۔

سیکسونی ریاست نے ایسے لوگوں کے ہوٹلوں، شراب خانوں، کھیلوں کے مقابلوں اور عوامی مقامات پر ہونے والے اجتماعات میں جانے پر پابندی لگا دی ہے جنھوں نے ابھی تک ویکسیسن نہیں لگوائی ہے۔

جرمنی کے ویکسین مخالف افراد سیکسونی کی ریاست کے فیصلے پر شدید برہم ہیں اور ہزاروں افراد نے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔

ویکسین مخالف مظاہرین کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

لیف ہنسن جو ویکسین مخالف مہم کی نمائندگی کرتے ہیں کہتے ہیں کہ ’انھیں نہ تو ان کمپنیوں پر اعتبار ہے جنہوں نے ویکسیسن تیار کی ہے اور نہ ہی ان پر جنھوں نے ویکسین کو استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔‘بہ (شکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام)

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔