بابائے قوم مہاتما گاندھی کو عدم تشدد کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور پوری دنیا میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ مہاتما گاندھی نے ملک کی آزادی کے لئے تو جدوجہد کی ہی تھی، ساتھ ہی انہوں نے اپنی زندگی کو ہندو مسلم بھائی چارے کے لئے بھی وقف کر دیا تھا۔ یوں تو گاندھی نے جی نے اپنی زندگی میں کئی مواقع پر مختلف مذہب اور طبقات کے درمیان تنازعات کو دور کرایا لیکن 1947 کے بعد ان کا کام اور زیادہ بڑھ گیا تھا اور 1948 میں اپنی آخری سانس تک وہ مختلف شہروں میں گھوم گھوم کر لوگوں کو مل جل کر رہنے کا درس دیتے رہے۔

گاندھی جی کے اس دہلی کے دورے پر ’ٹائمز آف انڈیا‘ سے وابستہ معروف صحافی ویویک شکلا نے روشنی ڈالی ہے۔ مہاتما گاندھی نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں قومی راجدھانی دہلی میں بھی ہندو اور مسلمانوں کے دمیان سلگ رہی تشدد کی آگ کو ٹھنڈا کیا تھا۔ دہلی کے مہرولی علاقہ میں واقع قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ کو کچھ شرپسندوں نے نقصان پہنچایا تھا، گاندھی جی نے نہ صرف درگاہ کا دورہ کیا بلکہ مسلمانوں کو یہ یقین بھی دلایا کہ یہ ان کا بھی ملک ہے اور انہیں کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ غالباً یہ گاندھی جی کا دوسرا دہلی کا دورہ تھا لیکن اس کے بعد پھر کبھی وہ واپس نہیں جا سکتے کیونکہ یہیں پر ایک فرقہ پرستی کے جنون میں اندھے ناتھو رام گوڈسے نے ان کے سینے میں گولیاں جھونک کر انہیں قتل کر دیا۔

ویویک شکلا اپنے ایک مضمون میں بیان کرتے ہیں کہ جنوری 1948 میں مہاتما گاندھی کو دہلی میں آئے ہوئے چار مہینے ہو گئے تھے لیکن تشدد کی آگ لگاتار بھڑک رہی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب دہلی میں سرحد پار سے ہندو اور سکھ مہاجرین آ رہے تھے اور یہاں سے بہت سے مسلمان ہجرت کر کے پاکستان جا رہے تھے۔ قرول باغ، پہاڑ گنج، دریا گنج اور مہرولی میں مار کاٹ مچی ہوئی تھی اور فسادی کسی طرح باز نہیں آ رہے تھے۔ دریں اثنا، قطب الدین بختیار کاکی کی درگاہ کے بیرونی حصلہ کو کچھ فسادیوں نے نقصان پہنچایا۔

درگاہ کو نقصان پہنچائے جانے کے بعد گاندھی جی اندر تک ہل گئے اور یہ سنتے ہی انہوں نے بھوک ہڑتال شروع کر دی۔ بہت سے لوگوں نے یہ افواہ پھیلا دی کہ مہاتما گاندھی پاکستان کو 55 کروڑ روپے ادا کرنے کا دباؤ ڈالنے کے لئے بھوک ہڑتال کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ 13 جنوری 1948 کو گاندھی نے تشدد ختم کرنے کے لئے بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ گاندھی جی کی بھوک ہڑتال کا اثر بھی ہوا اور آخرکار دہلی میں امن کی فضا برقرار ہو گئی۔

ویویک شکلا کہتے ہیں کہ گاندھی نے بھوک ہڑتال کے ذریعے فرقہ وارانہ تشدد کو مات دی اور 18 جنوری 1948 کو اپنا انشن ختم کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے کاکی کی درگاہ کا 27 جنوری کو دورہ کیا۔ اس وقت درگاہ میں عرس چل رہا تھا لیکن زائرین کی تعداد بہت کم تھی اور جوش و خروش بھی ندارد تھا۔ وہاں پہنچتے ہی گاندھی جی نے درگاہ کے ان حصوں کو دیکھا جنہیں فسادیوں نے نقصان پہنچایا تھا۔ انہوں نے وہاں موجود مسلمانوں کو یقین دلایا کہ حکومت ان کا تحفظ کرے گی اور انہیں پاکستان جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اسی دوران گاندھی نے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے درگاہ کی مرمت کرانے کو کہا۔ درگاہ کا دورہ کرنے کے تین دن بعد ہی گاندھی جی کا قتل کر دیا گیا۔(بہ شکریہ قومی آواز)