• 425
    Shares

عام لوگ جب جسمانی وزن میں کمی کے بارے میں سوچتے ہیں تو جم جانے، جوگنگ یا کھانے کی مقدار کم کرنے جیسے طریقوں پر ہی غور کرتے ہوں گے۔مگر کچھ سائنسدان کا خیال بالکل مختلف ہے اور وہ لوگوں کو وزن بڑھانے والی خوراک کھانے سے روکنا چاہتے ہیں۔اور اس کے لیے وہ ان کے منہ بند کرنا چاہتے ہیں، جی ہاں واقعی۔

 

نیوزی لینڈ اور برطانیہ کے محققین نے ڈینٹل سلم نامی ایک ڈیوائس تیار کی ہے جو نام سے تو زبردست لگتی ہے مگر اس سے معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کسی تشدد کرنے وای ڈیوائس سے کم نہیں۔یہ ڈیوائس جبڑوں کو 2 ملی میٹر سے زیادہ کھلنے نہیں دیتی، جس سے سانس لینے میں تو کوئی مشکل نہیں ہوتی مگر ٹھوس غذا کو کھانا ممکن نہیں ہوتا۔

 

نیوزی لینڈ کے اوٹاگو یونیورسٹی کے محقق پال برنٹن اس تحقیقی ٹیم کے سربراہ تھے اور ان کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ لوگ محض سیال غذا تک محدود ہوجائے۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ جسمانی وزن میں لوگوں کی ناکامی میں بنیادی رکاوٹ نئی عادات کو قائم رکھنے میں ناکامی ہے۔اس ڈیوائس کی آزمائش 7 صحت مند افراد پر کی گئی جو موٹاپے کے شکار تھے اور انہیں ایک دن میں سیال غذا کے ذریعے 12 سو کیلوریز استعمال کرائی گئیں۔

 

برٹش ڈینٹل جرنل میں اس تحقیق کے نتائج جاری ہوئے جس میں بتایا گیا کہ 2 ہفتے کے دوران ان افراد کے جسمانی وزن میں اوسطاً 6 کلو سے زیادہ کمی آئی۔تحقیق میں شامل افراد نے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔محققین کا کہنا تھا کہ اس ڈیوائس سے بولنے یا سانس ینے میں کسی قسم کی مشکل نہیں ہوتی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2 سے 3 ہفتے کے اس سخت معمول (یا تشدد کہہ لیں) کے بعد ڈیوائس کے مقناطیسی حصے کھلنے لگتے ہیں اور لوگ کچھ حد تک ٹھوس غذا استعمال کرسکتے ہیں۔

اس ڈیوائس کی تیاری کے پیچھے یہ خیال ہے کہ مہنگی سرجری سے وزن کم کرانے کی بجائے مخصوص وقت تک ڈیوائس کی مدد سے اسے بہتر کیا جائے۔

ٹوئٹر پر اس ڈیوائس کے اعلان پر اسے ہارر فلم سیریز ‘سا (Saw)’ میں دکھائے جانے والے تشدد کے آلات کا حصہ قرار دیا گیا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔