جبری تبدیلی مذہب کے الزام میں چرچ پر حملہ

329

ترن تارن: پنجاب کے ترن تارن ضلع میں بدھ کی رات لوگوں کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر ایک مقامی چرچ میں زبردستی گھس کر لارڈ جیسس اور مدر مریم کے بتوں کی توڑ پھوڑ کی .

یہی نہیں اس نے پادری کی گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔ جائے وقوعہ سے سامنے آنے والی تصاویر میں ایک کار کو آگ میں لپٹی ہوئی اور چرچ کے اندر ایک ٹوٹا ہوا مجسمہ دکھایا گیا ہے

درحقیقت پنجاب کے ترن تارن میں رات گئے کچھ لوگ ایک چرچ میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ شروع کر دی اور وہاں موجود لارڈ جیسس اور مدر مریم کے بت کو توڑ دیا۔ چرچ میں کھڑی ایک کار میں آگ لگ گئی۔یہ تمام واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی ہے اور معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ یہ واقعہ ترن تارن ضلع کے اسمبلی حلقہ کے پٹی کے گاؤں ٹھاکر پور میں پیش آیا۔یہ واقعہ ایک ایسے دن پیش آیا جب اکال تخت کے جتھیدار نے عیسائی مشنریوں کی طرف سے "جبری تبدیلی مذہب” کے خلاف بیان جاری کیا۔