جانور بھی صرف اپنے لئے جی لیتے ہیں۔ ہم تو۔۔۔۔۔

نقاش نائطی+966504960485

اپنے لئے اور ایک حد تک اپنی آل اولاد کے لئے تو دنیا کا ہر جاندار،درند پرند چرند حتی کہ زہریلے رینگتے کیڑے مکوڑے بھی خیال رکھا کرتے ہیں۔ اپنے علاوہ اپنے آس پڑوس محلے گاؤں،معاشرے کے غرباء و مساکین کی داد رسی کرنے کا جذبہ، صرف اور صرف اشرف المخلوقات کہے جانے والے، ہم انسانوں کا وطیرہ خاص ہوا کرتا ہے۔ چئے جائے کہ ہم مومن مسلمان، جنہیں خاتم الانبئاء سرور کونین محمد مصطفیﷺ نے، جہاں یہ ترغیب دی ہے کہ اپنی دولت سے غرباء و مساکین کے لئے وہ جتناخرچ کرینگے،اس سے ان کی دولت میں کمی کے بجائے بڑھوتری ہی ہوگی۔وہیں پر، اس وعید سے ہمیں متبہ اور خوفزدہ کرنے کی سعی بھی کی گئی ہے کہ،اگر باوجود ہماری وسعت رزق کے، ہمارا پڑوسی تنگدستی کی وجہ سے بھوکا سونے پر مجبور ہوجائے تو، ہمارے ذاتی اعمال نماز روزے ذکر واذکار ہمیں قہر خدا وندی سے آمان نہیں دلاپائیں گے۔

♨️Join Our Whatsapp 🪀 Group For Latest News on WhatsApp 🪀 ➡️Click here to Join♨️

دنیا کی کل آبادی کے ایک فیصد سے کم لوگ، جہاں دنیا کی نصف سے زیادہ دولت پر زہریلے ناگ کی طرح پھن پھیلائے صدا بیٹھے رہتے پائے جاتے ہیں، وہیں پر ایک تہائی آبادی ہمیشہ خوشحال اور متوسط زندگانی جی رہی ہوتی ہے۔ مسئلہ صرف دو تہائی غریب آبادی کا ہی ہوا کرتا ہے۔ اس میں سے انتہائی غریب 5 ایک فیصد مفلوک الحال آبادی، جسے لوگ فقراء کہتے ہیں۔ ویسے تیسے بھیک مانگ کر اپنے پیٹ کی جہنمی آگ بجھا لینے میں کامیاب ہوجاتی ہے باقی بچی تیس سے پچاس فیصد مزدور پیشہ و روزانہ اجرت پر محنت مزدوری کر، اپنی محنت کی کمائی سے اپنے اور اپنی آل اولاد کی پرورش کرتے عزت سے زندگی بسر کرنے والا طبقہ، دراصل کرونا جیسی آزمائشی ادوار میں، اپنے آپ کو ہارا ہوا یا لوٹا ہوامحسوس کرتا ہے۔ اور وہ بھی کرونا کے قہر سے معاشرے کو آمان دلانے کے لئے،تمدنی ترقی یافتہ اور ترقی پزیر و غریب ممالک میں سے، اکثر وبیشتر ممالک کے ایوان حکومت نے، جہاں معاشرے کو خود ساختہ جیل جیسے کورنٹائین پس منظر میں جینے پر مجبور کیا ہوا ہے،جیل میں تو بغیر محنت دو وقت کا کھانا مل جاتا ہے، اس عصری ترقی پذیر کورونا کورنٹائین ، بھوکے جیل واسیوں کے لئے، زندہ رہنے لائق کھانا پہنچانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟وہ بھی ایک دو دن کے لئے نہیں، پورے ہفتہ دو ہفتہ تین ہفتہ تک تو، یقین مانئے، ہر کسی معاشرے کا روزانہ کما کر عزت سے اپنی زندگی جینے پر مجبور، وہ طبقہ مساکین، خود کیا کھائے؟ یا اپنے آل اولاد کے بھوک سے بلکنے کو کیسے برداشت کرے؟ متوسط و مالدار طبقہ تو اس کورنٹائین والے دنوں کے لئے ڈھیر ساری ضروریات زندگی کے سامان یکمشت اچانک خریداری کرنے سے، اسواق میں اجناس کی کمی قائم ہوتے، ویسے بھی قیمتیں بڑھتے ہوئے، ضروریات زندگی کی بہت سے چیزیں، غرباء و مساکین کی پہنچ سے بہت دور ہوجاتی ہیں۔اور غیر متوقع کورونا کورنٹائین کے،گھروں میں مقید زندگی گزارنے کے حکم صاحب اقتدار نے تو،آج کما آج کھانے والوں کو، بھوک فاقہ والی زندگانی جینے پر مجبور کیا ہوا ہے۔

کچھ یوروپین ترقی پذیر ممالک اور کچھ عرب ممالک نے، اس کورونا کورنٹائین والی گھروں میں مقید زندگانی جینے پر مجبور، اپنے غریب اور مزدور پیشہ طبقہ کے لئے، بجلی پانی و دیگر حکومتی وقتی مصارف معاف کرتے ہوئے، نصف یا ایک ماہ کی تنخواہ وضایف مقرر کئے ہیں لیکن ھندو پاک بنگلہ دیش جیسے ممالک کے، کم و بیش نصف کے قریب غرباء و مساکین شہریوں کی داد رسی کون کریگا؟ یاد رکھئے ایسے آفات مصائب والے مواقع عام انسانوں پر عائد کرتے ہوئے، رزاق دو جہاں، پروردگار عالم، جہاں اپنے غریب رعایا کے صبر و تحمل کا امتحان لے رہے ہوتے ہیں، وہیں پر ہم متوسط اور مال دار طبقہ کا،اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کی داد رسی کا امتحان بھی لے رہے ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے مسجد النور تک

ہمیں یاد پڑتا ہے سائبر میڈیا پر گردش کرنے والے اس سوڈانی، کسی جامع مسجد کا مختصر ترین وہ خطبہ جمعہ، جس میں خطیب جمعہ نے صرف یہ کہتے ہوئے کہ معاشرے میں، کسی غریب مسکین کے تنگ دستی کے باعث، بھوکے پیٹ سونے مجبور ہونے پر، اس معاشرے کے خوشحال تر امراء کے نماز روزے حتی کہ محنت مشقت سے کئے حج بیت اللہ تک کے ضائع چلے جانے کی بات، ایک جملہ میں کہتے ہوئے اپنے مختصر تر جمعہ خطبہ کو ختم کیا تھا۔

ہمارے ملک کے وزیر اعظم نے سقم کرونا کی ہلاکت خیزیوں سے عام آگہی کے لئے، کچھ ساعتی دن بھر اجالے تک کی خودساختہ عوامی جنتا کرفیو کی، اپنے عوام سے التجائی اعلان کیا ہے یقینا یہ ایک حد تک قابل ستائش عمل ہے لیکن خود انکے چھ سالہ سنگھی راج میں، ان کی خراب معاشی پالیسیز کے چلتے، دیش کی جملہ دولت ایک فیصد سے کم دیش کے امراء کی تجوریوں میں مقید ہوتے تناظر میں، اور خصوصا چند بڑے گجراتی سنگھی برہمن پونجی پتیوں کی دولت، انکے ان چھ سالہ دور اقتدار میں،کئی سو گنہ بڑھتے ہوئے، انہیں عالم کے بڑے پونجی پتیوں میں خود کو شمار کرواتے تناظر میں، دیش کی سوا سو کروڑ جنتا کے غریب اور پس ماندہ مفلوک الحال جنتا کا گراف بڑھتے پس منظر میں، عالم کے بڑے بلینائر پونجی پتیوں کے کرونا سے جوج رہی عام جنتا کی راحت کاری کے لئے، دیئے گرانقدر چندے کو سامنے رکھتے ہوئے، خود انکی دریا دلی سے دیش کے وسائل و بنکوں کو لوٹتے ہوئے، امیر ترین بننے والے پونجی پتیوں سے،خطیر رقم چندے کی صورت نکلواتے ہوئے، جنتا کرفیو فریب کے مقابلہ، دس پندرہ دن کی اجرت مقدار رقم ہی غریب و مفلوک الحال روزانہ اجرتی مزدوروں میں تقسیم کروائی جاتی تو دیش کی اکثریت غریب جنتا کو وقتی راحت تو نصیب ہوتی؟ جنتا کرفیو زبردستی نفاذ کے سلسلے میں، سنگھی ذہنیت حکومتی اہلکاروں و سنگھی رضاکاروں کی زور زبردستی نے، پردھان منتری کے جنتا کرفیو کے وقار کو مجروح کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  تجزیہ خبر: آئندہ پارلیمانی انتخابات : مسلمانوں کا دوست کون۔۔۔۔؟؟؟

حکومت ترکیہ کی ایماء پر، کورونا کورنٹائین جیل خانہ میں تبدیل آبادی کے، روزانہ اجرتی کمائی والے، مفلوک الحال ضرورت مندوں کی ضروریات کی تکمیل کے لئے، روزانہ ضروریات زندگی کی چیزوں پر مشتمل پورشن کے ڈھیر کو، سر راہ رکھواتے ہوئے، اپنی عزت نفس برقرار رکھتے بن مانگے اپنی ضروریات کی چیزیں لے جانے کے مواقع ترکی کے دھن وانوں نے، پیدا کئے گئے ہیں۔ دار العلوم دیوبند والوں نےبھی، شہر کے ہوٹلوں کے بند رہتے تناظر میں، عام مسافروں کے لئے،مدرسے کے مطبخ کے دروازے کھول دینے کی خبر آئی یے۔سنگھی حکومت عوام کی وقتی راحت کاری کرنے کا کوئی بندوبست کرتی ہے یا نہیں؟ اس جواب دہی والے عمل سے پرے،ہم بحیثیت اشرف المخلوقات عام انسان اور نبی رحمت اللعالمین کے ہم مومن مسلمین پورے جہاں کی فکر سے پرے، اپنے خود کے رہائشی علاقے کے، اپنے آس پاس پڑوس کی غریب بستیوں کے، روزانہ اجرتی مزدوروں کے، اس حکومتی کورونا کورنٹائین جیل خانہ میں تبدیل کئے معاشرے کی راحت کاری کے لئے، ہم میں سے صاحب حیثیت امراء و تونگر، اپنی حیثیت مطابق کیا کچھ کر پاتے ہیں یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے۔مسلم محلہ کے رضار تنظیمیں ادارے اسپورٹس کلب وغیرہ اپنے علاقے کے تونگروں کو اللہ رسول ﷺ کا حوالہ دیکر انہیں قائل کرتے ہوئے روزانہ اجرت کمائی والے مفلوک الحال لوگوں کے گھروں میں،انکے مجبور بن سوالی ہونے سے پہلے،ان کے گھروں میں عزت نفس سے جینے لائق راشن پانی کا بندوبست کروائیں۔ یہی تو وقت ہم آپ تک آپہنچا ہے کہ ہم اپنی بساط بھر امداد و رضاکاری سے، بندگان خدا کی وقتی راحت کاری کا بندوبست کرتے ہوئے، رزاق دو جہاں پروردگار دو عالم کو راضی کرپائیں۔وما علینا الاالبلاغ.

یہ بھی پڑھیں:  مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے - از: شیخ اکرم ، ناندیڑ

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me