جانباز 15 سالہ فرقان کا کمال، بادل اور سُمت کو بچانے کے لئے جان قربان کر دی

رامپور:19.۔مئی (ایجنسیز) رامپور کے محض 15 سالہ لڑکے فرقان نے ہمت اور جانفشانی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس پر فخر کرنا لازم ہے۔ 15 سالہ فرقان کوسی ندی میں ڈوبنے والے ایسے دو لڑکوں کی جان بچانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گیا، جنہیں وہ جانتا بھی نہیں تھا۔ فرقان نے اس دوران ایک لڑکے کی جان تو بچا لی لیکن دوسرے کی جان بچانے کی کوشش میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ اب رامپور میں ہر طرف فرقان کے چرچے ہو رہے ہیں۔فرقان جن لڑکوں کی جان بچانے کے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا ان کے نام بادل اور سُمت ہیں۔ فرقان نے بادل کو تو بچا، اس کے بعد بھی اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے باوجود سمیت بچانے کی کوشش جاری رکھی۔ لیکن اس کی تمام تر کوششیں رائیگاں ہو گئیں اور وہ خود ہی ڈوب گیا۔ یہ واقعہ رامپور کے سوار ٹانڈہ علاقے میں جمعہ کے روز پیش آیا۔دڑھیال علاقہ کے گاؤں پروت پور کے رہائشی سنجیو کمار کا 13 سالہ بیٹا سمیت اور رام چندر کا 14 سالہ بیٹا بادل دونوں دوست تھے۔ دونوں دوست جمعہ کی دوپہر اکبر آباد علاقے کے نیا گاؤں کے سامنے بہنے والی کوسی ندی میں نہانے گئے تھے، اس دوران پانی زیادہ ہونے کے سبب دونوں دوست ڈوبنے لگے۔ اسی وقت پاس کے کھیت میں گھوم رہے 15 سالہ فرقان نے دونوں دوستوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ لیا۔

فرقان نے بلا تاخیر دونوں لڑکوں کو بچانے کے لیے دریا میں چھلانگ لگا دی، جنہیں ہو جانتا بھی نہیں تھا۔ فرقان نے پانی میں ڈوبنے والے بادل کو بحفاظت باہر نکال لیا، اس کے بعد وہ سمت کو بچانے کے لئے بھی ندی میں کود گیا مگر ناکام رہا۔ ندی کے اردگرد کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں کی اطلاع پر پولیس نے غوطہ خوروں کی مدد سے فرقان اور سمت کو پانی سے باہر نکالا۔ فرقان نے جس بادل کی جان بچائی اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ فرقان سوار کے گاؤں گگن ناگلی اکبر آباد کے رہائشی کسان افسر علی کا بیٹا تھا۔فرقان اپنے گھر میں سب سے چھوٹا تھا اور دہلی میں رہ کر کام کرتا تھا کیونکہ گھر کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اپنے گھر میں سب کے لئے جگر کا ٹکڑا تھا۔ فرقان کو یاد کرتے ہوئے گھر والے کہتے ہیں کہ ’اب وہ اپنا جگر کا ٹکڑا کہاں سے لائیں!‘ اس واقعے میں جان گنوانے والے دوسرے لڑکے سمیت کے والد سنجیو کمار بھی تنگ دستی کا شکار ہیں۔سمیت اپنے گھر کا اکلوتا لڑکا تھا۔ وہ آٹھویں جماعت میں گاؤں کے اسکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

متوفی سمیت کے والد سنجیو فرقان کا احسان مانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘فرقان نے میرے بیٹے کو بچانے کے لیے اپنی جان گنوا دی، ایک نامعلوم شخص کے لیے اتنا کون کرتا ہے۔’ پیشے سے مزدور سنجیو بھی متوفی فرقان کے لواحقین کو تسلی دینے ان کے گھر بھی پہنچے۔بہادری اور ہمت کا مظاہرہ کرنے کے لئے عمر کی قید نہیں ہوتی، یہ حقیقت 15 سالہ فرقان نے ثابت کر دی ہے۔ اپنی زندگی کی پرواہ کئے بغیر فرقان نے دریا میں ڈوبنے والے دو نامعلوم لڑکوں کو بچانے کے لیے کوسی ندی میں چھلانگ لگا دی۔ سمیت اور فرقان کی موت کے بعد پورا علاقہ غم میں ڈوبا ہوا ہے۔ قریبی دیہات فرقان کی ہمت کے چرچے لگاتار کئے جا رہے ہیں۔ گاؤں کے لوگ آپس میں بحث کر رہے ہیں ’’فرقان نے انسانیت کا مظاہرہ کیا اور انسانیت ہی سب سے بڑا مذہب ہے۔‘‘