اسلام آباد: ثناء اور داؤد کی محبت اور شادی لوگوں کے لئے محبت کی ایک عام مثال بن گئی ہے، جہاں لوگوں نے محبت کو صرف پیسوں اور دولت کے ترازو میں تولا وہیں اب ان کی مثال دی جاتی ہے، کیونکہ آج کے دور میں کسی بھی لڑکی کے لئے یہ آسان نہیں ہے کہ کسی ایسے شخص کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردے جو معذور ہو گیا ہے، مگر ثناء نے یہ ثابت کیا کہ محبت معذوری کی شکار نہیں ہوتی بلکہ وہ لوگ معذور سوچ کے حامل ہیں جو مشکل وقت میں اپنے پیارے کا ساتھ نہ دیں .

ثناء کے لئے بھی داؤد سے شادی کرنا آسان نہ تھا، یہ دونوں دور کے رشتے دار تھے، گھر والوں کا آپس میں کم ہی ملنا جلنا تھا، اور داؤد کے ساتھ ہونے والے حادثے کے بعد ثناء کا اس سے ہسپتال میں ملنے جانا، گھر والوں کو کھٹکتا تھا، پھر شادی کا مطالبہ کرنا جس پر ثناء کے مطابق: میرے والد میری شادی داؤد سے کرنے کے حق میں نہیں تھے، میں نے زبردستی کرکے، گھر سے بھاگ کر خالہ کے گھر جا کر اس ضد کو پورا کیا، اس وقت میرے والد یقیناً مجھ سے خفاء تھے .

مگر مجھے لگتا تھا کہ اس وقت داؤد کو میری سب سے زیادہ ضرورت ہے اور میری محبت اتنی کمزور نہیں تھی کہ میں اس کو مشکل وقت میں چھوڑ دوں، اس لئے میں نے اس سے شادی کی.اب چونکہ ہر کوئی ثناء کے اس قدم کو خوب سراہتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، وہیں اس کے والد بھی مان گئے ہیں اور ثناء کے گھر اس سے ملنے آئے ہیں. جہاں ثناء اور داؤد کے باقی رشتے دار موجود ہیں، وہیں ثناء کے والد بھی دیکھنے والوں کا شکر ادا کر رہے ہیں.ثناء اور داؤد کی شادی پر اس کے والد نے رضامندی نہ ہونے کی وجہ سے شرکت نہیں کی تھی، مگر اب یہ بیٹی کے اس فیصلے پر رضامند ہیں.