ٹک ٹاک پر شادی کی مشکلات اور طلاق کا ذکر کرنے والی ثانیہ جنھیں ان ہی کے شوہر نے قتل کر دیا

1,511

اُن کے بیگ تیار تھے اور وہ آزاد ہونے کو تیار تھیں۔وہ شاید 21 جولائی کا دن ہونا تھا جب 29 سالہ ثانیہ خان نے اپنی ناخوشگوار شادی کے خاتمے پر اپنے آبائی علاقے چٹانوگا میں اپنی زندگی کی نئی ابتدا کرنے کے لیے امریکی شہر شکاگو کو خیرآباد کہنا تھا۔لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ان کی میت ایک تابوت میں اُن کے گھر ٹینیسی پہنچا دی گئی۔اس سے تین دن پہلے، پولیس نے ثانیہ خان کو شکاگو میں اُن کے گھر کے دروازے پر بے حس و حرکت پایا تھا۔ یہ وہی گھر تھا جس میں وہ اپنے سابقہ شوہر، 36 سالہ راحیل احمد کے ساتھ رہتی تھیں۔ ان کے سر کے پچھلے حصے میں گولی لگی تھی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھیں۔پولیس کے پہنچنے پر راحیل احمد نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔شکاگو سن ٹائمز کے ساتھ شیئر کی گئی پولیس رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا ’طلاق کے مرحلے سے گزر رہا تھا‘ اور ثانیہ خان سے علیحدہ ہو کر راحیل احمد امریکہ کی ایک دوسری ریاست میں رہنے چلے گئے تھے لیکن پھر وہ تقریباً 700 میل کا سفر کر کے ’اپنی شادی کو بچانے کے لیے‘ اپنے سابقہ گھر واپس آئے تھے۔

س طرح نوجوان پاکستانی نژاد امریکی فوٹوگرافر ثانیہ خان کی زندگی کا المناک آخری باب قتل اور خودکشی ٹھہرا۔ ثانیہ خان کو حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر جنوبی ایشیائی برادری میں شادی کے صدموں اور طلاق کی بدنامی کے خلاف لڑنے والی خواتین کی آواز کے طور پر پہچان ملنے لگی تھی۔

ثانیہ کی موت نے اُن کے دوستوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور اس کا اثر ان کے اُن فالوورز پر بھی ہوا ہے جو یہ کہتی ہیں کہ انھیں اپنی چہرے مہرے کی وجہ سے ناخوشگوار رشتے میں دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ان کی یونیورسٹی کی ایک دوست بریانا ولیمز نے بتایا کہ ’وہ بہت زیادہ پُرجوش تھیں اور اس نے کہا تھا (عمر کا) 29 واں سال اُن کا سال ہونے والا ہے اور یہ کہ اُن کے لیے ایک نئی شروعات ہونے والی ہے۔‘دوستوں کے لیے ثانیہ خان کی موجودگی خوشی کا باعث ہوا کرتی تھی، وہ ہمیشہ مثبت سوچ اور بے لوث خدمت کے جذبے سے سرشار رہتی تھیں۔31 سالہ مہرو شیخ، ثانیہ خان کو اپنی اچھی دوست کہتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ثانیہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کو تیار رہتی تھیں۔ ’یہاں تک کہ جب وہ اپنی زندگی میں واقعی مشکل وقت سے گزر رہی تھیں تب بھی وہ کال کرتیں اور پوچھتیں کہ کیا حال چال ہے۔‘انسٹاگرام کو انھوں سب سے پہلے اپنا عوامی پلیٹ فارم بنایا اور اپنے فوٹو گرافی کے شوق کے بارے میں لکھتے ہوئے انھوں نے اپنے بارے میں لکھا: ’میں لوگوں کو خود سے محبت کرنے اور کیمرے کے سامنے ایک دوسرے سے محبت کرنے میں مدد کرتی ہوں۔‘ثانیہ خان اکثر زیادہ پیسے دینے والے گاہکوں کے لیے شادیوں، زچگی کی شوٹنگز، بے بی شاورز اور دیگر اہم مواقع کی تصویر کشی کرتی تھیں، اس کے ساتھ اپنے بعض دوستوں کے لیے بھی وہ یہ کام کیا کرتی تھیں۔
مز شیخ کہتی ہیں کہ ’وہ کیمرہ کے پیچھے زندہ ہو جاتی تھی۔ اس کے پاس لوگوں کو کیمرے کے سامنے پُرسکون بنانے، غیر بناوٹی جذبات اور خوشی کو قید کرنے کی مہارت تھی۔‘اس دوران وہ اپنی زندگی میں اِسی قسم کی خوشی کی متلاشی تھیں۔ احمد کے ساتھ تقریباً پانچ سال تک ڈیٹ کرنے کے بعد ان دونوں نے جون 2021 میں شادی کی تھی اور وہ شکاگو چلے گئے تھے۔ان کے بچپن کے ایک دوست نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس شادی پر بہت خرچہ کیا گیا تھا، وہ شاندار پاکستانی شادی تھی۔ لیکن یہ شادی جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر کی گئی تھی۔‘ثانیہ خان کے دوستوں کا دعویٰ ہے کہ راحیل احمد کو طویل عرصے سے ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا تھے۔ یہ جوڑا شادی سے پہلے زیادہ تر فاصلاتی رشتے میں رہا تھا اور اسی وجہ سے دوستوں کا کہنا ہے کہ اُن کے درمیان عدم مطابقت کی باتیں واضح طور پر سامنے نہ آ سکیں۔ان کی دوست نے کہا کہ اُن کے درمیان مسائل گذشتہ دسمبر میں اس وقت سامنے آئے جب ثانیہ خان نے انھیں بتایا کہ احمد کو ذہنی صحت کے مسائل ہیں اور اس لیے وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ اس کے متعلق بات کرنے کے لیے بی بی سی نے احمد کے خاندان تک پہنچنے کی کوشش کی لیکن پہنچنے سے قاصر رہا۔دوسری جانب ثانیہ خان کے خاندان سے ثانیہ کی دوستوں کے توسط سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن انھوں نے اس بابت بات کرنے سے انکار کر دیا۔وائلنس پالیسی سینٹر کے مطابق امریکہ میں ہر ہفتے تقریباً ایک واقعات ہوتے ہیں جن میں قتل کے بعد خودکشی کر لی جاتی ہے اور اس نوعیت کے کیسز میں سے تقریباً دو تہائی میں قریبی ساتھی شامل ہوتے ہیں۔گھریلو تشدد پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جب کوئی رشتہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے تو ایسے میں خواتین کو ان کے ہی ساتھی (شوہر) کے ہاتھوں مارے جانے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ثانیہ خان کی دوستوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس دسمبر میں پیش آئے واقعات نے ثانیہ کو اپنی ناخوشگوار شادی کے بارے میں کُھل کر بولنے پر آمادہ کیا ورنہ اس سے قبل وہ اپنے تعلقات کی تفصیلات کو پوشیدہ رکھ رہی تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ ثانیہ خان نے اپنی شادی کے بعد والی جدوجہد کے بارے میں بات کی، انھیں بتایا کہ ان کا شوہر ان کے ساتھ سو نہیں رہا تھا اور اکثر عجیب و غریب سلوک کرتا تھا، وہ ڈاکٹر کی مدد لینے یا علاج کے لیے اُن کی درخواستوں سے انکار کرتا رہا تھا۔لیکن دوستوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے ثانیہ کو شادی توڑ دینے کا مشورہ دیا جبکہ کچھ دوستوں نے انھیں اس مشکل رشتے کو نبھانے کی تاکید کی۔26 سالہ مز ولیمز نے کہا کہ اُن کی دوست (ثانیہ) اُس وقت پھٹ پڑیں جب وہ مئی میں شکاگو میں آخری بار ملے تھے۔انھوں ثانیہ خان سے اپنی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس نے مجھ سے کہا تھا کہ طلاق کو شرمناک عمل سمجھا جاتا ہے اور یہ کہ وہ انتہائی اکیلی ہو گئی ہیں۔‘ اس نے اس پر ‘لوگ کیا کہیں گے’ کا جملہ استعمال کیا تھا جسے ایسے معاملے میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ثانیہ کو اس کا براہ راست تجربہ اس طرح بھی تھا کہ ان کی طلاق یافتہ والدہ نے ان کی پرورش کی تھی۔ انھیں براہ راست اس کا تجربہ تھا کہ جن خواتین کی طلاق ہو جاتی ہے انھیں جنوبی ایشیائی لوگ کسی بدنما داغ کی طرح دیکھتے ہیں۔شکاگو میں قائم ایک تنظیم ’اپنا گھر‘ کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نیہا گل نے کہا کہ ’متاثرہ خاندان پر بہت زیادہ ثقافتی دباؤ ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔‘

مز گل نے کہا کہ بہت ساری جنوبی ایشیائی برادریوں میں خواتین کو کمتر سمجھا جاتا ہے اور انھیں کنٹرول کرنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے۔انھوں نے مزید کہا: ’ثقافتیں بہت فرقہ وارانہ ہیں، اس لیے کہ یہ کسی شخص کی حفاظت اور بہبود پر خاندان یا برادری کو ترجیح دیتی ہے۔اور پھر ثانیہ نے اپنی کہانی کو ٹک ٹاک پر شیئر کرنا شروع کیا اور خود کو اپنی ہی ایشیائی کمیونٹی میں ’کالی بھیڑ‘ کے طور پر بیان کیا۔انھوں نے ایک پوسٹ میں لکھا: ’ایک جنوبی ایشیائی خاتون کے طور پر طلاق سے گزرتے ہوئے کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ زندگی میں ناکام ہو گئے ہیں۔‘ایک دوسری پوسٹ میں انھوں نے لکھا: ’میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا کہ اگر میں نے اپنے شوہر کو چھوڑ دیا تو میں شیطان کو ’جیتنے‘ دوں گی۔۔۔ کہ میں ایک طوائف جیسا لباس پہنتی ہوں اور اگر میں اپنے آبائی شہر واپس گئی تو وہ خود کو ہلاک کر لیں گے۔‘اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اُن کی یونیورسٹی کی ایک اور دوست 28 سالہ نیٹی نے کہا کہ انھیں اب بھی واضح طور پر یاد ہے جب خان پہلی بار ٹک ٹاک پر وائرل ہوئی تھیں۔’وہ میرا فون پھاڑے دے رہی تھی اور کہہ رہی تھی میں یہی کرنا چاہتی تھی: اپنے رشتے کے بارے میں بات پھیلانے اور اپنی برادری کی خواتین کو اپنی زہریلی شادیوں کو چھوڑنے کی ترغیب دینے والی۔‘نیٹی کے مطابق ہر پوسٹ کے ساتھ خان کو تسلی اور طاقت ملی، یہاں تک کہ انھیں اپنی شادی کے ٹوٹنے کو نشر کرنے پر ’ردعمل‘ کا سامنا کرنا پڑا۔اُن کی موت کے وقت 20,000 سے زیادہ لوگ ٹک ٹاک پر ثانیہ خان کو فالو کر رہے تھے۔

35 سالہ بسمہ پرویز ان کی فالوورز میں سے ایک ہیں اور وہ پاکستانی نژاد امریکی مسلمان خاتون ہیں۔انھوں نے کہا: ’مجھے یاد ہے، [بعد] میں نے ان کی جب پہلی ویڈیو دیکھی تھی تو میں نے صرف ان کے لیے دعا کی تھی۔‘’ان حالات میں خواتین سے کہا جاتا ہے کہ وہ صبر کریں اور بدسلوکی والے تعلقات میں صبر مناسب جواب نہیں ہے۔‘انھوں نے اپنی ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں ثانیہ خان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا جو ٹک ٹاک پر بہت سے لوگوں میں شیئر کیا گیا۔اس کے بعد سے اس کے متعلق بات چیت میں تیزی آئی ہے۔شکاگو میں تنظیم ’اپنا گھر‘ نے کہا ہے کہ وہ اس ماہ کے آخر میں ثانیہ کی موت کا ایک ماہ مکمل ہونے پر ایک ورچوئل پینل ڈسکشن منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔مز کہتی ہیں کہ ’ہر کوئی اس پر چپ ہے، لیکن سوشل میڈیا آپ کو یہ سمجھنے میں مدد کرتا ہے کہ دنیا بھر میں یہ کتنا بڑا مسئلہ ہے۔‘’ہم خواتین کو ہمیشہ اپنی حفاظت کے لیے کہتے ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ بیٹوں کی پرورش اس طرح کی جائے کہ وہ خواتین کا احترام کریں۔ یہ تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے اور ہر گھر کو یہ تبدیلی لانی ہو گی۔‘

  • سیم کیبرل بی بی سی نیوز واشنگٹن