سعودی عرب کی وزارت اسلامی امور، دعوت و رہنمائی نے اٹھارہ نمازیوں کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے اور وادی الدواسر میں ایک مؤذن کی موت کا واقعہ ریکارڈ پر آنے کے بعد بدھ کو مزید دس مساجد بند کرا دیں۔

الحرمین الشریفین پریزیڈنسی کے مطابق وزارت اسلامی امور نے بتایا کہ مساجد کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ نمازیوں میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز ریکارڈ پر آنے کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

یاد رہے تین روز کے دوران مملکت بھر میں 32 مساجد عار ضی طور پر بند کی جاچکی ہیں۔ ان میں سے تیرہ سینی ٹائزنگ کے بعد کھول دی گئی ہیں۔ دس مساجد پیر اور بارہ مساجد منگل کو عارضی طور پر بند کی گئی تھیں۔

وزارت اسلامی امور نے بتایا کہ مکہ مکرمہ، الجوف اور جازان ریجن کی ابو عریش کمشنری میں دو، دو مساجد بند کی گئیں جبکہ مدینہ منورہ، حدود شمالیہ کے شہر عرعر، مشرقی ریجن کی کمشنری الاحسا اور عسیر ریجن کی سراۃ عبیدہ کمشنری میں ایک مسجد بند کی گئی-

وزارت اسلامی امور نے تمام نمازیوں سے اپیل کی کہ اگر کوئی بھی نمازی اپنے اندر کرونا وائرس کی کوئی علامت محسوس کرے تو کرونا ٹیسٹ کے بغیر مسجد جانے سے گریز کرے۔ جب تک یہ یقین نہیں ہوجائے کہ وہ کرونا میں مبتلا نہیں ہے وہ گھر پر ہی نماز ادا کرتا رہے۔

وزارت اسلامی امور نے مزید کہا کہ ’اس حوالے سے لاپروائی برتنے کا نتیجہ دیگر نمازیوں کو خطرات سے دوچار کرنے کی صورت میں برآمد ہوگا۔ سب لوگ یہ بات مدنظر رکھیں کہ حفاظتی تدابیر کی پابندی دینی فریضہ اور شہری عمل ہے‘۔

وزارت اسلامی امور نے نمازیوں سے پھر اپیل کی کہ اگر وہ کسی مسجد میں کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد میں کوتاہی اور لاپروائی کا مشاہدہ کریں تو پہلی فرصت میں 1933 پر رابطہ کرکے مطلع کردیں۔