• 425
    Shares

اشٹریہ ہندو پریشد (بھارت) نامی تنظیم سے جڑے کچھ لوگوں نے تاج محل کے مغربی دروازے پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا کہ اگر بھگوان کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل احاطہ میں داخل نہ ہونے دینے والے اے ایس آئی اسٹاف کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی تو تاج محل کو بند کر دیا جائے گا۔ تنظیم نے اے ایس آئی (آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا) کے افسران کو اس کے اسٹاف اراکین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کرشن کی شکل میں پہنچے مہمان کی بے عزتی کی ہے، انھیں معاف نہیں کیا جا سکتا۔

اس واقعہ کے تعلق سے آثار قدیمہ نگراں (آگرہ سرکل) وسنت سورنکار کا کہنا ہے کہ بغیر قبل اجازت کے کسی بھی محفوظ یادگار پر تشہیری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوانین و ضوابط کو مدنظر رکھتے ہوئے کرشن کی شکل اختیار کیے شخص کو تاج محل میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اے ایس آئی افسران کا کہنا ہے کہ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا ہے جب رام دوپٹہ پہنے لوگوں کے گروپ کو تاریخی یادگار میں داخلے سے روک دیا گیا تھا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔