توہین مذہب کے الزام میں سیالکوٹ میں غیر ملکی شہری کو ہلاک کر کے آگ لگا دی گئی

3

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام میں ایک سری لنکن شہری کی ہلاکت کے کیس میں پولیس نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جمعے کو سیالکوٹ میں ایک مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں ایک غیر ملکی شہری کو تشدد کر کے ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش کو آگ لگا دی تھی۔پولیس کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ مرکزی ملزم کو مبینہ طور پر ویڈیو میں تشدد کرتے اور اشتعال دلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، ‘جن کے کردار کا تعین سی سی ٹی وی فوٹیج سے کیا جا رہا ہے۔’ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اس سے پہلے سیالکوٹ پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت پریا نتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے۔ یہ سیالکوٹ کے وزیر آباد روڈ پر واقع ایک نجی فیکڑی میں بحثیت ایکسپورٹ مینیجر کے خدمات انجام دے رہے تھے۔سیالکوٹ میں ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک انتہائی بری طرح جلی ہوئی لاش لائی گئی تھی۔ ان ذرائع کے مطابق ‘لاش تقریباً راکھ ہی بن چکی ہے۔‘

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’سیالکوٹ میں مشتعل گروہ کا ایک کارخانے پر گھناؤنا حملہ اور سری لنکن مینیجر کا زندہ جلایا جانا پاکستان کے لیے ایک شرمناک دن ہے۔ میں خود تحقیقات کی نگرانی کر رہا ہوں اور دوٹوک انداز میں واضح کر دوں کہ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں دی جائیں گی۔ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی شرمناک واقعہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے ماورائے عدالت اقدام قطعاً ناقابل قبول ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے سول ایڈمنسٹریشن کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔

اس سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب کے فوکل پرسن اظہر مشوانی نے ٹویٹ کی تھی کہ ’سیالکوٹ واقعے میں ملوث 50 درندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ آر پی او اور کمشنر گوجرانوالہ سیالکوٹ میں ہیں اور انکوائری کر رہے ہیں۔ انکوائری 48 گھنٹے میں مکمل کر لی جائے گی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج اور نادار کے پاس چہرے شناخت کرنے والی ٹیکنالوجت کی مدد سے واقعے کے تمام ذمہداران کو پکڑا جائے گا۔‘

سوشل میڈیا پر اس وقت کئی ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ سیالکوٹ وزیر آباد روڈ کی ہیں۔ان ویڈیوز میں ایک شخص کی جلی ہوئی لاش کو دیکھا جاسکتا ہے اور کچھ ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص کو جلایا جارہا ہے۔پولیس کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔