توبہ ! مسلمان کا ہی مسجد پر ناجائز قبضہ بيڑ میں مسجد مہدویہ پر ہوئےناجائز قبضہ کو فوری برخاست کرنے کا مطالبہ

0 7
لاتور (محمد مسلم کبیر) مساجد پر فرقہ پرستوں کی نظر یا ناجائز قبضہ کرنے، مسجدکے انہدامی کی خبریں سن کر غیرت مند مسلمان کا دل و دماغ کھول جاتا ہے۔اس کے حصول کے لئے جلسے ،جلوس، مکتوبات پیش کر کے حکومت کو بیدار کیا جاتا ہے۔لیکن اگر کوئی مسلمان ہی مسجد پر نہ جائز قبضہ کر کے اس اراضی کو اپنے مصرف لے کر مسجد کو واپس کرنے سے گریز کرے تو کیا کیا جا سکتا ہے؟ کچھ اسی طرح کا واقعہ ہے  بيڑ  شہر کی ایک مسجد کا۔۔! بيڑ شہر کے جونا بازار علاقے کے لوہار گلی میں  مشہور حویلی کے سامنے واقع قدیم مسجد مہدویہ پر مسلمان شخص نے ہی ناجائز قبضہ کر کے مسجد کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اس مسجد  مہدویہ کا مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے بيڑ گزٹ میں اندراج ہے۔ اس کے باوجود اس مسجد پر ناجائز طور پر قابض ہو کر ایک مسلمان ہی اللہ کے گھر کی حیثیت کی بحالی سے گریز کر رہا ہے۔
بيڑ شہر میں مہدویہ قوم سے تعلق رکھنے والے مہدوی پہلے جونا بازار علاقے کے لوہار گلی اور اطراف آباد تھے۔اسی علاقے کے مشہور حویلی کے روبرو قدیم مسجد مہدویہ آباد تھی تاہم اس برادری کے چند لوگ اپنی مصروفیات،  ملازمت اور رہائشی جگہ کے مسئلوں کے درپیش شہر کی نئی آبادیوں میں جا کر بس گئے۔ لہٰذا مسجد کی طرف عدم  توجہی کی وجہ سے بوسیدہ اور غیر آباد ہوتی گئی۔ لیکن جب اس برادری کے لوگ اپنی مسجد کو تعمیر و ترمیم کے بعد آباد کرنے کا ارادہ کیا تو مسجد کے پڑوسی مسلمان نے اپنا ناجائز قبضہ برخاست کرنے اور مسجد کو واپس کرنے سے انکار کیا۔ہر ممکن کوشش کے باوجود قابض کے مسلسل انکار کے بعد ایل ایم ایم گروپ کے قومی صدر ڈاکٹر سیّد دلاور فروخ نے مہاراشٹر اسٹیٹ کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، ریاستی وقف بورڈ کے سی ای او انیس شیخ، ممبر پارلیمان پریتم منڈے، رکن اسمبلی سندیپ شرساگر کو مکتوب پیش کر کے بيڑ  شہر کے  قدیم مسجد مہدویہ پر موجود ناجائز قبضہ جات کو فوری برخاست کر کے مسجد کی تعمیر و ترمیم کے ساتھ مسجد کی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔