تنہائی کا شکار ہیں لیکن ہم بین الاقوامی سطح پر تجارت کرنے کی صلاحیت ہے: طالبان

310

اگرچہ اگست 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد کابل میں اقتدار پر قبضہ کیے ہوئے ایک سال گزر چکا ہے تاہم طالبان حکومت میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے بدھ کو اعتراف کیا کہ طالبان حکومت اب بھی عالمی تنہائی کا شکار ہے۔امیر خان متقی نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر کاروبار اور تجارت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ ایسے ہی کام کرتی ہے جیسے اسے عالمی سطح پر سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

امیر خان متقی نے اس سے قبل عالمی برادری سے طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، تاکہ ماضی میں جو کچھ ہوا اسے دہرایا نہ جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک نےایک جامع حکومت تشکیل دی ہے جو افغان عوام کو متحد کر سکتی ہے اور انہیں سلامتی اور خوشحالی فراہم کر سکتی ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ افغانستان میں معاشی نظام اور حکومتی اداروں کو کمزور کرنے کے لیے بہت سی سازشیں شروع کی گئیں اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا استحکام پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ طالبان نے 15 اگست 2021 کو 20 سال بعد امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ اس کے بعد دارالحکومت کابل بغیر کسی لڑائی کے مسلح گروپ کے ہاتھوں میں چلا گیا تھا۔ امریکی انخلا کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے بیشتر حصے پر طالبان کا کنٹرول قائم ہونا شروع ہوگیا تھا۔امریکا نے اگست 2021 میں افغانستان سے اپنی فوجی دستوں کو مستقل طور پر واپس بلانے کا عمل ختم کر دیا۔افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے فوری بعد طالبان کے ہاتھوں کابل کا سقوط ہوگیا اور سابق صدر اشرف غنی بھی ملک سے فرار ہوگئے۔تب سے ٹوٹا ہوا ملک مختلف اصولوں اور نقشوں کے تحت زندگی گزار رہا ہے۔ اداروں کے خاتمے سے لے کربنیادی آزادیوں پر قدغنوں نے پوری افغان عوام کے بہتر زندگی کے خوابوں کو دفن کر دیا ہے۔