"تم ہی غالب رہوگے ، اگر تم مومن ہو۔”

از قلم۔۔۔تحسین عامر ناندیڑ

256

کیا آج آپ محسوس نہیں کرتے کہ ہمارے ملک کے حالات کتنے خراب ہیں ۔۔؟زندگی بذات خود آزمائش ہے، لیکن آج توزندگی مصیبت بن گئ ہے!عام آدمی صبح سے شام تک روزی کمانے کے چکر میں پڑا رہتا ہے لیکن اتنی آمدنی بھی نہیں ہوتی کہ بآسانی پیٹ بھر سکے ۔مہنگائی روز دوگنی اور چوگنی بڑھ رہی ہے ۔بے روزگاری عام ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ انسان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے عزت نہیں ہے ۔جو چاہے اس کو ذلیل کر سکتا ہے ۔ظلم کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔رشوت کا بازار گرم ہے اور لوگوں کو عملا ظلم وستم کا سامنا ہے ۔حکومت اقتدار میں آتی ہے تو خیال کرتی ہے کہ ایک جاگیر ہاتھ آئی ہے، اس کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا ہے۔
اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ہم امت مسلمہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے آزاد ہوگۓ ہیں اور اس کے قوانین کی پیروی نہیں کر رہے ہیں۔

اللہ کے قانون سے مراد یہ نہیں کہ لوگوں کے ہاتھ کٹ جائیں ۔پیٹھ پر کوڑے برسیں، بلکہ شریعت کے نفاذ کے معنی یہ ہیں کہ کوئی کسی کا محتاج نہ رہے۔کوئی انسان کسی کا غلام نہ ہو، ہر انسان کی ضرورت پوری ہو ۔سارے انسانوں کو اللہ کی بندگی کرنے کی آزادی ہو۔ انسان انسان کا حکمران بن کر نہ بیٹھے۔اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔اس نے امت کو اپنا پیغام پہنچانے کے لیے ، اپنی بندگی کی طرف بلانے کے لیے انسانی زندگی کی تعمیر کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر ہم نے یہ کام چھوڑ دیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہوگیا ہے۔ اس نے اپنی کتاب میں کھول کر واضح طور پر یہ بیان کردیا ہے کہ جس قوم اور ملت کو وہ اپنا یہ کام سپرد کرے اور وہ اسے انجام نہ دے تو پھر اس کا کیا حشر ہوا کرتا ہے ۔وہ جس امت کو اپنی کتاب دیتا ہے ، اس کو یہ ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ اس کتاب کو کھول کر انسانوں کے سامنے بیان کرےاور ان تک اس کا پیغام پہنچاۓ اور اس کو چھپا کر نہ بیٹھ جاۓ۔

اللہ تعالی نے یہودیوں کی مثال ہمارے سامنے پیش کی ہے ۔ان کو بھی اللہ تعالی نے کتابیں ہدایت دی اور وہ کام جو اس نے ہمارے سپرد کیا وہی کام ان کے سپرد بھی کیا تھا جب انہوں نے اس کام کو نہیں کیا تو اللہ تعالی نے ان پر اپنی لعنت مسلط کی ۔لعنت کے معنی ہیں کہ اس نے اپنی رحمت سے ان کو دور کر دیا پھر فرمایا "ہم نے ان کے دل سخت کردیےاور ان پر کسی اچھی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ ہم نے ان پر باہر کی قوموں کو لاکر مسلط کردیا۔ وہ دوسری قوموں کے غلام بن کر رہ گۓ۔ اور پھر ان پر ہمیشہ کی لیےذلت اور مسکنت طاری کردی۔ "

ہماری حالت بھی کچھ اس سے مختلف نہیں ہے ۔دوسری قومیں ہمارے اوپر مسلط ہیں اور انہوں نے مسلمانوں کو تر نوالہ سمجھ رکھا ہے ہمارے وسائل اور ہر چیز کو لوٹ رہے ہیں ۔ہمارا کوئی وزن نہیں ہے ۔معاشی تعلیمی اور سیاسی سطح پر ہم کمزور ، ذلت کا شکار ہیں۔ حالانکہ ہمارے ہاں وعظ و نصیحت کی کمی نہیں ہے ۔درس ہوتے ہیں تقاریر ہوتی ہیں قرآن پڑھا جاتا ہے رمضان میں دعائیں بھی ہوتی ہیں لاکھوں قرآن مجید ختم ہوتے ہیں لیکن آنکھ میں آنسو نہیں آتے دل نرم نہیں پڑتے اخلاق نہیں بدلتے قوم کی حالت نہیں بدلتی ۔یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ دلوں میں سختی پائی جاتی ہے یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اللہ سے اپنے عہد کو پورا نہیں کیا، اور ہم اب بھی اس عہد کو پورا نہیں کر رہے ہیں ۔

ملک کی نجات کا راستہ بھی یہی ہے اور امت اور ملت کی نجات کا راستہ بھی یہی ہے ۔جب ہم اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں گے اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچ جائیں گے پھر اللہ تعالی ہمیں دنیا میں بھی اقتدار بخشے گا اور آخرت کی لازوال نعمتوں سے بھی سرفراز فرمائیگا۔ اس کا وعدہ ہے۔۔”اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوی کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔”(الاعراف 96)
آئیے عہد کرتے ہیں اللہ سے کیے وعدے کو پورا کرنے کا۔