• 425
    Shares

چنئی ،8 ستمبر (یو این آئی) تمل ناڈو اسمبلی میں بدھ کے روزاہم اپوزیشن اے آئی اے ڈی ایم کے اور اس کی حلیف بھارتیہ جنتا پارٹی کے واک آؤٹ کے درمیان مرکزی حکومت سے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) واپس لینے کے مطالبہ کے سلسلے میں ایک قرارداد منظور کی گئی۔

وزیراعلیٰ اور ڈی ایم کے کے سربراہ ایم کے اسٹالن نے سی اے اے سے متعلق قرارداد منظور کی جسے متفقہ طور پر صوتی ووٹ سے منظور کیا گیا ۔ اس قرار داد کی مخالفت کرتے ہوئے اے آئی اے ڈی ایم کے اور بی جے پی نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔مسٹرسٹالن نے کہا کہ ڈی ایم کے شروع ہی سے سی اے اے کی مخالفت کرتی رہی ہے اور یہ ملک کے آئین کے سیکولر اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نےالزام لگایا کہ سی اے اے مذہبی بنیادوں پرلوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے اور ملک کی وحدت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے سی اے اے کی بنیاد پر نیشنل پاپولیشن رجسٹر (این پی آر) اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) تیار کرنے کا منصوبہ ترک کرنے کی بھی درخواست کی ہے ۔

مسٹر سٹالن نے کہا کہ مذہب شہریت حاصل کرنے کی بنیاد نہیں ہے اور کوئی بھی قانون مذہبی بنیادوں پر نہیں لایا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ سی اے اے سری لنکا میں تاملوں کے خلاف تھا۔ پناہ گزینوں کو انسان کےطورپردیکھاجاناچاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ جب لوگ بھائی چارے کے ساتھ رہ رہے ہیں تو پھرسی اے اے جیسے قانون کی کیا ضرورت ہے۔

قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے بی جے پی قانون ساز پارٹی کے لیڈر نینار ناگیندر نے کہا کہ یہ قانون ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا ’’ اقلیتی ہندو ، سکھ اور پارسیوں کو پاکستان اور بنگلہ دیش میں خطرہ ہے ۔ اس وہ ہندوستان آ رہے ہیں۔سی اے اے میں مسلمانوں کے خلاف کچھ نہیں ہے‘‘۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔