جاریہ سال جملہ 11,489 کروڑ روپئے سود ادا کیا گیا، سی اے جی کی رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد۔ ریاست میں بڑی حد تک آمدنی گھٹ رہی ہے، کورونا کے بعد کی صورتحال میں توقع کے مطابق سدھار نہیں آیا ہے۔ حکومت نے سال 2020-21 کیلئے تمام اقسام کی آمدنی، قرض، مرکزی حکومت کی امداد کے ذریعہ 1.76 لاکھ کروڑ روپئے حاصل کرنے کا تخمینہ تیار کیا تھا جس کے تحت ڈسمبر کے اختتام تک صرف 59 فیصد آمدنی ہوئی ہے۔ ڈسمبر 2020 تک تمام اقسام کی آمدنی کے شمار کے ساتھ 1,04,311,04 کروڑ روپئے وصول ہونے کا کاگ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے، جس میں 67,149 کروڑ روپئے تمام اقسام کی ٹیکس آمدنی ہے اور 37 ہزار کروڑ روپئے قرض حاصل کرنے کاگ رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ گذشتہ سال ڈسمبر تک 67 فیصد کی آمدنی ہوئی تھی جس کا تقابل کرنے پر جاریہ سال 8 فیصد آمدنی گھٹ گئی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال کی ابتداء میں کورونا بحران سے ریاستی معاشی نظام ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے۔ آمدنی کا تناسب گھٹ جانے کی وجہ سے بانڈس فروخت کرتے ہوئے قرضوں پر انحصار کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں محکمہ فینانس نے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ریاست کے معاشی ڈھانچے کو کوئی نقصان پہنچائے بغیر کامیاب حکمت عملی تیار کی ہے۔ جاریہ سال جی ایس ٹی کے ذریعہ 32,671 کروڑ روپئے حاصل کرنے کا حکومت نے نشانہ مختص کیا تھا تاہم ڈسمبر کے اختتام تک صرف17,553 کروڑ روپئے حاصل کئے گئے ۔ محکمہ اکسائیز کے ذریعہ 16 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا تاہم 19,443 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے توقع کے مطابق مرکزی ٹیکس کا حصہ حاصل نہ ہونے کا کاگ رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے۔ حکومت نے بغیر ٹیکس کے 30,600 کروڑ روپئے آمدنی ہونے کی توقع کی تھی تاہم صرف 2,519,48 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوئی ہے۔ ایک طرف جہاں آمدنی گھٹ رہی ہے وہیں دوسری طرف حکومت پر قرض کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے جاریہ سال صرف 33 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن ابھی تک37 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے۔ نومبر میں ایک روپیہ کا بھی قرض نہیں لیا گیا مگر ڈسمبر میں 10 ہزار کروڑ روپئے تک قرض حاصل کیا گیا۔ گذشتہ سال کی بہ نسبت جاریہ سال ڈسمبر تک 16 ہزار کروڑ کا زیادہ قرض حاصل کیا گیا ہے۔ جاریہ سال حاصل کردہ قرض پر 11,489 کروڑ روپئے ادا کیا گیا ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں