تقسیم کی زیادتیوں کا یادگاری دن ملک کی تقسیم کے سانحے کا بیجا استعمال: کانگریس

145

نئی دہلی: کانگریس نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی فطرت ہے کہ وہ سیاسی فائدے کے لیے ہر موقع کا استعمال کرتے ہیں اور اسی ضمن میں وہ تقسیم کی زیادتیوں کا یادگاری دن ’وبھیسیکا اسمرتی دیوس‘ منا کر ملک کی تقسیم کے سانحے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جے رام رمیش نے اتوار کے روز یہاں ایک بیان میں کہا کہ 14 اگست کو تقسیم کی زيادتیوں کے یادگاری دن کے طور پر منانے کے پیچھے وزیر اعظم کا اصل مقصد انتہائی تکلیف دہ تاریخی واقعات کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس سانحے میں لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان کی قربانیوں کو فراموش نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کی تذلیل کی جائے۔

انہوں نے کہا، "نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کے لیے ملک کی تقسیم کے سانحے کا غلط استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ ویر ساورکر نے دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور جناح نے اسے آگے بڑھایا۔ سردار پٹیل نے لکھا تھا کہ ‘مجھے لگتا ہے کہ اگر تقسیم کو قبول نہیں کیا گیا تو ہندوستان کئی ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے گا۔‘‘

کانگریس کے ترجمان نے سوال کیا کہ کیا آج وزیر اعظم جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کو بھی یاد کریں گے جنہوں نے مسٹر سرت چندر بوس کی مرضی کے خلاف بنگال کی تقسیم کی حمایت کی اور آزاد ہندوستان کی پہلی کابینہ میں شمولیت اختیار کی، جب تقسیم کے دردناک نتائج واضح شکل میں سامنے آرہے تھے۔

انہوں نے کہا، "یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ آج بھی ملک کو تقسیم کرنے کی جدید دور کے ساورکر اور جناح کی کوششیں جاری ہیں۔ انڈین نیشنل کانگریس مہاتما گاندھی، نہرو، پٹیل اور دیگر لیڈروں کی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے قوم کو متحد کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔ نفرت کی سیاست کو شکست ہوگی۔‘‘