تقسیمِ ہندوستان کی پہلی باقاعدہ تجویز کس نے پیش کی تھی؟

1,049

24 دسمبر 1926 اردو کے مشہور ادیب اور صحافی عبدالحلیم شرر کی تاریخ وفات ہے۔ وہ ایک جانب تو اپنے تاریخی ناولوں کی وجہ سے مشہور ہیں، دوسری جانب اپنی صحافت اور اپنی اس تجویز کی وجہ سے ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم مقام کے حامل ہیں جو انہوں نے ہندوستان کو ہندو اور مسلمان دو حصوں میں تقسیم کرنے کے سلسلے میں پیش کی تھی۔

1857 کے یوم آزادی کے بعد ہندوستان کے مسلمان کو سنگین حالات و مسائل کا سامنا کرنا پڑا، نہ صرف مسلمان بلکہ انگریز بھی یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل صرف اسی صورت میں محفوظ ہو سکتا ہے جب ہندوستان کی تقسیم اس طرح کر دی جائے دو آزاد اور خود مختار ریاستیں قائم ہو جائیں، ان میں سے ایک مسلم اکثریتی ریاست ہو اور دوسری ہندو اکثریتی ریاست۔

اس سلسلے میں سرسید احمد خان پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے 1868 میں بنارس کے کمشنر الگزینڈر شیکسپیئر کے سامنے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ ’اب مجھ کو یقین ہو گیا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں قومیں کسی کام میں دل سے شریک نہ ہو سکیں گی۔ یہ عناد ان لوگوں کے سبب جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں بڑھتا نظر آتا ہے۔‘

24 جون 1958 کو برطانوی پارلیمنٹ کے حکومت ہند سے متعلق ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے برطانوی پارلیمنٹ کے ایک رکن جان برائٹ نے کہا کہ ’ہندوستان جیسے عظیم ملک کو زیادہ دیر تک برطانوی حکومت کے زیر نگیں نہیں رکھا جا سکتا، ہم کو ایک دن اس ملک پر سے اپنا اختیار ختم کرنا پڑے گا، اس لیے ضروری ہے کہ ہندوستان کو ایک سلطنت کے طور پر قائم رکھنے کی بجائے انتظامی بنیادوں پر پانچ علیحدہ علیحدہ پریزیڈنسیوں میں تقسیم کر دیا جائے۔‘

اسی نوع کی ایک تجویز جمال الدین افغانی کی تھی۔ انہوں نے 1879 میں ہندوستان میں ایک مسلم ریاست کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس مجوزہ مسلم ریاست میں وسط ایشیا کی مسلم آزادی والے علاقے، افغانستان اور برصغیر کے مسلم اکثریتی صوبے بھی شامل ہوں۔‘

اسی زمانے میں اسی نوع کی چند اور تجاویز سامنے آئیں جو ڈبلیو ایس بلنٹ، تھیوڈور بیک اورمحرم علی چشتی نے پیش کی تھیں، مگر اس سلسلے کی سب سے اہم تجویز 23 اگست 1890 کو مولانا عبدالحلیم شرر نے پیش کی۔

مولانا عبدالحلیم نہ صرف یہ کہ اردو کے ایک نامور ادیب تھے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے صحافی تھے وہ ایک اردو ہفت روزہ اخبار شائع کرتے تھے، جس کا نام ’مہذب‘ تھا۔

مولانا عبدالحلیم شرر تاریخی ناول نگار تھے اور ان نالوں کے ذریعے اسلام کی عظمت و شوکت پیش کرنے کے سلسلہ میں ایک اہم مقام کے حامل تھے۔

ان کا یہی اختصاص ان کی صحافت میں بھی نظر آتا ہے۔

1890 میں جب ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات عروج پر تھے۔ انہوں نے ان اختلافات کا حل ہندوستان کی تقسیم کی صورت میں پیش کیا۔

چنانچہ انہوں نے اپنے ہفت روزہ ’مہذب‘ کے اداریے میں، جو 23 اگست 1890 کو شائع ہوا، میں تحریر کیا کہ ’حالات کچھ ایسے ہیں کہ کوئی قوم دوسرے فرقے کے جذبات کو مجروح کیے بغیر مذہبی رسوم ادا نہیں کر سکتی نہ ہی عوام میں اتنی رواداری، اور صبر کا اتنا مادہ ہے کہ وہ دوسروں کی توہین کو معاف کر سکیں۔

اگر حالات اس حد تک پہنچ چکے ہیں تو پھر دانش مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہندوستان کو ہندو اور مسلمان دو صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے اور آبادی کا تبادلہ کیا جائے۔

’ہندوؤں کے رویے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو اپنا ہمسایہ نہ بننے دیں اور وہ مندر کی گھنٹیاں مسلم مشرکین (ہندو مسلمانوں کو مشرک سمجھتے ہیں) کو سنانا پسند کرتے ہیں ۔نہ وہ اذان سننے کے روادار ہیں۔

ان حالات میں تقسیم ہند کی تجویز مسلمانوں کے لیے بھی قابل قبول ہو گی کیونکہ وہ ہندوؤں سے بیزاردکھائی دیتے ہیں۔‘

یہ وہی مطالبہ تھا، جو اپنے منطقی اور تاریخی عمل سے گزر کر 50 سال بعد قرارداد پاکستان کی شکل میں سامنے آیا اور پھر ’بٹ کر رہے گا ہندوستان، بن کے رہے گا پاکستان‘ مسلمانوں کے دل کی دھڑکن بن گیا۔

23 اگست کا دن برصغیر کی تاریخ کا ایک یادگار دن بن گیا کہ اس دن قرارداد پاکستان کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔عبدالحلیم شرر 1860 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے تھے۔ نو سال کی عمر میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ کلکتہ چلے گئے اور مٹیابرج میں رہنے لگے۔

انہوں نے عربی، فارسی، انگریزی ،منطق اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ 1875 میں وہ نواب واجد علی شاہ کے یہاں ملازم ہوئے اسی زمانے میں انہوں نے اودھ اخبار لکھنؤ کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کرنا شروع کیا۔1877 میں وہ لکھنؤ لوٹ آئے اور اودھ پنچ کے ادارتی عملے میں شامل ہو گئے۔ یہاں ان کے مضامین کو خوب شہرت ملی۔

وہ اس اخبار سے 1884 تک وابستہ رہے۔اسی دوران انہوں نے ایک ہفت روزہ رسالہ محشربھی جاری کیا۔

1885 میں شرر کا پہلا ناول دلچسپ شائع ہوا۔ ان کے دیگر ناولوں میں ’ملک عبدالعزیز ورجنا،‘ ’حسن انجلینا،‘ ’منصور موہنا،‘ ’فردوس بریں،‘ ’حسن بن صباح،‘ ’ایام عرب،‘ ’مقدس نازنین،‘ ’ڈاکو کی دلہن،‘ ’بدر النسا کی مصیبت،‘ شوقین ملکہ اور یوسف و نجمہ کے نام سرفہرست ہیں۔انہوں نے حضرت جنید بغدادی اور حضرت ابوبکر شبلی کی سوانح حیات، تاریخ سندھ اور اسرار دربار رام پور بھی تحریر کی۔

عبدالحلیم شرر نے کئی رسالے بھی جاری کیے جن میں ’دلگداز،‘ ’مہذب،‘ ’پردۂ عصمت،‘ ’اتحاد،‘ ’العرفان،‘ ’دل افروز،‘ ’ظریف‘ اور ’مؤرخ‘ کے نام شامل ہیں۔۔ (از قلم:عقیل عباس جعفری)