تقریب رسم اجرا : "زوال امت۔جہات، اسباب اور تدارک

59

اردھاپور ( شیخ زبیر ) اردو گھر ناندیڑ میں "زوال امت۔جہات، اسباب اور تدارک”مصنف محمد مشتاق فلاحی کی کتاب کا اجرا عمل میں آیا۔اس پروگرام کو وحدت اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے منعقد کیا گیا تھا۔پروگرام کا آغاز حافظ عبد الکریم (امام مسجد ابو بکر صدیق، اردھاپور) کی قرات سے ہوا بعد ازاں برادرم منیب نے کلام اقبال سے سامعین کو محظوظ کیا۔

کتاب کے مصنف محمد مشتاق فلاحی کا تعارف کراتے ہوئے صدر اردو پریس ناندیڑ جناب الطاف ثانی صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آپ نے کہا کہ اب تک ہمیں مولانا کے خطابات سننے کا موقع ملا جو روایتی انداز سے ہٹ کر عصری تقاضوں سے مربوط ہوا کرتے ہیں،اب موجودہ حالات میں امت کی رہنمائی کرتے ہوئے اس موضوع پر گراں قدر کتاب تصنیف کی ہے، میں مولانا کو مبارک باد دیتا ہوں۔بعد ازاں مصنف کتاب محمد مشتاق فلاحی نے کتاب کی تصنیف کا پس منظر،غرض وغایت اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت بیان کی۔مولانا نے کہا کہ یہ کتاب اصل میں کار نبوت کی جانب مراجعت کیسے ممکن ہے، اسے واضح کرتی ہے۔اس کے بعد مہمان خصوصی کے طور پر تشریف لائے شہر کی معروف علمی شخصیت مولانا سعد عبد اللہ صاحب ندوی(امام وخطیب نور محمدی مسجد)نے کتاب اور مصنف پر اپنے گراں قدر تاثرات پیش کیے۔مولانا نے کہا کہ یہ وقت کی اہم ضرورت تھی کہ اس موضوع پر امت کی رہنمائی کی جائے۔آپ نے دوران گفتگو مصنف و تصنیف کے حق میں دعائے خیر بھی کی کہ اللہ اس کتاب کو امت کے لیے خیر کا ذریعہ

بنائے۔مہمان خصوصی کے طور پر مولانا نے اپنی گراں قدر کلمات سے حاضرین کی رہنمائی کرتے ہوئے زوال امت کے اسباب اور ان کے حل کے طور اہم مشوروں سے نوازا۔مولانا سید آصف ندوی(صدر جمیعۃ العلماء ناندیڑ)اپنی مصروفیت اور ناگزیر حالات کی وجہ سے شہر سے باہر ہونے کی بناپر اپنا پیغام ارسال کیا کہ”موجودہ عالمی حالات میں باوجود مختلف مسائل کے الحمدللہ کہ یہ امت بانجھ نہیں ہے، مختلف افراد اس سلسلے میں کوششیں کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ تمام ہی کی کاوشوں کو مشکور فرمائے، اسی سلسلے کی ایک کڑی برادر محترم مولانا مشتاق فلاحی صاحب کی کتاب زوال ملت بھی ہے ہے، مجھے امید ہے کہ اس کتاب کے بغور مطالعہ سے ہر شخص ضرور اپنے اندر خود اعتمادی محسوس کرے گا۔ میں اس موقعے پر برادر محترم مولانا مشتاق فلاحی صاحب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس کتاب کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے آمین۔
بعد ازاں اسٹیج پر موجود مہمانان گرامی قدر کے ہاتھوں کتاب”زوال امت۔جہات، اسباب اور تدارک”کا رسم اجرا عمل میں آیا۔
پروگرام کے آخر میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے محترم جناب بسم باللہ شیخ صاحب(نقیب مشرقی مہاراشٹر وحدت اسلامی ہند) نے کتاب کی اہمیت وافادیت اور اس کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔آپ نے کتاب کے متعلق کہا کہ یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔پہلا اور دوسرا باب فقہ، اس کی تاریخ اور فقہی اختلاف و آداب اختلاف پر ہے، تیسرے باب میں مصنف نے مسلمانوں کے دور زوال کا ذکر کیا اور جن شعبوں میں امت زوال کا شکار ہوئی تھی اسے بیان کیا۔نیز مسلکی تشدد، الہیاتی مکاتب فکر کی وجہ سے امت میں در آئے فرقے اور غیر اسلامی تصوف کی وجہ سے امت کا افتراق و انتشار کو واضح کیا۔چوتھے باب کو سیاسی عروج و زوال کے لیے مختص کیا گیا اور ان حالات کا تفصیلی ذکر کیا گیا جن کی وجہ سے مسلمان سی

اسی زوال کا شکار ہوئے۔ کتاب کا آخری باب جو کہ "تدارک”کے نام سے لکھا گیا ہے کے متعلق کہا کہ”یہ باب کتاب کی جان ہے۔اکثر مصنفین نے امت کے زوال پر تو لکھا ہے لیکن تدارک پر کچھ نہیں لکھا، اس کتاب کی خاص بات یہی ہے کہ اس میں موجودہ زمانہ میں امت اپنے عروج کی جانب مراجعت کیسے کر سکتی ہے، اس باب میں رہنمائی کی گئی ہے۔اخیر میں مولانا محمد مشتاق فلاحی کی دعا پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔

اجتماع کو کامیاب بنانے میں ناظم اجتماع ایڈوکیٹ نصیر الدین فاروقی(ناظم وحدت اسلامی ہند، ناندیڑ) اور ریاض خطیب(معان ناظم ضلع ناندیڑ) نیز وحدت اسلامی ناندیڑ کے جمیع ارکان نے خوب محنت کی