تعلیمی محاذ پر کسی بحران میں تجربہ کار اساتذہ کی فوج حرکت میں آجانی چاہئیے

109

ہماری ریزرو فورس کہاں ہے؟ :ہر ملک میں ایک ریزروفورس ہوتی ہے اور جب بھی کوئی بڑی قدرتی آفت جیسے آندھی، طوفان، سیلاب یا زلزلہ وغیرہ آجائے تو وہ فوری طور پر حرکت میں آجاتی ہے۔چند ماہ قبل ہم کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کے دَور سے فارغ ہوئے اور دو سال تک ہم ایک بھیانک دَور سے گزرے جس میں ایک خوردبینی جرثومے نے د ھرتی کے سارے نظام تہہ و بالا کردئے تھے اور اُس دَور میں سب سے زیادہ شدّت سے متاثر ہوا ہمارا تعلیمی نظام۔ اُس کورونا زدہ دَور کے تعلیمی نظام میں طلبہ، والدین اور (خصوصی طور پر)اَن ایڈیڈ یا غیر امدادی تعلیمی اداروںکے اساتذہ سخت متاثر رہے۔

اُن دو برسوں میں تعلیمی نظام کم و بیش پانچ سال پچھڑ گیا۔ اُس دَور میں ویسے تو طلبہ کا سب سے زیادہ نقصان ہوا البتّہ اُن کی ایک بڑی اکثریت کو اس نقصان کا کوئی احساس نہیں ہوا کیوں کہ لگ بھگ سبھی بچّے عموماً یہ سوچتے ہیں کہ وہ اِس دھرتی پر صرف کھیلنے کودنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں اس لیے طلبہ کی ایک بڑی اکثریت نے کورونا کے دَورمیں تعلیم سے چھٹکارے کا جشن منایا۔ جہاں تک والدین کا سوال ہے اُن کی بھاری اکثریت اس بات پر مطمئن تھی کہ اُنھیں فیس ادا کرنے سے چھٹکارہ مل گیا۔ اور اب اُن کے بچّے گھر چلانے کے لیے اپنے ابّو کا ہاتھ بٹائیں گے۔ تعلیمی محاذ پر قوم کا شیرازہ بکھر گیا۔ اس قیامت صغریٰ میںہم انتظار کرتے رہے کہ وینٹیلٹر پر جاچکے اس تعلیمی نظام کو بچانے کے لیے ہماری ریزرو فورس حرکت میں آجائے گی۔

ہماری اس ریزرو پولیس فورس کا نام ہے: ہمارے سبکدوش اساتذہ۔ ۲۰/۲۵؍برسوں سے بھی زیادہ عرصے تک تدریسی و انتظامی اُمور کا تجربہ رکھنے والے ہمارے اُن اساتذہ کو اس نازک گھڑی میں میدان میں اُترنا چاہیے تھا۔ مجھے ابھی تک یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان بیدار مغز اساتذہ کو اُن کے ۵۸؍ویں سال میں حکومت اور شعبۂ تعلیم یہ کہتا ہے کہ اب وہ ریٹائر ہوچکے ہیں، بلکہ ناکارہ ہوچکے ہیں اور نااہل بھی اور اساتذہ اس حکم کو من و عن قبول کرلیتے ہیں۔

ارے بھئی! ۹۴؍برس کے مہاتر محمد ملیشیا کے وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔ ۹۳؍برس کی عمر میں رابرٹ موگابے زمبابوے کے صدر، ۹۰؍سال کی عمر میں شاہ عبد اللہ سعودی عرب کے وزیر اعظم اور ہمارے ملک میں ۸۷؍برس کی عمر میں مُرارجی دیسائی وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔یہ سبھی حکمراں کسی میونسپلٹی کے کارپوریٹر یا نگر سیوک نہیں بنے بلکہ انتہائی اہم ملک کے طاقتور حکمراں بن گئے۔پھر ہمارے صرف ملازمت سے سبکدوش اساتذہ ۵۸؍سال کی عمر میں اپنے آپ کو نااہل کیوں سمجھنے لگتے ہیں۔ وہ حکومت کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے یقین کرلیتے ہیںکہ اب اُن کی متحرک زندگی ختم ہوچکی ہے؟کووِڈ کی بناء پر ہمارا تعلیمی نظام جب تہس نہس ہوگیا تھا اُس وقت ہمارے کتنے سبکدوش اساتذہ نے اپنے محلے کے طلبہ کو تعلیمی دھاراسے جوڑنے کے لیے کچھ اقدام کئے یا اپنی خدمات پیش کیں؟ کتنے ریٹائر پروفیسر ، پرنسپل و اساتذہ کرام نے اپنے علاقے یا بستی کے والدین کی یہ کہہ کر ڈھارس بندھائی کہ کائنات ابھی ختم نہیں ہوئی ہے،زندگی باقی ہے، جد و جہد حیات بھی باقی ہے اور یہ کہ علم و تعلیم سے منہ موڑکر تو ہمارا وجود ہی مٹ جائے گا۔

دراصل اس دھرتی کے سارے انقلابات تقریر و تحریر کے ذریعے ہی رونما ہوئے ہیں اس مسلّم حقیقت کو ہمیں اساتذہ کرام کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے مگر کیا وجہ ہے کہ:
(الف)ہرسال ہماری قوم میں ہزاروں اساتذہ ، پرنسپل و پروفیسر تدریس کی ملازمت سے ریٹائر ہورہے ہیں مگر وہ زندگی سے اور جدّ وجہد حیات ہی سے ریٹائر ہوجاتے ہیں۔
(ب)اُن میں سے کئی دعویٰ بھی کرتے رہتے ہیں کہ وہ ہر روز دو تین ہزار چہرے پڑھا کرتے تھے البتّہ طلبہ کے اُن ہزاروں چہروں پر اُنھوںنے کیا پڑھا، اُس کے تعلق سے ایک آدھ مضمون بھی ضبط تحریر میںنہیں لاتے، اپنے تجربات و مشاہدت کو قلم بند نہیں کرتے۔ ہمیںتو اس کا اشتیاق اب بھی باقی ہے کہ کسی سبکدوش اُستاد یا ہید ماسٹر کاروزنامچہ یا اُن کی ڈائری کتابی شکل میں ہمیں پڑھنے ملے۔
(ج) ان میں سے کچھ اساتذہ شاید یہ کہیںکہ ہر ایک کے لیے یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ قلم کا دھنی بھی ہو اور دل نشین انداز میں اپنے تدریسی و تعلیمی تجربات تحریر کریں؟ ٹھیک ہے،چلئے دل نشین نہ سہی خشک بلکہ کھردرے انداز میںلکھیں مگر لکھیں تو سہی۔ اپنا سارا علم بانٹے بغیر آخر اُنھیں کیسے قرار آجائے گا؟
(د)ہم اساتذہ کے لیے اپنے تربیتی پروگراموں میں اساتذہ کو ہوم ورک کے لیے ہمیشہ یہ کہتے رہتے ہیں کہ وہ ہفت وار، پندرہ روزہ ، ماہانہ، سہہ ماہی یا ششماہی بھی نہیں، تعلیم و علم کے موضوع پر سالانہ ایک مضمون تحریر کرتے ہیں تو اس ملک کے ہر اخبار میںخالص تعلیم کے عنوان پر روزانہ ایک پورا صفحہ دکھائی دے گا۔’طلبہ کا صفحہ‘،’ نوجوانوں کا صفحہ‘،’ آئینہ علم‘، ’درس گاہ‘،’ علمی منظر نامہ‘،’ تعلیم درشن‘ وغیرہ عنوان کم پڑ جائیں گے ایسے کسی صفحے کے لیے۔ جی ہاں قوم کا ہر اُستاد اگر سال میں تعلیم کے عنوان پر ایک مضمون تحریر کرتے ہے تو ایسا ماحول تیار ہوجائے گا جس کی اس قوم کو شدّت سے ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ہم اساتذہ سے یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ آج انٹرنیٹ کی ایک کِلِک پر ساری معلومات دستیاب ہے اس لیے آپ کے ہر مضمون میں ۲۰؍فیصد معلومات اور ۸۰؍فیصد موٹولیشن کی ضرورت ہے۔ جی جہاں طلبہ، والدین و اساتذہ کو جس بات کی ضرورت ہے وہ ہے ذہن سازی و ترغیب۔ انفارمیشن تو گوگل پر مل جاتی ہے البتّہ گوگل کو کیا پڑی ہے کہ وہ ہماری قوم کے اصل مسائل ، ہمارے گھر و معاشرے کا ماحول اور ہمارے طلبہ کی نفسیات کا مطالعہ کرے۔ یہ کام تو کوئی مشین کر بھی نہیں سکتی۔ صرف انسان کر سکتا ہے۔ بیدار مغز انسان جیسے کہ اساتذہ!  (و) دوران ملازمت ہمارے سارے اساتذہ حکومت کے سارے فرمان ، سارے جی آر، ایس ایس کوڈ، آرٹی ای اور اب این ای پی وغیرہ پر من و عن عمل درآمد کرتے آئے ہیں البتّہ حکومت اور محکمۂ تعلیم کے اس فرمان پر کیونکر باورکرلیتے ہیں کہ ۵۸(کچھ ریاستوں میں ۶۰) سال کی عمرمیںریٹائرہونے کے بعد وہ اب ناکارہ ہوچکے ہیںَ؟ محکمۂ تعلیم کے رجسٹر میں وہ صرف تدریس کی ملازمت سے سبکدوش ہوئے ہیں ورنہ اُستاد کبھی ریٹائر ہوتا ہے کیا؟ وہ تو مرتے دم تک اُستاد ہی رہتا ہے۔

(ہ) کووِڈ کا سب سے زیادہ اور شدید اثر تعلیمی نظام پر ہوا ، بدبختی سے مسلم معاشرے میںتعلیم، حصولِ تعلیم، تعلیمی ادارے بلکہ پورے تعلیمی نظام ہی کو غیرضروری سمجھاجانے لگا۔ اُس دَور میں ہمارے یہ قابل ، تجربہ کار اور جہاندیدہ اساتذہ اگر کسی محلے میں ایک آدھ ترغیبی تقریر کرتے یا کسی مقامی اخبار میں ایک آدھ مضمون، حتّیٰ کہ محلے کے چوراہے کے کسی نوٹس بورڈ پر کوئی ترغیبی تحریر لکھتے تو اُن کے نام، مرتبے اور رُسوخ ہی سے ایک مثبت فرق پڑا ہوتا۔ ریٹائرمینٹ کے بعد کے اُن اقدامات و خدمات سے اُن کی پینشن یا گریجویٹی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہوتا، البتّہ قوم کی یہ ایک بڑی خدمت ہوئی ہوتی اور اُس عمل سے یقینی طور پر اُنھیں قلبی سکون بھی ملا ہوتا۔
تعلیمی بحران میں ہمارے سبکدوش اساتذہ کی ریزروفورس کا حرکت میں آنا انتہائی ضروری ہے ورنہ تعلیمی محاذ پر ہم کسی پیش رفت کا تصوّر بھی نہیں کرسکتے۔ (جاری)