تعلیمی شعور کا فقدان بقلم (ایم۔ایم۔سلیم۔ آکولہ۔)

یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی قوم کا عروج و زوال، ترقی اور ارتقاء، اس کی تعلیمی وہ تہذیبی، بلندی اور پستی میں مضمر ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جن قوموں کا علم وہ ادب کا ستارہ چمکتا رہا ہے ان کی شہرت کے ڈنکے بجتے رہے اور جب ان کے اندر کا تعلیمی شعور ختم ہوگیا تو وہ ذلیل اور محکوم ہوگئیں-

ہندوستان کے تناظر میں دیکھیں تو آج مسلمان قوم کا حال سب سے زیادہ پسماندہ نظر آتا ہے۔ حکومتی کمیشن، سچرکمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیٹی، محمودالرحمن کمیٹی، وغیرہ کی رپورٹ ہماری بد حالی کی حقیقت کو عیاں کرتی ہے۔

اس تعلیمی پچھڑے پن کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ مسلمانوں نے تعلیم کو وسیلہ اور ذریعہ سمجھ لیا ہے، جبکہ تعلیم حاصل کرنا ایک فریضہ ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم ایک فریضہ ہے وسیلہ نہیں، اس شعور کو بیدار کرنے کی آج بہت ضرورت ہے۔ خود غرض اور غیر موثر تعلیمی انتظامیہ، ساتھ ہی تعلیمی انتظامیہ فعال اور موثر ہو، جو پل پل بدلتے حالات سے واقفیت رکھتا ہو۔ اولاد کی تعلیمی ترقی سے متعلق والدین کی عدم دلچسپی، تعلیمی ماحول کے بنانے میں سماج اور سماج کے بااثر لوگوں کی بے رخی، معاشی پسماندگی اور غربت، صحیح تعلیمی رہنمائی نہ ملنا وغیرہ وغیرہ۔ مندرجہ بالا اسباب اگر ہماری ترقی کے راستے کی رکاوٹ بن رہے ہیں تو ہم کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے۔

موجودہ زمانے میں اگر ہم ملک ہندوستان کی صورت حال کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ آج مسلمانوں کو کئی محازوں پر لڑائی لڑنی پڑ رہی ہے۔ معاشی مسائل، تعلیمی مسائل، لسانی مسائل، تہذیبی مسائل، آپسی جھگڑے، اپنی شناخت قائم رکھنے کا مسئلہ، وغیرہ وغیرہ ان تمام مسائل سے ہم جھونج رہے ہیں۔ اس میدان میں اگر ہم جنگ جیت سکتے ہیں تو صرف تعلیم ہی ہمارے پاس ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعے ہم سماجی بیداری لا سکتے ہیں۔ اور ان سارے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

تعلیم ایک ایسا مؤثر ہتھیار ہے جو ہر میدان کی جنگ میں ہمیں جیت دلا سکتا ہے۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں تعلیم ہی سب کچھ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے۔ اس کے اثرات سے دنیا گاؤں میں سمٹ گئی ہے۔ اگر ہم موجودہ تعلیم کے ساتھ ساتھ باہم قدم نہیں چلیں گے اور جدید علمی چیلنجوں کو قبول کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار نہیں رکھیں گے تو ہماری صورت حال اور بھی پسماندہ ہوجائیگی۔

ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہم تعلیم سے متعلق کتنے سنجیدہ ہیں؟ تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لیے سماج کے تمام عناصر کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جس طرح عید کے موقع پر والدین عمدہ لباس خریدنے دس دس دکانیں ڈھونڈتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اچھے سے اچھا کپڑا ملے ٹھیک اسی طرح تعلیم کے معاملے میں بھی بہتر اسکول اور ماہر اساتذہ کا انتخاب کیا جائے۔ تاکہ بہتر مستقبل کی تیاری کی جا سکے۔ کیونکہ پرائمری تعلیم اعلیٰ تعلیم کی بنیاد ہیں۔ اگر پرائمری تعلیم پر ہی صحیح توجہ نہیں دی گئی تو بچہ اعلیٰ تعلیم کے لیے میدان میں نہیں اتر سکتا۔ اور اگر اتر بھی جائے تو ٹک نہیں سکے گا۔

اس طرح سماج کے با اثر افراد کو بھی تعلیمی ترقی و بیداری کیلئے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اور ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔

اعلی تعلیم کے میدان میں ہماری نمائندگی صفر کے برابر ہے۔ جب کہ دیگر اقوام کے بچے اس میدان میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے نظر آتے ہیں۔حکومتی سطح سے وہ تمام سہولتیں جو ان کو فراہم ہوتی ہے یہ ہمیں بھی ملتی ہیں۔ پھر بھی ہم پچھڑے نظر آتے ہیں۔

بس ہمارے پاس جس چیز کی کمی ہے وہ ہے ہمارا شعور اور احساس ہے کہ ہم شعوری طور پر تعلیم کے میدان میں ترقی کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور نہ ہی ہمیں اس بات کا احساس ہے کہ ہم تعلیمی اعتبار سے دن بدن پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ اس لئے اعلی اور بہترٰ تعلیم کا حصول ہی ہماری ذلت و پسماندگی کا علاج ہے۔ اور ہماری ترقی کا ضامن ہے۔

بقلم (ایم۔ایم۔سلیم۔ آکولہ۔)9975783737

Coming Soon
Who Will Win Bhokar Assembly Constituency?
Indian National Congress
BJP
Coming Soon
Who Will Win Nanded North MLA Seat
D.P Sawant Congress
Feroz Lala AIMIM
VBA
Shiv Sena
Coming Soon
Who will Win Nanded South MLA Seat
Indian National Congress
ShiveSena
AIMIM
Vanchit Bahujan Aghadi
Dilip Kundkurte Independent

chrome_5UcEeDOjV2
قبلہ یہ کیا کہہ دیا آپ نے۔۔۔۔؟
سقوط حیدرآباد' دکنی اور کشمیری مسلمان

WARAQU-E-TAZA ONLINE

I am Editor of Urdu Daily Waraqu-E-Taza Nanded Maharashtra Having Experience of more than 20 years in journalism and news reporting. You can contact me via e-mail waraquetazadaily@yahoo.co.in or use facebook button to follow me