صرف چار دن قبل والد مرحوم کی تعزیت کے لئے فون کیا علیک سلیک کے بعد مرحوم کے تعلق سے اُنہوں نے تفصیلات بتائیں۔گفتگو کے دوران صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔ لیکن ان چار چھہ دنوں میں ایسا کیا ہوا کے میرے عزیز ،ہمخیال،ساتھی رفیع الدین المعروف رفیق بھائی اس فانی دنیا کو خیر باد کہہ کر اللہ ربِ کائنات کے حضور پیش ہوئے۔ اہل خاندان ابھی بزرگ ہستی کے غم کی چادر میں لپٹے ہوئے تھے کہ رفیق

بھائی نے اپنے خاندان اپنے ساتھیوں،دوست احباب کو آن کی آن میں بحر اندو الم میں چھوڑ دیا۔ مگر یہ سب مشیت یزدی ہے۔ اللہ پاک کے فیصلے کو سوائے قبول کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں۔یقیناً ہر ذی نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے۔لیکن اپنوں کی موت اور بیوقت کی موت ذہن و قلب کو جھنجوڑ دیتی ہے۔ اور پھر مرحوم کی یادیں اور باتیں ایک ایک کرکے ماضی کے جھروکے سے جھانکنے لگتی ہیں۔

رفیق بھائی کے سابق میں اب تو مرحوم لکھنے کو قلم تیار ہی نہیں۔ رفیق بھائی کی دیرینہ رفاقت کی یاد نے دل کو مغموم و چشم تر کر دیا۔ ہمارے ساتھی مولانا عبدالقیوم ندوی صاحب کی ایک پوسٹ فیس بک پر وائرل ہو گئی کہ ” مشہور صحافی رفیع الدین رفیق صاحب شدید علیل ہیں اُن کی صحت کے لئے دعا کریں۔” یقین نہیں ہو رہا تھا کہ ایک بھرا پورا، ثابت قدم اور ہمیشہ ہنسی مذاق کر کے سب کے دیکھ درد کو کافور کرنے والا شخص اچانک اور شدید علیل کیونکر ہو سکتا ہے؟ لگے ہاتھوں مولانا عبدالقیوم ندوی صاحب سے رابطہ کیا اور تفصیلات حاصل کیں۔پھر میں نے بھی اپنے توسط سے وہاٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے رفیق بھائی کی صحت کے لئے دعاؤں کی اپیل کی۔ اس کے بعد اُن کے فرزند سے رابطہ کیا تو اس نے بھی کہا کہ ” پاپا۔کے لئے بس دعا کی ضرورت ہے” پھر میں نے ہی اُن کا فون کٹ کر کے نماز عصر ادا کی۔ رفیق بھائی کی صحت کے لئے دعا کی۔ اور مغرب کے بعد ایک اور فون کرنے کہا ارادہ کیا۔ لیکن کیا؟ مغرب کے بعد تو ہمارے چھوٹے فرزند عطن صہیب کبیر نے فون کیا کہ” رفیق انکل نہیں رہے” اس خبر نے مجھے جامد و ساکت کر دیا۔اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

رفیع الدین المعروف رفیق بھائی اولیاء اللہ کی بستی خلد آباد سے تعلق رکھتے تھے۔گزشتہ 30 برسوں سے صحافت سے منسلک رہے مقامی اور ریاستی اخباروں میں اپنے قلم کا جادو جگایا۔صحافت کا طویل راستہ اُنہوں نے طئے کیا، طرز تحریر منفرد تھا۔زمینی، عوامی مسائل،ناانصافیوں کے خلاف بے لاگ اور بلا خوف و تردّد شائع کیا۔ رفیق بھائی، تاریخی، مذہبی سیاسی و سماجی مسائل کا زمینی جائزہ لے کر تحقیقی مواد پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے، 25 برسوں سے میرے رفیق بھائی سے رابطہ رہا۔ وہ مجھے ہمیشہ ” بڑے بھائی” کہہ کر مخاطب ہوتے۔جب میرے فرزند اکبر محمد شمس تبریز کبیر، انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے اورنگ آباد مقیم رہے تو رفیق بھائی نے اس کو اپنے بھتیجے کی طرح ہی سمبھالا۔کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی۔ یہی نہیں بلکہ ریاست مہاراشٹرا اور بیرونِ ریاست ہزاروں غریب اور ضرورت مند طلباء کو اعلیٰ تعلیم دلوانے میں تا حیات کوشاں رہے اور ان کی سرپرستی کی۔

مرحوم رفیق بھائی ملنسار،دوستوں کا دوست، یاروں کا یار تھے،بات دو ٹوک کہتے، کسی قسم کی بھیدبھاڑ نہ رکھتے۔جب بھی ملتے خندہ پیشانی سے ملتے،نئے صحافیوں کی رہنمائی کرتے،حال ہی میں اُنہوں نے ” سب کی آواز” یوٹیوب چینل شروع کیا جو قلیل عرصے میں ہی مقبول ہوا،
اللہ پاک سے دعاگو ہوں کہ مرحوم رفیق بھائی کو اپنی جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے، لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین

*دعاگو۔,۔۔ محمد مسلم کبیر*
لاتور ضلع اردو میڈیا