تشویشناک خبر:ناندیڑمیں شکیل بن حنیف کے فتنہ سے عام مسلمان گمراہ ٗایک شخص پکڑاگیا

6,264

ناندیڑ:9دسمبر(ورق تازہ نیوز):مسلمانان ناندیڑ بالخصوص معزز علماء کرام کیلئے یہ خبر باعث تشویش ہوگی کہ اب ناندیڑ شہربھی کذاب شکیل بن حنیف کے فتنہ کاشکار ہوچکاہے۔چند مقامی علماء ودیگر افراد نےشکیلیت کی تبلیغ کرنے والے ایک حواری کو پکڑتے ہوئے اس فتنہ کو بے نقاب کیاہے۔ جس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ شکیلیت کی تبلیغ کرنے والےناندیڑ میں سرگرم ہیں جو بھولے بھالے و سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہاہے۔

اس فتنہ کو بے نقاب کرنے میں اہم رول اداکرنے والے جناب مولانا زبیر فلاحی سے جب اس تعلق سے معلومات حاصل کی گئیں تب انہوں نے بتایا کہ ناندیڑ میں آٹورکشا ڈرائیور اظہرنامی شخص گزشتہ دوسال سے شکیلیت کی تبلیغ کررہاتھا۔ اس پر شک ہونے پر گزشتہ ایک ماہ سے اس پر نظررکھے ہوئے تھے۔ بالآخروہ کسی طرح ہاتھ آگیا، اس سے پوچھ گچھ کرنے پر علم ہوا کہ وہ کذاب شکیل بن حنیف کی خانقاہ میں پانچ سال گزارکرآیاہے اورگزشتہ دوسال سے خفیہ طریقہ سے ناندیڑ میں تبلیغ کررہاتھا۔یہ شخص چالیس گاؤں کارہنےو الاہے لیکن اسےتقاضے(شکیلیت کی تبلیغ) کیلئے ناندیڑ بھیجا گیاتھا، اس نے ناندیڑ کے قدوائی نگر علاقہ کی ایک لڑکی سے شادی کی اور پھر آٹورکشا چلاتے ہوئے شکیلیت کی تبلیغ کررہاتھا۔

اس کاحلیہ دیکھ کر کوئی اس پر شک وشبہ بھی نہیں کرپائےگا چہرے پر داڑھی، سرپرٹوپی،جسم پر مولانا قسم کا ڈریس ،اس کی گفتگو وبات چیت کایہ حال ہے کہ لوگ اس سے متاثرہوئےبغیرنہیں رہتے۔ مفتی سلیمان رحمانی، مفتی ابوطالب العمودی،مولاناوسیم حسینی اور مولانا زبیر فلاحی ومقامی دیگر ائمہ کرام نے اس سےتقریباً دو گھنٹے بات چیت کرتےہوئے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔ وہ اپنےدفاع میں من گھڑت وجھوٹی حدیثوں کو حوالہ جات پیش کررہاتھا۔ اس پر علماء نے اسے حدیثوں کے تعلق سے بتلانے کی کوشش کی کہ حدیثوں میں بھی بہت سی کیٹیگری ہوتی ہیں جیسے کہ ضعیف وغیرہ ۔اسے بتایاگیاکہ اس کی جانب سے ابن ماجہ کی جو حدیث پیش کی جارہی ہے وہ ضعیف ہے۔ ان دلائل کوبھی وہ ماننے تیارنہیں تھا ، معزز علماء کرام نے بیہقی ،بخاری ،مسلم شریف،ابوداؤد وغیرہ سے بھی اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ کچھ سمجھنے کیلئے تیارہی نہیں تھا ،آخر میں اس نے کہاکہ آپ لوگ میرے سو ٹکڑے بھی کردیں گے تو میں نہیں مانوں گا۔اس کی اس بات سے اندازالگایاجاسکتا ہے کہ کس طرح سےاسکا برین واش ہوچکاہے۔ اس ملعون کا یہ بھی کہناتھا کہ نعوذ باللہ شکیل بن حنیف ہمارانبی ہے اور ہم نبی کے صحابہ ہیں، ایسی آفتیں، مصیبتیں ،پریشانیاں اللہ کے نبی کے زمانہ میں بھی آئی ہیں توہم پربھی آئیں گی ۔

لاکھ سمجھانے کی کوشش کے باوجود وہ کچھ سننے اورماننے کو تیار نہیں تھا۔ بالآخر علماء کرام ودیگرافراد نے اسے ناندیڑ سے چلے جانے کیلئے کہا۔اطلاعات ہیں کہ یہ فتنہ اظہر اپنی بیوی کے ساتھ حیدرآباد منتقل ہوگیا ہے۔مولانا زبیر فلاحی نے بتایا کہ اظہر کی بیوی کو بھی مستورات کے ذریعہ حقیقت سے واقف کروایاگیا اور راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی ، اس کے باوجود وہ اپنے شوہر کے ساتھ چلی گئی۔مولانا زبیر فلاحی نے بتایا کہ دیگلورناکہ علاقہ کے ۲۰؍خاندان اس فتنہ کا شکار ہوگئے تھے ان سے ملاقات کی گئی اور انہیں سمجھایاگیاانہیں توبہ کروائی گئی اور ان کا تجدید ایمان کرایاگیا۔جناب مولانا زبیر فلاحی نے بتایا کہ ناندیڑ شہر میں اور بھی فتنہ سرگرم ہیں ان میں فکر گوہر شاہی ،لبیر کالونی میں یہ فتنہ زیادہ سرگرم ہے، اسی طرح فتنہ منکرین حدیث ،یہ فتنہ کھڑکپورہ علاقہ میں سرگرم ہے ، اسی طرح اہل قرآن بھی سرگرم ہے۔

ہم ان سے بھی نمٹنے اوران کے تعلق سے عوام میں بیداری لانے کاکام کیاجارہاہے۔ہماری ناواقفی یا بے خبری کی یہ صورت حال تشویش ناک ہےکہ گزشتہ دوسال سے یہ فتنہ ہمارے شہر میں سرگرم تھا لیکن ہمیں اس کی خبر ہی نہیں تھی، ہم مطمئن وبے خبر تھے کہ یہ فتنہ ہمارے شہر میں ہے ہی نہیں۔ نہ جانے گزشتہ دوسالوں میں کتنے لوگوں کو راہِ راست سے ہٹاکر مرتد کردیاگیا۔ یہ توناندیڑ شہر کامعاملہ سامنے آیاہے ناندیڑضلع کے تعلقوں اور دیہاتوں اس فتنے نے کتنے لوگوں کو اپنا شکار بنایاہےاس کاتوہمیں علم ہی نہیں ہے۔ہمارے شہر کے تمام معزز ومحترم علماء کرام سے گزارش ہے کہ وہ مساجد میں جمعہ کے خطبوں میں ان فتنوںکے تعلق سے بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کو ان فتنوںسے چوکنا وآگاہ کریں۔ ساتھ ہی ہر محلہ و علاقہ کے مقامی علماء و نوجوان ومعززین بھی اپنے اپنے علاقوں میں شکیل بن حنیف ودیگر فتنوںسے عوام کو آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ علاقہ پر نظررکھیں ۔