تریپورہ میں قیامت! جلتی مسجدیں، نبیﷺ کی شان میں گستاخیاں اور مسلمان!

7

!از: جرنلسٹ قاری ضیاء الرحمن فاروقی(ڈائریکٹر تحفظ دین میڈیا)

یوں تو مسلمانوں پر ہمارے ملک عزیز میں ہمیشہ سے ظلم ہوتا رہا ہے، اب کوئی ظلم یا زیادتی کی خبر ملتی ہے تو حیرت نہیں ہوتی ،یہ آئے دن ہمارے ملک میں ہوتا رہتاہے، اور ہماری حس اور ہمارے اند ر کی غیرت مر گئی ہے، ہم بس کوئی ایسی خبر سُننے کے بعد افسوس کا اظہار کرتے، زیادہ سے زیادہ احتجاج کی بات کرتے،واہٹس ایپ اسٹیٹس اور پروفائل بدل دیتے اور پھر تھوڑی دیر میں کوئی دوست کے ساتھ نکڑ اور چوراہے پر یا کسی چائے کی ہوٹل میں بیٹھ کر اس پر تبصرے شروع کردیتے، چائے ختم ہمارے تبصرے افسوس سب ختم، ہم گھر آجاتے ہیں۔ہمارا یہی حال ہے،اسکے علاوہ اب ہمارے اندر کوئی انسانیت باقی ہی نہیں رہے۔

میری باتیں کڑوی لگے گی، لیکن میرے عزیزوں سنجیدگی سے سوچو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ آخر ہم کیا کررہے ہیں، کہاں جارہے ہیں، ہمارا کیا حال اور مستقبل ہے، ہمارے بچوں کا آنے والی نسلوں کا کیا ہوگا، اب اور کون سا وقت دیکھنا باقی رہ گیا ہے،غور کرو اور اپنے اندر کے انسان کو جگانے کی کوشش کرواور حالات سے ،ظالموں کو منہ توڑ جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔
این آرسی ،آسام میں مسلمانوں پر ظلم،دہلی فسادات،کسانوں کے ساتھ زیادتی اور اب تازہ واقعہ تریپورہ میں مسلمانوں پر قیامت۔

جی ہاں تریپورا سے ملی اطلاعات کے مطابق اب تک سولہ مساجد شہید ہوئی ہیں وہیں جانی مالی نقصان بھی بہت زیادہ ہوا ہےاور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، ہزاروں لوگ گھر بار اور علاقہ چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوگئے ہیں،جارہے ہیں، ہزاروں کی بھیڑ جلوس کی شکل میں حملے اور آگ زنی کر رہی اور پیارے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا نعرے لگائے جارہے ہیں،نعوذ باللہ گالیاں دی جارہی ہے، تقریباً دس دنوں سے یہ حملے جاری ہیں لیکن ملک کا الیکٹرانک ،پرنٹ میڈیا اور بڑی بڑی تنظیموں جماعتوں کے ذمہ داران پوری طرح سے خاموش ہے، جیسے کہیں کچھ ہوا ہی نہیں ۔

پچھلے چند سالوں سے سیکولر لیڈر مسلم معاملات میں بالکل خاموش رہتے ہیں، انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کی حمایت کریں گے تو ان کا ہندو ووٹ بینک کھسک جائے گا، حالیہ واقعات نے سیکولر ازم کے علم برداروں کی قلعی کھول دی ہے، اس سے قبل بھی جتنے فسادات ہو ئے ان سب میں بھی سیکولر لیڈروں نے سوائے بیان بازی کے کچھ نہیں کیا، یہی وجہ ہے کہ شدت پسندوں کے حوصلے بلند ہوتے گئے، عوام پر شدت پسندوں کی گرفت اس قدر ہوگئی ہے کہ سیکولر لیڈر آسام ہو یا تریپورا یا ملک کے کسی حصے میں کوئی مسلمان ظلم کا شکار ہوجائے یہ سیکولر لیڈر کہیں نظر نہیں آتے، اس کی حمایت میں ایک ٹویٹ تک کرنے کی ہمت نہیں کر پارہے، وہیں اگر مظلوم غیر مسلم ہے تو پھر ان کی فعالیت دیکھتے ہی بنتی ہے، ان کے گھر بھاری امداد کے ساتھ نہ صرف پہنچتے ہیں بلکہ بولتے ہوئے بھی دکھتے ہیں، اور حکومتی امداد کے لئے بھی دباؤ بناتے ہیں، مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بہت اچھا ہے لیکن مظلوم کا مذہب دیکھ کر اگر درد اٹھتا ہے تو پھر انھیں اپنے بنائے ہوئے سیکولر قوانین کو پڑھنے کی ضرورت ہے ۔

ناظرین ایک دو سیاسی لیڈروں کے علاوہ کوئی اپنی زبان کو حرکت دینے سے قاصر ہے، گزشتہ کل ہربار کی طرح مسلمانوں پر ہورہے تریپورہ میں ظلم وتشدد کے خلاف مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور ایم پی بیرسٹر جناب اسدالدین اُویسی نے ایک اجلاس عام میں اس کی سخت مذمت کی اور مسلمانوں ،سیکولر لوگوں اور قائدین کو بیدار کرنے کی بات کی ، اور فرقہ پرستوں کو آئینہ بتایا، لیکن ہماری قوم پر اسکا اثر نہیں ہوتا کیوںکہ ان کی نذر میں اسد اُویسی بی جے پی کی بی ٹیم ہے، بڑی حیرت ہوتی ہے کہ اگر اسد اُویسی بی جے پی کی بی ٹیم میں رہ کر مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف ہورہے ظلم پر اتنی آواز اٹھاتے ہیں تو پھر جو سیکولر ہیں، بڑی بڑی جماعتوں کے ذمہ دار بنے بیٹھے ہیں وہ تو بی جے پی کی بی ٹیم میں نہیں ہے نا، اسکے باوجود کبھی ذرہ سا بھی ہمت اور جرات والا بیان دے نہیں پاتے، اب اس سے کیا سمجھا جائے، بی جے پی کی بی ٹیم میں اُویسی ہے یا آپ؟

ہماری قوم کا یہی المیہ ہے، سیاسی لوگوں پر بیان بازی اور تبصرے کرتے کرتے خود سیاسی بن گئے، نہ کام کے نہ کاج کے، دُشمن اناج کے ایسا حال ہوگیا ہے۔ ہر کوئی خود لیڈر بن گیا ہے، اور وہ بھی چُپ چُپ کا۔

تریپورہ سے جو تصویریں،خبریں آرہی ہے وہ بہت دل دہلادینے والی ،رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے، کلیجہ ہاتھ کو آرہاہے، اور اس سے زیادہ دل دکھانے اور ماتم کرنے والی بات یہ ہے کہ تقریباً 10 دن ہوگئے ہمارے کوئی بڑے لیڈر،قائد اور عالم کا اس تعلق سے کوئی بیان نہیں آیا،ہمارا ایسا حال ہوگیا ہے کہ ہمیں پتہ ہے کہ بڑی تنظیموں کے بڑے ذمہ داران اب بیان دینگے، جمعہ کے بعد احتجاج کا اعلان کرینگے، 10،20 لوگوں کو جمع کرکے میمورنڈم دینگے،اور تصویریں لے کر دوسرے دن اخبارات اور سوشل میڈیا پر ڈالدینگے، بس انکا کام ہوگیا۔اسکے علاوہ اور اس سے زیادہ کی کوئی امید ان سے نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے ہم بس یہی سب دیکھتے اور سُنتے آرہے ہیں، اس سے زیادہ ہم نے کچھ دیکھااور سُنا نہیں۔ اور جب سے ہم جرنلزم کے میدان میں کام کرنے لگے ہیں تو یہ سب باتیں اور بھی واضح طور پر سمجھ میں آنے لگ گئی ، اسلئے ہم کوشش کررہے ہیں کہ اب ہم کسی کو بڑا بنانے اور سمجھ نے کے بجائے خود عملی طور پر میدان میں آئیں، اور ہم سے جو ہوسکتا وہ کریں۔

ایک بات کئی دنوں سے جب مسلمانوں پر ظلم و تشد د ہوتاہے تو دیکھنے اور سُننے کو ملتی تھی کہ اب کوئی صلاح الدین ایوبی نہیں آنے والا،حضرت عمر رض جیسا نہیں آنے والا، لیکن اب ایسا لگ رہاہے کہ اب یہ کہنا پڑیگا کہ مسلمانوں اب کوئی قائد اور بڑا لیڈر رہنما نہیں آنے والا۔

بڑا دل دُکھ تا ہے، بہت افسوس ہوتا ہے، ہمارا المیہ یہ ہےکہ ہم آپس میں ہی الجھے ہوئے ہیں، ہم اختلافی موضوعات پر ہی غیر ضروری بحثوں میں پھنسے ہوئے ہیں، گزشتہ کل مجھے واہٹس ایپ پر ایک گرو پ میں بنا اجازت کے ایڈ کیا گیا ، اتفاق سے میں نے گروپ کھولا کہ اتنے میسجس آرہے ہیں آخر کس چیز کا گروپ ہیں دیکھیں تو سہی، میں کیا دیکھتا ہوں کہ اُس میں مناظرانہ انداز میں اہل حدیث،مقلد غیر مقلد کی باتیں ہورہی ہے، اور میں نے یہ دیکھا کہ سارا دن اس گروپ میں بس یہی چلتا رہتا ہے، مجھے بہت تکلیف ہوئی،بڑا دل دکھا کہ ہمارے ملک کے اور مسلمانوں پر کیسے حالات ہیں ،اور ہماری قوم کن چیزوں میں پڑی ہوئی ہے،اس گروپ میں ہر کوئی علامہ بناہواہے،اور ایسے کئی کئی گروپس سوشل میڈیا پر اسی طرح کی باتوں میں اپنی صلاحیتوں کو ضائع کررہے ہیں آپس میں الجھ کر، علم کے نام پر لوگوں کو اور خود اپنے آپ کو دھوکا دیا جارہاہے، اللہ پاک ان لوگوں کو سمجھ عطاء فرمائے۔ آمین

ہم فرقہ پرستوں کے بجائے اس کوشش میں ہے کہ قوم کے بڑے بیدار ہوجائیں، قوم بیدار ہوجائے، ہمیں اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے آپس میں اتحادواتفاق نہیں ہے، ہم ایک دوسرے کو ایڈجسٹ نہیں کرسکتے۔ میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ ہمارے رشتہ،تعلقات سب مصنوعی ہیں، ہماری تنظیمیں اور اسکے ذمہ داران سب مصنوعی ہیں۔ مانو یہ نہ مانو ۔ یہی حقیقت ہے۔

میں جب بھی پرائم ٹائم کرتا ہوں مجھے فون کال آنے شروع ہوجاتے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ اس پرائم ٹائم کو دیکھنے کے بعد بھی چند لوگوں کے پیٹ میں تکلیف ہوگی، اور میں چاہتا ہوں کہ ایسے لوگوں کے پیٹ میں تکلیف ہو جو قوم کو بیوقوف بناکر اپنی روٹیاں سینک رہے ہیں، یہ چند مٹھی بھر لوگ فون کرکے ہمیں خاموش بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، جو کام کرنے کے ہیں وہ کرنے کے بجائے قوم کے جذبات کے ساتھ کھیل رہے ہیں، خود کچھ کرتے نہیں ہے، اور جو کرتے ہیں ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں،یاد رکھو جو لوگ بھی ایسا کررہے ہیں سوچ رہے ہیں کان کھول کر سُن لو،ہمارے منہ میں تمہاری زبان نہیں ہے، قوم کو اب تک بہت بیوقوف بنادیئے، اب قوم جاگ رہی ہے، اورہمیں یقین ہے کہ قوم مکمل طور پر جاگ جائیگی، بہت ہوگیا۔ سیاست کو کو برا بولتے بولتے خود سب سے بڑے سیاست کرنے بن گئے۔

آج قوم آس لگائے بیٹھی ہے کہ کوئی تو مرد مجاھد ہوگا جو ہمارے خلاف ہورہے ظلم تشد د پر ڈنکے کی چوٹ پر بولیگا۔ اور فرقہ پرستوں سے مقابلہ کرکے ان کو منہ توڑ جواب دیگا۔ دور دور تک سوچ اور نظریں جاتی ہیں اور مایوسی کے ساتھ لوٹ آتی ہیں۔
اسلئے میرے عزیزوں ڈرنے ،گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،اورایسے لوگوں سے جو حکمت اور مصلحت کی باتیں ہی کرتے ہیں ان سے امید اور آس لگائے کے بجائے اللہ سے امید اور آس لگائیں، اور دعائیں کرتے ہوئے اپنی ذات سے فرقہ پرستوں سے مقابلہ کرنے کی کوشش کریں، جس کے ساتھ اللہ ہے اس کو دُنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کرسکتی،نہ ڈرا سکتی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہم خود عملی طور پر کام کریں، آپس کے اختلافات کو چھوڑ کر ایک جٹ ہوجائیں، متحد ہوجائیں، پھر دیکھیں کیسے انقلاب آتا ہے۔ ہماری صفوں میں اتحاد نہیں ہے، ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت ہے، یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہم ایک دوسرے کو ایڈجسٹ کرنا سیکھ جائینگے۔ اور انشاء اللہ اُمید ہے کہ اب یہ کام بہت جلد ہوگا۔
اللہ پاک تمام مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، اور ملک عزیز کو فرقہ پرستوں اور ظالموں سے چھٹکارا نصیب فرمائے۔ آمین