نئی دہلی، 23 نومبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کو تریپورہ حکومت سے کہا کہ وہ مقامی بلدیاتی انتخابات میں منصفانہ اور آزادانہ ووٹنگ اور ووٹوں کی گنتی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی مرکزی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی پر غور کرے۔جسٹس ڈی وائی چندر چوڑکی قیادت والی بنچ نے ترنمول کانگریس کی طرف سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے تریپورہ حکومت سے کہا کہ وہ بلدیاتی انتخابات اور ووٹوں کی گنتی کے لیے حفاظتی انتظامات کے سلسلے میں بینچ کو آگاہ کرے۔سپریم کورٹ نے تریپورہ حکومت کو حکمراں پارٹی کے ایک رکن اسمبلی کی مبینہ اشتعال انگیز تقریرپر اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ترنمول کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ حکمراں پارٹی کے ایک ایم ایل اے نے وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں قابل اعتراض اشتعال انگیز تقریر کی تھی۔ترنمول کانگریس نے تریپورہ میں اپنے کارکنوں کو تشدد سے بچانے اور ریاستی حکومت کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک عرضی دائر کی تھی۔

مغربی بنگال میں حکمراں ترنمول کانگریس نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی جس میں تریپورہ حکومت کے اعلیٰ افسران پر سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہنے کا الزام لگایا گیا تھا۔منگل کو درخواست گزار نے ’خصوصی تذکرہ‘ کے تحت کیس کی جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ تریپورہ میں بلدیاتی انتخابات 25 نومبر کو ہونے والے ہیں۔ الزام ہے کہ اس سلسلے میں تشہیری مہم چلانے والے ترنمول کارکنان کو سیاسی وجوہات کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے۔حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ اتوار کو تریپورہ پولیس نے اداکار اور ترنمول کانگریس لیڈر سیونی گھوش کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ انتخابی مہم چلانے گئے ترنمول کانگریس کے اس لیڈر پر دو طبقوں کے درمیان نفرت پھیلانے، قتل کی کوشش کرنے سمیت متعدد جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔