ترکی کی کرنسی لیرا ڈالر کے مقابلے میں 8 فیصد کم ہوکر 12.49 کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آگئی ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترکی کی غیر روایتی مالیاتی پالیسی کے بارے میں تشویش کی وجہ سے منگل کو لیرا ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر آگیا جب کہ روس کا روبل مستحکم ہوا ہے تاہم یوکرین کے ساتھ جنگ ​​کے خدشات نے اسے چار ماہ کی کم ترین سطح پر رکھا۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان جو طویل عرصے سے اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے تھے، نے پیر کو مالیاتی پالیسی کی کم شرحوں کا دفاع کرتے ہوئے اپنی ’آزادی کی معاشی جنگ‘ میں کامیاب ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ترکی میں پالیسی ریٹ اب 15 فیصد ہے جبکہ افراط زر 20 فیصد ہے۔یہ قیاس آرائیاں کہ اردوغان جلد ہی وزیر خزانہ اور اقتصادیات لطفی ایلوان کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں، خدشات کو مزید بڑھا رہی ہیں۔لیرا اب ڈالر کے مقابلے میں 37 فیصد سے زیادہ نیچے ہے جو کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے دیگر فریقوں سے نمایاں طور پر پیچھے ہے۔

کیپیٹل اکنامکس کے سینیئر ای ایم اکانومسٹ جیسن ٹووی نے کہا کہ ’اس سے پہلے کہ ہم طریقہ کار میں تبدیلی لائیں، ہمیں بینکنگ سیکٹر میں تناؤ کو دیکھنا شروع کرنا ہوگا۔ اب تک بینک اس کا بہت اچھے طریقے سے مقابلہ کررہے ہیں۔‘’جب تک یہ معاملہ باقی ہے، مجھے شبہ ہے کہ مرکزی بینک شرحوں میں اضافہ نہیں کرے گا۔‘انہوں ںے یہ بھی کہا کہ ’لیرا 13 سے بھی نیچے گر سکتا ہے۔‘
امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیروم پاول کو ایک اور مدت کے لیے منتخب کیے جانے کے بعد خدشات میں مزید اضافہ ہوا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرکزی بینک توقع سے زیادہ تیزی سے اپنی پالیسی کو سخت کر سکتا ہے، جس سے ای ایم اثاثوں سے رقوم نکل سکتی ہیں۔بلیک راک نے پیر کو کہا کہ ’ترقی پذیر معیشتوں میں مرکزی بینک ابھرتی ہوئی مارکیٹ کے قرضوں کے لیے معاون ثابت ہوں گے لیکن ایکوئٹیز کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔