ترکی کے سائنسدانوں نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تیار کیا ’برقی ماسک‘

14

کورونا وائرس کے بڑھتے قہر کے درمیان پوری دنیا کے سائنسداں اپنی اپنی طرف سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ اس وائرس کا توڑ نکالا جائے۔ کچھ سائنسداں ٹیم بنا کر ویکسین اور دوا تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو کچھ سائنسداں انفرادی طور پر نئی سوچ کے ساتھ نیا تجربہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اسی کے تحت ترکی کے دو ماہرین نے کورونا سے جنگ کے لیے ایک برقی ماسک تیار کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے صرف کورونا وائرس ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے وائرس بھی تلف ہو جائیں گے۔

اکسارے یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر طارق اور ایمرے ارسلان نے کافی محنت و مشقت کے بعد یہ برقی ماسک تیار کیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ ماسک وائرس، جراثیم اور نئے کورونا وائرس کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ برقی ماسک لگانے کے بعد لوگوں کو صاف اور وائرس سے پاک ہوا ملتی رہتی ہے اور ایک مرتبہ چارج کرنے کے بعد ماسک 12 گھنٹے تک کام کرتا رہتا ہے۔برقی ماسک تیار کرنے سے متعلق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پر انھوں نے لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد کام شروع کیا تھا اور دن رات کی محنت کے بعد اس کا پہلا نمونہ یعنی پروٹوٹائپ تیار ہو سکا ہے۔

ڈاکٹر طارق کا کہنا ہے کہ کورونا وبا شروع ہوتے ہی ترکی میں عوام اور خود ڈاکٹروں کے لیے ماسک کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اسی کو دیکھتے ہوئے انھوں نے خود تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا اور ماسک بنانے کی تیاری شروع کی۔ اس ماسک کے لیے بطورِ خاص الٹرا وائلٹ شعاعوں کا انتظام کیا گیا۔ڈاکٹر طارق کا کہنا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ الٹرا وائلٹ یا بالائے بنفسی شعاعیں کئی طرح کے جراثیم اور وائرس کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن کورونا وائرس سے بچنے کے لیے اسے براہ راست انسانی جلد پر نہیں ڈالا جا سکتا کیونکہ یہ جلد کے لیے خطرناک اور کینسر کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔” انھوں نے مزید بتایا کہ "ماسک کے اندر بالائے بنفشی روشنیاں لگائی گئی ہیں اور اس کے علاوہ چاندی کے اوراق بھی لگائے گئے ہیں کیونکہ جراثیم کو ختم کرنے میں چاندی کی افادیت بھی مسلمہ ہے۔ اس طرح یہ ماسک ایک طرح کا برقی فلٹر بن گیا ہے جو وائرس کو جسم میں داخل ہونے سے قبل ہی مار ڈالتا ہے۔” اس برقی ماسک کے تعلق سے ایمرے ارسلان کا کہنا ہے کہ "دو ماہ کی مسلسل محنت کے بعد یہ ایجاد ممکن ہوئی ہے۔ اس ماسک کو پاور بینک سے بھی چارج کیا جاسکتا ہے۔”