• 425
    Shares

انقرہ: غیر ملکی کرنسی کی مارکیٹ میں پیر کو ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرہ کی قدر میں 17% سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ صورتحال صدر ترکی رجب طیب اردغان کی جانب سے مرکزی بینک کے گورنر کی برطرفی کے فیصلے کے بعد سامنے آئی ہے۔ پیر کی صبح ترک کرنسی کا کاروبار ایک ڈالر کے مقابل 8.47 لیرہ پر ہو رہا تھا۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر یہ قیمت ایک ڈالر کے مقابل 7.22 لیرہ تھی۔ترک صدر نے شہاب قوجی اولو کو مرکزی بینک کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔ شہاب ایک سابق بینکار اور حکمراں جماعت ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ یاد رہیکہ 2019ء کے وسط کے بعد سے یہ تیسرا موقع ہے جب اردغان نے مرکزی بینک کے گورنر کو اچانک برطرف کر دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مرکزی بینک کے نئے گورنر صدر اردغان کی اس رؤیت کے حامی ہیں کہ شرح سود میں اضافے کے نتیجے میں افراط زر میں اضافہ ہو گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں