ترکمانستان کا ’جہنم کے دروازے‘ کو بند کرنے کا فیصلہ

0 17

ترکمانستان کے صدر نے ماہرین کو حکم دیا ہے کہ 50 برس سے ’جہنم کے دروازے‘ نامی گڑھے میں دہکتی آگ کو بجھانے کا راستہ نکالا جائے۔نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ گڑھا 1971 میں سابق سوویت یونین کے گیس ذخائر کی تلاش کے دوران ایک حادثے کی وجہ سے بنا اور اس وقت سے اس گڑھے میں لگنی والی آگ نہیں بجھائی جا سکی۔ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے سنیچر کو سرکاری ٹی وی پر حکام کو ہدایت کی کہ قراکم صحرا کے وسط میں پائے جانے والے گڑھے میں لگی آگ کو بجھایا جائے۔

صدر قربان قلی بردی محمدوف نے کہا کہ ’انسانوں کے ہاتھوں بننے والے اس گڑھے کی وجہ سے ماحول اور اردگرد رہنے والے لوگوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہم قدرتی ذخائر کا نقصان کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہم منافع کما سکتے ہیں اور لوگوں کی زندگیاں بہتر کر سکتے ہیں۔‘انہوں نے ماہرین سے کہا کہ وہ آگ کو بجھانے کا کوئی راستہ ڈھونڈیں۔

1971 سے لگنے والی اس آگ کو بجھانے کی کئی کوششیں کی جا چکی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
اس گڑھے کی چوڑائی 70 میٹر اور گہرائی 20 میٹر ہو چکی ہے اور یہ اب یہ سیاحوں کےلیے ایک پرکشش جگہ بن چکا ہے۔