پرتگال میں ایک شخص کو ہسپتال میں مردہ قرار دیا گیا اور تدفین کردی گئی مگر 18 دن بعد معلوم ہوا کہ وہ تو زندہ ہے۔جی ہاں ایسا واقعی ہوا اور شمالی پرتگال سے تعلق رکھنے والے 92 سالہ ماہلیورس ڈی پائیورس کو 10 جنوری کو ہسپتال انتظامیہ نے مردہ قرار دیا تھا۔

یہ شخص 2 ماہ قبل نظام تنفس کے مسائل کے باعث ہسپتال میں داخل ہوا تھا اور وہاں کورونا وائرس کا بھی شکار ہوگیا۔اس شخص کے گھروالوں کو ہلاکت کی اطلاع 10 جنوری کو ہسپتال کے عملے نے دی تھی جبکہ 2 دن بعد تدفین ہوگئی۔92 سالہ شخص کے بیٹے اوریلینو ویرا نے مقامی انتظامیہ کو بتایا ‘انہوں نے میری بہن کو فون کرکے والد کے انتقال کی خبر دی تھی، میں نے لاش کو دیکھنے کی کوشش کی، مگر اجازت نہیں دی گئی’۔

 

انہوں نے مزید بتایا ‘میں نے لاش دیکھنے کے لیے اصرار کیا تھا، کیونکہ مجھے لگ رہا تھا کہ وہ میرے والد نہیں، مگر انہوں نے اجازت نہیں دی اور میں نے اتفاق کرلیا’۔مگر گزشتہ ہفتے غمزدہ خاندان کو آگاہ کیا گیا کہ ان کے والد کی موت واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ یہ ایک غلطی تھی، وہ اب بھی زندہ ہیں۔جس شخص کی تدفین ہوئی، وہ کسی اور خاندان سے تعلق رکھتا تھا، جن سے بعد میں رابطہ کرکے اس بارے میں آگاہ کیا گیا۔

اوریلینو ویرا نے بتایا کہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ہم سے رابطہ کرکے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور میرے والد اب بھی زندہ ہیں،، انہوں نے اس غلطی پر معذرت بھی کی۔

بعد ازاں اوریلینو ویرا نے اپنے والد کو ہسپتال میں جاکر دیکھا ‘میرے والد زندہ اور ہوش میں تھے، انہوں نے بات بھی کی’۔

اس غلط اطلاع پر ہونے والے صدمے کے باوجود اوریلینو ویرا کا کہنا تھا کہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ کووڈ 19 کی وبا کے باعث طبی عملہ کتنا مصروف ہے۔

انہوں نے کہا ‘میں جانتا ہوں کہ اس وقت ڈاکٹر کتنی محنت سے کام کررہے ہیں، مگر میں امید کرتا ہوں کہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے حوالے سے احتیاط سے کام لیا جائے گا’۔