تبلیغی جماعت کے معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل،عمران خان کی حمایت پر تنقید کی زد میں

728

تاریخ میں ایسا صرف دو بار ہی دیکھنے کو ملا ہے کہ ملک میں تبلیغی جماعت یا اس سے وابستہ کوئی بڑی شخصیت سیاست میں متحرک ہوئی ہے۔مولانا مفتی زین العابدین کی شہرت ایک متوازن، نرم خو اور بیدار مغز عالم دین کی تھی اور ان کا اپنے چاہنے والوں میں بے پناہ احترام تھا۔ وہ تبلیغی جماعت کی شوریٰ کے رکن تھے لیکن اس تعلق کے باوجود اُن کی اپنی شخصیت بھی بہت بھاری بھرکم تھی۔سیاست میں ان کی دلچسپی ایک بحران کے موقع پر دیکھنے میں آئی۔ یہ عین وہی زمانہ تھا جب صدر غلام اسحق خان اور وزیر اعظم محمد نواز شریف کے درمیان محاذ آرائی عروج پر تھی۔بھڑکتی ہوئی اس آگ پر پانی ڈالنے کے لیے کئی شخصیات متحرک ہوئیں، اُن میں ایک مفتی زین العابدین بھی تھے۔مگر اس بار تبلیغی جماعت کے ایک اہم نام پر باقاعدہ جانبداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل گذشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور اس کی وجہ ان کا ایک حالیہ انٹرویو ہے۔

کچھ روز قبل بول ٹی وی کو دیے انٹرویو میں وہ کہتے ہیں کہ ’میں پاکستانی ہوں۔ پاکستان کی شہریت رکھتا ہوں۔ کس طرح ان لوگوں کو خریدا گیا اور کس طرح خرید کے ایک دھوکے کے ساتھ حکومت بنائی گئی۔۔۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کیا یہ اللہ کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ اللہ کے نبی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں؟ کم بختو! چند ٹکوں پر تم نے 22 کروڑ عوام کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔‘سوشل میڈیا پر ان کا یہ کلپ وائرل ہونے کے بعد ان پر شدید تنقید کی گئی اور کئی صارفین نے اسے ’بے بنیاد‘ الزام قرار دیتے ہوئے کہا اس نوعیت کا الزام عائد کرنا ’بہتان تراشی‘ ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل نے بھی اپنی دلیل کے حق میں ایک حدیث شیئر کی کہ جب کوئی تمھارے پاس خبر لے کر آئے تو اسے پھیلانے سے قبل اس کی تصدیق کر لو۔ٹویٹر پر علی حسن نامی ایک صارف کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی عالم دین کے شایان شان نہیں کہ وہ ایک سیاسی بیانیے کو مذہبی رنگ دے کر بیان کرے۔‘عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور اس کے بعد مولانا طارق جمیل نے اعلانیہ اُن کی حمایت کی ہے۔ اس سلسلے میں ان کی رقت آمیز دعائیں بہت شہرت رکھتی ہیں جو انھوں نے رمضان المبارک کی 27ویں شب یا دیگر دینی اہمیت رکھنے والے ایام کے موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں کروائیں۔موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی کابینہ میں شامل وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے مولانا طارق جمیل کے ’سیاسی خیالات‘ کو ’غلط بیانی‘ قرار دیتے ہوئے اُن سے ’احتراماً‘ وضاحت طلب کی ہے۔جب بی بی سی نے طارق جمیل کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے کوئی جواب نہ دیا گیا۔ ان کے قریب ترین معاونین میں سے ایک مولانا احتشام اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مولانا اس معاملے پر فی الحال کوئی کمنٹ نہیں کریں گے۔‘

عمران خان اور مولانا طارق جمیل کے اٹوٹ رشتے کی بنیاد:مولانا طارق جمیل عمران خان کی حمایت کی وجہ سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتے آ رہے ہیں۔ایک بار تو انھیں اس سلسلے میں معذرت بھی کرنا پڑی تھی۔ اس پس منظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ آخر عمران خان کے ساتھ اُن کا ایسا کیا رشتہ ہے جو انھیں ان کی حمایت پر بار بار مجبور کرتا ہے۔اس حمایت کی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، معذرت کرتے ہیں پھر حمایت کرتے ہیں، پھر تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔دو برس قبل 2020 میں شب معراج کے موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں انھوں نے اس طرح دعا کی تھی: ‘یا اللہ! تو نے ہمیں ایک اچھا حکمران دیا ہے، نیک سیرت ہے۔ دیانت دار ہے۔ اس کی مدد فرما۔ اس کی مدد فرما۔ آگے سے پیچھے سے، دائیں سے بائیں سے اس کی مدد فرما۔۔۔‘دعا کے اس انداز پر اُس موقع پر بھی مولانا طارق جمیل کو شدید تنقید برداشت کرنا پڑی تھی لیکن اس بار تنقید کا دائرہ اور اُس کی شدت زیادہ وسیع ہے۔گذشتہ سال ان سے انٹرویو میں بھی میں نے ان سے یہی سوال پوچھا تھا۔ ان کا جواب تھا کہ ’ویسے تو بہت عرصے سے ہماری سلام دعا ہے لیکن بطور وزیر اعظم جب عمران خان نے مجھے بلایا اور کہا کہ مولانا! میں چاہتا ہوں کہ میرے نوجوان اپنے نبی کے ساتھ جڑ جائیں اور ان کی زندگی کو اپنائیں، یہ بات اس سے پہلے مجھے کسی حکمران نے نہیں کہی۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان نے بطور وزیر اعظم پہلی ملاقات میں مجھ سے کہا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں آپ کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجوں اور آپ کے بیان کرواؤں۔۔۔ مستقبل میں عمران خان کامیاب ہوتا ہے یا نہیں وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن میں اس کی سوچ سے بہت متاثر ہوا ہوں۔‘تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ حکمرانوں سے ان کا ربط ضبط کسی فائدے یا مفاد کے لیے نہیں، بلکہ اس کی وجہ کچھ اور ہے۔حکمرانوں کو نصیحت کرنے کی ذمہ داری بھی تو علما پر عائد کی گئی ہے، میں اسی لیے ان سے ملتا ہوں۔ عمران خان سے تعلق خاطر اور ملاقاتوں کے پس پشت بھی میرا مقصد ہمیشہ یہی رہا ہے۔‘

تبلیغی جماعت سے اخراج کی افواہیں:مولانا طارق جمیل کے حالیہ انٹرویو پر بڑے پیمانے پر جو ردعمل سامنے آیا ہے، اس میں کئی باتیں دلچسپ اور توجہ طلب ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک صارف محمد ریاض لکھتے ہیں: ’پتہ نہیں مولانا کو کیا ہو گیا ہے، کیا مجبوری ہے اُن کی، ساری قوم اُن کی عزت کرتی تھی، اس کے بیانات کو سنتی تھی، خواہ مخواہ انھوں نے خود کو متنازع بنا دیا ہے۔‘وسیم اللہ خاموش نے اپنا تبصرہ مسلمان علما کی طرف سے حکمرانوں سے دور رہنے کی روش کو مقبول ترک ڈرامے ارتغرل کے ایک مقبول کردار اور صوفی محی الدین ابن العربی کے تعلق سے کیا ہے: ’کبھی دیکھا نہیں کہ العربی تغرل کے گھر خود حاضری دینے گیا ہو۔‘یہ تبصرہ اس لیے زیادہ معنی خیز ہو جاتا ہے کہ عمران خان اس ڈرامے کو پسند کرتے ہیں اور ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران میں ہی اردو ڈبنگ کر کے اسے پاکستان ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا تھا۔

ایک اور صارف نے سوال کیا: ’ایموشنل دعا کا ٹائم کیا رکھا گیا ہے؟‘ایک اور صارف اکرام اللہ نسیم کا ٹویٹ بہت وائرل ہوا ہے۔ اپنے ٹویٹ میں انھوں نے انکشاف کیا ہے کہ مولانا طارق جمیل کو تبلیغی جماعت کی شوریٰ سے معزول کر دیا گیا ہے۔مولانا طارق جمیل کے تبلیغی جماعت سے اخراج کی باتیں پہلی بار نہیں ہوئیں۔اکرام اللہ نسیم کی ٹویٹ کے انداز تحریر سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اخراج ماضی میں کیا گیا ہو گا اور ویسے بھی تبلیغی جماعت ایک ایسا مذہبی گروہ ہے جو اپنے معاملات ذرائع ابلاغ پر لانا مناسب نہیں سمجھتا۔اس کی طرف سے متنازع معاملات پر کبھی کوئی وضاحت بھی جاری نہیں کی گئی۔مولانا طارق جمیل فاونڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو مولانا احتشام اللہ نے اس نوعیت کی افواہوں کی تردید کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ طارق جمیل ’تبلیغی جماعت کی مرکزی شوریٰ کے رکن کبھی نہیں رہے، اس لیے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ انھیں نکالا جائے۔‘’میں پھر کہتا ہوں کبھی بھی رائے ونڈ کی شوریٰ میں مولانا نہیں رہے۔ رہی بات اُن کے بیان پر پابندی کی تو ابھی چند روز قبل میاں چنوں میں ان کا بیان ہوا تھا۔ رواں ماہ ایبٹ آباد مرکز میں بیان ہوا ہے۔ رائے ونڈ بھی ان کا آنا جانا ہے۔ پہلے مولانا کی مستقل ترتیب تھی، وہ کثرت سے جاتے تھے، اب جب ان کی طبیعت بہتر ہوتی ہے، وہ جاتے ہیں۔‘

فاروق عادل مصنف، کالم نگار